غیر یقینی کا خاتمہ کرنا ہوگا

zaheer-babar-logoسانحہ مستونگ کو بنیاد بناتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ 25 جولائی سے پہلے دہشت گردی کی مذید اور کاروائیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اس ضمن میں تشویش ملک کے مختلف شعبوں میں دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ مثلا سینیٹ اراکین نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور عوام کے تحفظ میں ناکامی پر حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد نظریات کے حامل افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے معاشرے کو نقصان پہنچے گا۔سینیٹ اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں شروع ہوا تو مستونگ حملے کے باعث سینیٹ کی معمول کی تمام کارروائی کو معطل کردیا گیا اور اس افسوس ناک واقعے پر بحث کی گئی جہاں صوبائی اسمبلی کے امیدوار سمیت 145 سے زائد افراد شہید ہوگئے ۔اس میں دوآراءنہیں کہ آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔یقینا اس وقت نگران حکومت ہے مگر یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔
وطن عزیز میں عام انتخابات میں اب زیادہ دن نہیں رہ گے لہذا لازم ہے کہ قیام امن کے لیے متعلقہ حکام اپنی زمہ داری پوری کریں مگر بدقسمتی کے ساتھ ایسا نہیں ہورہا۔
دراصل قیام امن کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد لازم ہے۔ اس ضمن میں محدود مینڈیٹ کے باوکود نگران حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مستونگ سانحہ ایسا نہیں جسے آسانی سے فراموش کردیا جائے ۔ لہذا مستونگ واقعے کی جتنی مذمت کی جائے وہ ناکافی ہے یقینا پورا پاکستان بلوچستان کے محنت کش عوام کے ساتھ مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑا ہے۔
پاکستان میں نظریاتی جنگ جاری ہے جس کے مستقبل قریب میں ختم ہونے کے امکانات نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تصادم سے بھرپور اس نظریے کے متبادل پیش کرنے کے لیے کیا اقدمات اٹھائے گے۔ سیاسی جماعتوں کی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے گربیان میں بھی جھانکیں۔ ماضی کی حکومتوں کو خود احتسابی کرنا ہوگی کہ وہ کہاں تک انتہاپسندی کے اسباب ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ محض زبانی جمع خرچ کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ چند روز میں دو سو سے زائد لوگوں کی شہادتیں بہت کچھ بیان کررہیں۔ سارا ملبہ دشمن پر گرانے سے کام نہیں چلنے والا۔ بھارت ، افغانستان اور امریکہ کے عزائم اپنی جگہ مگر اپنی کوتاہیوں سے بھی صرف نظر نہیں کرنا چاہے۔ درست کہا جاتا ہے کہ جب حکومتی زمہ داری اپنا احتساب نہیں کریں گے تو پھر کوتاہیوں کا ازالہ کیونکر ہوسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی ومذہبی جماعتیں دہشت گردی کے حقیقی خاتمہ کے لیے ایسی سنجیدگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن سمیت ان کی ہم خیال جماعتوں کا ماننا ہے کہ کالعدم گروہوں سے نمٹنا صرف اور صرف فوج کا کام ہے۔ نہیں بھولنا چاہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور جنگ میں کامیابی حاصل کرنا محض افواج کی زمہ داری نہیں۔ اس قول کو گہرائی میں جاکر سمجھناہوگا کہ جنگ فوج نہیں قوم لڑا کرتی ہے۔ بدقسمتی کے ساتھ اہل اقتدار کے کسی بھی اقدام سے یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔
ایک اور معاملہ یہ ہے کہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت انتہاپسندی کے حوالے سے متضاد خیالات رکھتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں اچھے اور برے طالبان ہیںلہذا کالعدم تنظمیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بعض نام نہاد دانشور ایسے بھی ہیں جو یہ اعلانیہ یہ دہائی دے رہے کہ دہشت گردی کے تازہ واقعات عام انتخابات کو ملتوی کرنے کی سازش ہے آسان الفاظ میں یوں کہ بعض اہم سرکاری شخصیات کشت وخون کو بنیاد بنا کر الیکشن کے بروقت انعقاد سے فرا راختیار کررہی ہیں۔
یقینا ہمیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ دشمن ہم پر تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فارلولے کا اطلاق کرچکا ۔ ایسے میں لازم ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھٰیں۔ حیرت ہے کہ ہم کیوں بھول رہے کہ اب تک دہشت گردی کے ان گنت واقعات میں پاک فوج سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے قربانی دی۔ اربوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا۔ خبیر تا کراچی ہمارے معصوم اور نہتے پاکستان قتل ہوتے رہے۔ بطور قوم سمجھ لینا چاہے کہ جب تک ہم اپنی صفوں میں اتفاق واتحاد کو فروغ نہیں دیں گے اس وقت تک مکمل طور پر دشمن پر قابو پانا ممکن نہیں۔
چنانچہ عام انتخابات کے انعقاد کی راہ میں تمام مشکلات کا خاتمہ کرنے میں ہی عافیت ہے۔ سیاسی غیر یقینی مسائل کم کرنے کی بجائے انھیں بڑھا سکتی ہے چنانچہ جس قدر مشکلات آئیں 25جولائی کو الیکشن کا انعقاد ضرور ہونا چاہے۔ اس ضمن میں قومی میڈیا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ الیکڑانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے کرتا دھرتا افراد جان لیں کہ اگر یہ ملک ہے تو ہمارے عہدے اور مراعات ہیں۔تاریخ کے اس موڈ پر ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے ممکن حد تک گریز کرنا ہوگا جو ارض وطن میں رہنے والوں کی مشکلات کم کرنے کی بجائے مذید بڑھا دے۔

کہا کہ 213 افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور بعض لاشوں کی شناخت بھی نہیں ہوئی، اطلاع دی گئی ہے کہ چار خودکش حملہ آور خضدار اور قلات میں داخل ہو چکے ہیں، اگر خودکش حملہ آور کے داخل ہونے کا علم ہے تو انھین پکڑا کیوں نہیں جاتا۔

Scroll To Top