خان کے لئے مولانا کی دعائیں ! 6-8-2013

kal-ki-baat
ہمارے کچھ اینکرپرسنز کو اس بات پر شدید رنج ہے کہ عمران خان پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد نہیں ہوئی اور چیف جسٹس نے انہیں نوٹس کا جواب دینے کے لئے 28اگست2013ءتک کی مہلت دے دی ہے۔ میرا اشارہ اس ضمن میں صرف ابصار عالم کی طرف نہیں۔ اور بھی چند تجزیہ کار اور ” آواز کے دھنی “ موجود ہیں جنہیںعمران خان ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا جب یہ لوگ عمران خان کے دعوﺅں اور ان کی پارٹی کے امکانات کو سنجیدگی کے ساتھ لینے کے لئے تیار ہی نہیں تھے ۔مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک بڑے اینکر پرسن کے ساتھ عمران خان کے مستقبل کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا تھا تو موصوف نے بڑے تمسخرانہ لب و لہجے میں کہا تھا۔
” عمران خان کی سیاست میں پختگی کبھی نہیں آئے گی۔ وہ اس میدان میں کبھی آگے نہیں بڑھیں گے۔ وہ خود اکیلے بھی پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں تو بہت بڑی بات ہوگی۔ سیاست اور کرکٹ میں بہت بڑا فرق ہے۔“
30اکتوبر2011ءکے جلسہءلاہور کے بعد میں نے موصوف کو پیغام بھیجا تھا۔
” اب آپ کا کیا خیال ہے ؟“
جواب ملا تھا۔ ” ایک اچھا جلسہ کر لینے سے کسی کا قد کاٹھ بڑا نہیں ہوجاتا۔“
آج جب عمران خان کی پارٹی اسّی لاکھ ووٹ لینے کے بعد ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت قرار پا چکی ہے اور ایک اہم صوبے کی حکومت اس کے پاس ہے تو موصوف نے یہ بات تو تسلیم کرلی ہے کہ عمران خان ایک بڑے قد کاٹھ کے لیڈر بن چکے ہیں لیکن ان کی سیاسی بصیرت کے بارے میں شکوک و شہبات اب بھی بڑے ” فیاضانہ “ انداز میں کرتے ہیں۔
میں ان کا شمار ایسے تجزیہ کاروں اور دانشوروں میں نہیں کرنا چاہتا عمران خان کے خلاف زہر اگلنے کا جنہیں معقول ” صلہ “ ملتا ہے۔میں تو جناب ابصار عالم کو بھی اس فہرست میں نہیں دیکھنا چاہتا حالانکہ موصوف آج کل اس خواہش کا اظہار بڑی باقاعدگی اور شد ت کے ساتھ کررہے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب کو اب عمران خان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتنی چاہئے۔
جہاں تک مولانا فضل الرحمان کا تعلق ہے ا ن کی کوئی دعا ایسی نہیں ہوتی ہوگی جس میں وہ بار بار عمران خان کو بلندی سے گرتے دیکھنا نہیں چاہتے ہوں گے !
ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بھی بندے کی تقدیر لکھتے وقت کسی دوسرے بندے کی خواہشات کو مدنظر نہیں رکھتا!

Scroll To Top