ان سرداروں کے شاہی خوابوں کے راستے میں پاکستان حائل ہے ` ان ناسوروں کوکاٹ کرپھینک دینا چاہئے 26-11-2009

1998ءکی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی 65لاکھ تھی۔ اگربلوچستان کی موجودہ آبادی کا تخمینہ 80لاکھ لگایا جائے تو پھر ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ اس آبادی میں کتنے پختون اور کتنے بلوچ ہیں۔اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بلوچستان میں صرف بلوچ اور پختون بستے ہیں۔ وہاں بروہی بھی ہوں گے ` پنجابی بھی ہوں گے اور دوسری زبانیں بولنے والے بھی ہوں گے۔ اگر وہ ” قوم پرست“ جو غیر ملکی سرمائے اور حمایت کے زور پر برس ہا برس سے بلوچستان کو پاکستان کے ” نو آبادیاتی تسلط “ سے آزاد کرانے کا خوا ب دیکھ رہے ہیں ` دس لاکھ لوگوں کی حمایت بھی رکھتے ہیں تو بھی انہیں سترہ کروڑ عوام کے مقدر کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ نام نہاد قوم پرستوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں اور ایسے لوگوں کا شمار مزید چند ہزار میں ہی کیا جاسکتا ہے جو ” پاکستان “ سے رشتہ توڑنے کی بات کرتے ہیں۔ یہ تمام لوگ ان سرداروں کے کارندے یا پروردہ ہیں جنہوں نے پاکستان سے دشمنی رکھنے والی طاقتوں سے اپنے ضمیروں کے سودے کررکھے ہیں اور جو اپنے آپ کو یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ سرزمین بلوچستان اور اس کے وسائل اسی طرح ان کی ملکیت ہیں جس طرح عرب امارات اور سرزمین حجاز وہاں کے شاہی خاندانوں کی ملکیت ہیں۔ خواب دیکھنے میں کوئی ہرج نہیں۔ مگر ان سرداروں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے خوابوں کے راستے میں اسلام اور اسلام کی بنیاد پر قائم ہونے والی مملکت خداداد پاکستان حائل ہے۔
جب جسم میں کوئی عضو کسی ایسے ناسور کی صورت اختیار کرجائے جو ناقابل علاج ہوتو اس عضو کو کاٹ کر پھینک دینا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ یہ سارے سردار اور سردار زادے اسی طرح کے ناسور ہیں۔
جہاں تک ” محرومیت “ کا معاملہ ہے ` پو را پاکستان ایک ہی نوعیت کے ظالمانہ معاشی اور معاشرتی نظام کے شکنجے میںجکڑا ہوا ہے۔ پورے پاکستان کے وسائل پر ایک ہی طبقے کا قبضہ ہے۔ اور یہ وہ طبقہ ہے جس کے تحفظ کے لئے ” این آر او“ جیسے قوانین بنتے ہیں۔
” محرومیت “ کے خلاف جنگ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔ اور یہ جنگ نظام کی تبدیلی کے بغیر نہیں جیتی جاسکے گی۔
پاکستان کا ہر مسلمان شہری خواہ وہ بلوچ ہو پختون ہو ` پنجابی ہو ` سندھی ہو یا مہاجر ہو دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جو دائرہ اسلام میں نہیں آتے وہ پاکستان کے معزز شہری نہیں۔آدمیت کے رشتے سے ہم سب ایک ہیں۔ محرومیت بھی سب کی یکساں ہے۔ اور اس محرومیت کو پروان اس طبقے نے چڑھایا ہے جو وسائل پر قابض ہے۔یہ حکمران طبقہ پاکستان کو جاگیروں اور صوبے داریوں میں تقسیم رکھ کر اپنے اقتدار کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔
اسلام کا ظہور اسی طبقے کے خلاف طبل جنگ بجانے کے لئے ہوا تھا۔
اور پاکستان کا مستقبل اسلام میں ہے۔
محرومیت سے نجات کا راستہ بھی اسلام ہی ہے۔

Scroll To Top