جہاں تکبّر اور شرک ہوگا وہاں خدا کی رحمت نہیں آئے گی

aaj-ki-baat-new

اپنی آج کی بات کا آغاز میں آنحضرت کے اس ارشاد سے کرنا چاہتا ہوں کہ ” وہ شخص جہنمی ہے جس نے میرے ساتھ کوئی ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی۔“
یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ اپنی بات میں وزن پیدا کرناچاہتا ہے تو اسے کسی بڑے ہستی کے ساتھ منسوب کردیتا ہے۔
تاریخِ اسلام کے زیادہ بڑے فتنے اور فساد اسی افسوسناک روش کی وجہ سے پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔
آنحضرت کا فرمایا ہوا ایک ایک لفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہوناچاہئے مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی ایسی باتیں منسوب کردی گئی ہیں جو براہِ راست ان فرمودات ِ خداوندی کی نفی کرتی ہیں جو قرآن حکیم میں دیئے گئے ہیں۔ خدا کو دو باتیں سخت ناپسند ہیں ۔ ایک تو شرک جس کا ارتکاب ہم نادانستہ طور پر اکثر کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسرا تکبّر۔۔۔ جس کی پاداش میں ابلیس کو جہنمی بننا پڑا۔ کون نہیں جانتا کہ ابلیس نے سب سے زیادہ عبادت کرنے کا تکبّر کیا تھا۔
اگر آدمی تکبّراور شرک سے نجات پالے تو وہ حقیقی معنوں میں اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ میری حقیر رائے میں ” دین “ کو سمجھنے کے لئے واحد مستند راستہ قرآن ہے۔ اور آج کے دور میں قرآن تک رسائی کے لئے عربی دان ہونا ضروری نہیں ۔ ویسے میں سمجھتا ہوں کہ عربی کی تعلیم ہر مسلمان کو لازمی طور پر حاصل کرنی چاہئے تاکہ اس کا شعور براہِ راست اس زبان سے انسپائر ہوسکے جس کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغام کے لئے کیا۔
قرآن کے ایک ایک لفظ پر ایمان رکھنا ایک سچے مسلمان کی پہچان ہے۔ جہاں تک آنحضرت کی ذات کا تعلق ہے آپ مجسّم قرآن تھے۔ اور قرآن ہم تک پہنچا بھی آپ کی ذات سے ہے۔میں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ جو شخص شرک سے بچے ` خدا سے ڈرے اور آپ سے عشق کرے وہی سچا مسلمان ہے۔ شرک کا حملہ ہم پر بہت سارے راستوں سے ہوتا ہے۔ ہم اکثر اپنے ایمان کی کمزوری کی بنا پر اپنی دعاﺅں کا رخ قادرِ مطلق سے موڑ کر غیر اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔ یہاں میں آنحضرت کی ایک اور حدیث کاذکر کروں گا۔
آپ نے ایک صحابی کے سوالوں کے جواب میں فرمایا۔
” صرف ایک شخص کو میں یقینی جنت کی بشارت دے سکتا ہوں جو ساری زندگی رب العزت کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکا ہو۔“
اسلام کا مطلب ہی خدا کے سامنے جھکنا ہے۔

Scroll To Top