تین نہیں پورے پانچ

آپ تھری مسکیٹیرزاور تھری سٹوجز کے عنوانات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ تین کے ہندسے کو ایسے معاملات میں بڑی خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر میاں صاحب نے تعداد بڑھا کر پانچ کردی ہوئی ہے۔ اور آپ میاں صاحب کے اِن پانچ جیسٹرز (Jesters)کو اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ پھربھی میں اِن کے نام یہاں درج کردیتا ہوں۔۔۔
سرفہرست کون ہے ؟ یہ میں اکیلا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ اِس لئے جوجو نام ذہن میں آتے چلے جارہے ہیں لکھتا جاﺅں گا۔ عابد شیر علی ` طلال چوہدری ` زبیر عمر ` دانیال عزیز ` رانا ثناءاللہ ۔۔۔
اِن میں عابد شیرعلی اور رانا ثناءاللہ چونکہ وزارت کا قلمدان رکھتے ہیں اِس لئے اکثر اکیلے ہی کیمروں کے سامنے آتے ہیں اور پھلجھڑیاں چھوڑتے ہیں۔ اِن کی خصوصیت یہ ہے کہ دبے دبے لفظوں میں عمران خان اینڈ کمپنی کی ہڈی پسلی ایک کرنے ` ٹانگیں توڑنے اور نشانِ عبرت بنا ڈالنے کے عزم کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ تب ہوتاہے جب ان کے ترکش الفاظ کے تیروں سے خالی ہوجاتے ہیں۔۔۔
باقی تین اصحاب سیدھے سادے جیسٹرزیا سٹوجز ہیں۔۔۔ آپ جیسٹرز (Jesters)کے معنی لغت میں خود تلاش کرلیں۔۔۔ سٹوجز (Stooges)کا مطلب بھی لغت میں موجود ہوگا۔ آپ کو ” تھری سٹوجز “ کی بے شمار فلمیں بھی یاد آجائیں گی۔ انہیں ہنسنے میں تو نہیں ہنسانے میں کمال حاصل تھا۔۔۔
طلال چوہدری ` زبیر عمر اور دانیال عزیز بھی کسی لحاظ سے کم نہیں۔طلال چوہدری کا انداز ارسطو جیساہوتا ہے اور جب وہ بولتے ہیںتو انہیں یقین ہوتا ہے کہ پورا پاکستان سارے کام چھوڑ کر ہمہ تن گوش ہوجاتا ہے۔۔۔ دانیا ل عزیز کورونمائی جب بھی ہوتی ہے تو فوراً اُس گول مٹول ننھے میاں کا خیال آتا ہے جس کے ہاتھ سے اس کا پسندیدہ کھلونا چھین لیا گیا ہو۔۔۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہنوز دانیال عزیز کو وزارت ملی ہی نہیں۔۔۔
جہاں تک زبیر عمر کا تعلق ہے وہ پانچویں جماعت کے اچھے طالب علم کی طرح پورا سبق یاد کرکے آتے ہیں اور بغیر سانس لئے قوم کو سنا دیتے ہیں۔ اِس کالم کی ”وجہ ءتحریر“ زبیر عمر ہی بنے ہیں۔۔۔ مجھے سے کسی نے پوچھا کہ کیا یہ واقعی اسدعمر کے بھائی ہیں۔۔۔
” سناتو یہی ہے۔“ میں نے جواب دیا۔ ” مگر یقین نہیں آتا۔۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اسد عمر کا بھائی اس قدر ثابت قدم ” دشمنِ دلیل “ ہوگا۔ میں یہاں اخلاقیات کی بات نہیں کروں گا۔ ” دماغی کجی“ یا ” دماغی دیانت“ کی بات کروں گا۔۔۔
زبیرعمر کو کسی نے نہیں بتایا کہ یہ سارا معاملہ سارا کھیل کرپشن کا ہے۔۔۔ اس ” کرپشن“ کا جو ہمارے حکمران کرتے ہیں۔۔۔ جب عمران خان ہمارے حکمران بنیں گے تو انشاءاللہ اُن سے بھی اُن کی کرپشن کا حساب کتاب لیں گے۔ (اگرانہوں نے بھی زرداری صاحب اور میاں صاحب کے نقوشِ پا پر چلنے کا چلن اپنایا)
زبیر عمر کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہنوز عمران خان نے کسی بھی کاغذ پر وہ دستخط نہیں کئے جو حکمران کیا کرتے ہیں۔۔۔ اگرچہ کے پی کے کی حکومت 2013ءسے پی ٹی آئی کے پاس ہے ` لیکن عمران خان کے پاس وہاں کوئی عہدہ نہیں۔۔۔ زیادہ سے زیادہ وہ سفارش کرسکتے ہیں۔ جہاں تک میاں صاحب کا تعلق ہے وہ تو اپنی نوخیز نواسی تک کو اقوام متحدہ کے عمائدین کے اجلاس میں بٹھوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top