سانحہ مستونگ ناقابل فراموش

zaheer-babar-logo

مستونگ میں ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کا دکھ بدستور تازہ ہے۔ دہشت گردی کی ایک ہی کاروائی میں ایک سو تیس سے زائد لوگوںکا شہید ہوجانا کسی طور پر قومی سانحے سے کم نہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سانحہ مستونگ کا دکھ زیادہ نمایاں ہورہا۔ نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائر ناصر الملک، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سمیت مختلف رہنماں نے مستونگ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی کے اہل خانہ سے ملاقات اور تعزیت کی۔
ادھر قومی سطح پر ایک بار پھر یہ سوال زیر غور ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے باوجود ناکامیوں کی وجوہات کیا ہیں۔ کون سے عوامل ہیں جو کالعدم جماعتوں کا نیٹ ورک تاحال توڈنے میں ناکامی کا باعث بن رہے ہیں۔
عین عام انتخابات کے موقعہ پر جس طرح دہشت گردی کے واقعات اچانک شدت اختیار کرگے اس سے ہر پاکستانی کا تشویش میں متبلا ہونا قدرتی عمل ہے۔ حکام کو اس بات کا سراغ لگانا ہوگا کہ آخر کس طرح چند ہی دنوں میں ڈیڑھ سو سے زائد پاکستانی جام شہادت نوش کرگے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔یقینا اس رائے کی صداقت کو مسترد نہیںکیا جاسکتا کہ بعض علاقائی اور عالمی طاقتیں پاکستان میں سیاسی استحکام دیکھنے کی خواہش مند نہیں۔ ان کی ممکن حد تک کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح سیاسی عمل آگے نہ بڑھنے پائے۔ یعنی عام پاکستانی میں مایوسی پھیلا کر ملک دشمن قوتیں غیر یقینی پیداکرنے کے درپے ہیں جس کا نتیجہ ملک وملت کے لیے کسی طور پر خوش آئند نہیں۔
وطن عزیز کا ایک اہم مسلہ یہ بھی ہے کہ یہاں قومی اداروں کے خلاف ابہام پیدا کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک کے اندر اور باہر بعض دوست نما دشمن ایسے بھی ہیں جو یہ تاثر دینے میںمصروف ہیں کہ یہ قتل عام ایک منصوبہ کے تحت کیا جارہا۔ پاکستان کا دشمن تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فارمولہ پر عمل کررہا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا کہ باہمی بداعتمادی کی فضا کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں بہرکیف موجود ہے۔ اپنے ہی قومی اداروں کے خلاف مورچہ زن ہوکر انھیں بدنام کرنے والے کسی طور پر نظر انداز کرنے کے قابل نہیں چنانچہ ہونا تو یہ چاہے کہ قومی سطح پر اتفاق واتحاد کی ایسی فضا کو فروغ دیا جائے جس میں ہمارا دشمن ہرگز کامیاب نہ ہو ۔
پاکستان کا محل وقوع اس اعتبار سے ہمارے لیے آزمائش بن چکا ۔ یعنی ہم اس سے فائدہ اٹھانے میں مسلسل ناکام ہورہے۔ اب ہمارے ارباب اختیار کو جان لینا چاہے کہ آنے والے سالوں میں بھی ہمارا دشمن ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیگا۔
یقینا حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے پیچھے ملک دشمن عناصر ہیں اور اس دہشت گردی کا مقصد انتخابات کو متاثر کرنا اور لوگوں میں خوف پھیلانا ہے۔ ملک دشمن عناصر کا مقصدیہ ہے کہ وہ دہشت گردی پھیلائیں اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائیں اور اسی لیے یہ سب کیا جارہا۔ سراج رئیسانی محب وطن پاکستانی تھے اور شاید اسی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔اب سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کو روکنا دہشت گردوں کی کامیابی ہوگی۔
مستونگ میں ہونے والے خونریز حملے کو 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہوئے حملے کے بعد خوف ناک ترین حملہ قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مستونگ بم دھماکے سے کچھ گھنٹے قبل ہی خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سابق وفاقی وزیر اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی کے قافلے کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد شہید اور 13 زخمی ہوگئے تھے تاہم سابق وزیر محفوظ رہے تھے۔اس سے قبل 10 جولائی کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ 78 کے امیدوار اور بشیر بلور کے صاحبزادے ہارون بلور سمیت 20 افراد جاں بحق اور 48 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔
عام انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گے چنانچہ خبیر تا کراچی سب ہی سیاسی پارٹیوں کے امیدواروںنے اپنی انتخابی مہم چلانی ہے۔حالیہ واقعات کے بعد یہ یقین کرنا مشکل ہوچکا کہ 25جولائی سے پہلے یا انتخابات کے دن کسی بھی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیںہوگا۔ چند دنوں میں دہشت گردوں نے جس طرح خوف وہراس کی فضا پیدا کردی ہے اس کے بعد یہ امید کرنا مشکل ہوچکا کہ اب حالات نارمل رہیں گے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہاپسندگروہوں سے سختی سے پیش آنا ہوگا۔ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ بم دھماکے اور خودکش حملوں کا نشانہ نہتے شہری بن رہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنی موجودگی ثابت کرنا ہوگی ۔ ممکن حد تک کوشش کی جائے کہ امیدوار پوری احتیاط سے کام لیں ۔ جلسے جلوس ہوںیا کارنر مٹینگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اعتماد میں لینا لازم ہے۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ اہل پاکستان کو ایسے دشمن کا سامنا ہے جو بے چہرہ ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے اس کے وار ناکام بنانے کے لیے پوری تیاری کی جائے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ خود کو بہتر بنانے کا عمل جاری رکھیں، خود احتسابی کے زریعہ ہی کارکردگی کو غلطیوں سے پاک رکھاجاسکتا ہے۔

Scroll To Top