اس واقعے کو میں نہیں بھول سکتا۔۔۔! 27-07-2013

kal-ki-baat

خدا کے ساتھ تجارت بھی نہیں کرنی چاہئے اور اس سے انصاف بھی نہیں مانگنا چاہئے۔ انسان خطاءکا پتلا ہے۔ اس کی پوری زندگی اپنے اندر موجود شیطان کے لگاتار اور تابڑ توڑ حملوں سے نبردآزما ہوتے گزرتی ہے۔ اس جنگ میں شیطان کا سب سے موثر ہتھیار” دلیل“ کا ہتھیار ہوتا ہے۔ اس ہتھیار کے ذریعے وہ روزِ اول سے روزِ آخر تک انسان کو ایک ” اَن دیکھے “ معبود پر یقینِ محکم رکھنے سے روکتا ہے۔ شیطان کے ان حملوں کو ناکام بنائے رکھنے کے لئے انسان کو لمحہ بہ لمحہ خدا کی رحمت اور مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کو یہ رحمت اور یہ مدد لازمی طور پر ملتی رہتی ہے ۔غیب اور اَن دیکھے خدا پر جن کا ایمان کامل ہوتا ہے اور کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا۔
میں اس بات کے حق میں اپنی زندگی کا ایک ایسا تجربہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں جس سے میں گزرا نہ ہوتا تو شاید خدا کے وجود پر میرا یقین اس قدر اندھا اور بے لچک نہ ہوتا جس قدر ہے۔ ا س تجربے کا تعلق کرکٹ کے کھیل کے ساتھ میری شدید انسیت اور مجنونانہ دلچسپی ہے۔ اس انسیت اور دلچسپی کا آغاز بھارت کے خلاف لکھنو ٹیسٹ میں پاکستان کی شاندار کامیابی سے ہوا۔ اور پھر اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ پر پاکستان کی تاریخی فتح سے اس انسیت اور دلچسپی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ ابتداءمیں اس دلچسپی کے پیچھے صرف جذبہ ءحُب الوطنی تھا لیکن پھر بطور ایک کھیل بھی کرکٹ میری زندگی کا ایک جُز بن گیا۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں کرکٹ کھیلی جارہی ہو اور مقابلے میں کوئی بھی ممالک ہوں ’ میں لاتعلق نہیں رہ سکتا تھا۔
اسی زمانے میں انگلینڈ میں ایک تاریخی سیریز کھیلی گئی جس میں ایک طرف خود انگلینڈ کی ٹیم تھی ‘ پیٹرمے ’ کالن کاﺅڈرے ’ بل ایڈرچ ’ گاڈفرے ایونز ’ فریڈی ٹرومین ’ ٹونی لاک اور جم لیکر جس کے طاقتور ستون تھے ‘ اور دوسری طرف ویسٹ انڈیز کی وہ ٹیم تھی جس میں تین ڈبلیوز یعنی والکاٹ ووریل اور ویکس کے ساتھ ساتھ گیری سوبرز ’ کونریڈ ہنٹ ’ بیسل بُچر ¾ روہن کنہائی ’ ویلزلی ہال اور گلکرسٹ جیسے عظیم کھلاڑی تھے۔
اس زمانے میں ریڈیو کمنٹری کے ذریعے کرکٹ کے میدان تک رسائی ہوا کرتی تھی ۔ میں شارٹ ویو پر براہ راست بی بی سی سے کمنٹری سننے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ کبھی یہ کمنٹری سنائی دیا کرتی تھی ‘ اور کبھی نہیں۔ میچ کے آخری نصف گھنٹے کی کمنٹری البتہ ریڈیو کولمبو بھی سنایا کرتا تھا جو بڑی صاف ہوا کرتی تھی۔
جس دوپہر کا یہ واقعہ ہے وہ بڑی گرم دوپہر تھی۔ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ کا دوسرا دن تھا۔ ویسٹ انڈیز نے اننگز کا آغاز 170 )دو کھلاڑی آﺅٹ(سے کرنا تھا۔ کریز پر سوبرز اور کنہائی تھے۔ ویسٹ انڈیز کی پوزیشن بڑی مضبوط تھی ۔ دوسرے دن کے آغازپر کچھ دیر تک کمنٹری صاف سنائی دیتی رہی مگر 201رنز دو کھلاڑی آﺅٹ پر رابطہ ٹوٹ گیا ۔ اس زمانے میں نیا بال 90اووز کے بعد نہیں 200رنز کے بعد لیا جاتا تھا۔ فریڈی ٹرومین نے نیا بال لے لیا تھا۔ اور جس وقت رابطہ ٹوٹا وہ پہلا اوور کررہے تھے۔ اور ان کی گیند پر سوبرز کا کیچ اُچھلا تھا۔ میں نے پوری کوشش کی کہ متعلقہ فری کوئنسی پر ریڈیو ٹیون ہوجائے لیکن ناکام رہا۔ اس وقت کمنٹری سننے اور میچ کی پیش رفت جاننے کے لئے میرا اشتیاق اس قدر بے پناہ تھا کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ شدید مایوسی میں مجھے نیند آگئی لیکن پھریوں لگا کہ کرسٹفر مارٹن جینکز کی آواز میرے کانوں سے ٹکرا رہی ہے۔ میں کمنٹری سن رہا ہوں۔ لارڈز کے میدان میں فریڈی ٹرومین کی تیز گیندوں پر وکٹیں دھڑا دھڑ گر رہی تھیں جب ٹرومین نے اپنی آٹھویں وکٹ لی تو میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔ سرکو جھٹکا دے کر گھڑی پر نظر ڈالی ۔ پانچ بج چکے تھے یہ وہ وقت تھا جب ریڈیو کولمبو سے کمنٹری شروع ہوجایا کرتی تھی۔ میں نے ریڈیو آن کیا۔ ٹیوننگ کی۔ کمنٹری ہورہی تھی۔ میں کرسٹفر مارٹن جینکز کی آواز سن رہا تھا۔ فریڈی ٹرومین واقعی آٹھ وکٹیں لے چکے تھے اور ویسٹ انڈیز کا سکور231رنز تھا اور اس کا آخری جوڑا کریز پر تھا۔
میری سمجھ میں نہ آیا کہ یہ سب کیا ہوا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں ایسی کتابیں پڑھ رہا تھا جو خدا کے وجود کے بارے میں طر ح طرح کے سوالات اٹھایا کرتی تھیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں ذرا سا بھی باک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ سوالات میرے ذہن میں بھی اٹھنے لگے تھے۔
وہ طوفان مجھے آج بھی یاد ہے جو ایک دم شدت کے ساتھ میرے ذہن میں اٹھا تھا۔
میںریڈیو بند کرکے وضو کرنے کے لئے بھاگا تھا۔ وہ پہلی نماز تھی جو میں نے ایمانِ محکم کے ساتھ پڑھی تھی۔ اور میرے پورے وجود نے گڑگڑا کر اپنے رب سے ” شک “ اور ” بے یقینی “ کے گناہ پر معافی مانگی تھی۔
میں کس قدر خوش قسمت ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت بھرے لمحے میں میری پوری زندگی کو دلیل کی محتاجی اور شک کے عذاب سے آزاد کرادیا۔
اس ناقابلِ فہم واقعے کو 58برس گزر چکے ہیں لیکن میں نے اسے اپنے ذہن میں اس طرح محفوظ رکھا ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔۔۔

Scroll To Top