غلام اکبر ٹویٹر پر!

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔۔۔ اور سوشل میڈیا میں ” ٹوئیٹر“ نے ” فیس بک“ کے ساتھ ساتھ مرکزی حیثیت اختیار کرلی ہے۔۔۔ بڑے بڑے لیڈر اپنی سوچ اور اپنے فیصلوں کو عوام۔۔۔ بلکہ دُنیا تک پہنچانے کے لئے ” ٹوئیٹر‘ ‘ کا استعمال کررہے ہیں۔۔۔ اس کالم کے ذریعے ہفتہ میں دو مرتبہ میرے ٹویٹس قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جائیں گے۔۔۔ ٹویٹ محدود الفاظ میں بات کرنے کا میڈیم ہے۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہر ٹویٹ ایک مختصر کالم ہوتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایٹمی قوت اور میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کو بھارت پر یقینی طور پر برتری حاصل ہے مگر پاکستان کو بھارت کے سب سے خطرناک ہتھیاروں مریم اورنواز شریف کا موثر توڑ ابھی تلاش کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طلعت حسین نے بھانپ لیا ہے کہ نون لیگ لیڈروں کے قحط کا شکار ہونے والی ہے اس سے بہتر موقع آگے بڑھنے کا انہیں کبھی نہیں ملے گا۔ان کے کان یہ نعرہ سننے کے لئے تڑپ رہے ہیں کہ ”قدم بڑھاو¿ طلعت حسین۔۔ہم تمہارے ساتھ ہیں“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے برٹرینڈ زسل کا شاہکار “دی پاور” یاد آرہا ہے جس میں ایک جگہ یہ عظیم فلسفی لکھتا ہے کہ”اصل چیز پاور یعنی طاقت ہے جو بندوق کی بھی ہو سکتی ہے ،اقتدار کی بھی اور پیسے کی بھی۔بڑے بڑے لوگ پیسے کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہو جایا کرتے ہیں “بچاری عاصمہ شیرازی کا کیا قصور؟“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ساری پارٹیوں کے لیڈر عمران خان سے کیوں خوفزدہ ہیں حا لانکہ خان سے ان کی اپنی پارٹی کے لوگ نہیں ڈرتے۔وہ ڈرنے والی چیز ہیں ہی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
عوام کا سمندر تو بڑے میاں صاحب نہ دیکھ سکے انہوں نے جیل میںشہباز شریف کی سمندرناک پریس کانفرنس ضرور دیکھی ہوگی۔مجھے لگ رہا ہے کہ دنیا کے تمام سمندروں نے مل کر اللہ پاک سے دعا مانگی ہے کہ انہیں اٹھالے۔۔۔ایسی بے عزتی ان کی برداشت سے باہر ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اول فول بکنے کا محاورہ آج سے پہلے میری سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ لگتا ہے کہ گذشتہ رات بڑے بھائی اور بھتیجی کی گرفتاری کے بعد شہباز شریف نے خواب میں ل ل ل ل ل لاکھوں کی فقیدالمثال ریلی کی قیادت کی۔۔۔سارا دن نشے میں چور رہے اور پھر یاد آیا کہ پریس کانفرنس کرنی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
کامران خان کا کہنا ہے کہ انہیں فوج اور عدلیہ پر گولہ باری کی پوری آزادی نہیں۔کیا اس سلسلے میں ان کا ٹویٹ خود نہیں بول رہا کہ میڈیا پاکستان میں دنیا کے ہر ملک سے زیادہ آزاد ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔
رانا ثناءاللہ کا بیان ہے کہ نواز شریف کا استقبال کرنا حج سے بڑا کام ہے صرف جہالت نہیں ارتداد کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔کل یہ شیطان یہ اعلان بھی کر سکتا ہے کہ نواز کے فرمودات نعوذبااللہ قران پاک سے زیادہ مقدس ہیں اس سے پہلے کہ وہ نوبت آئے اس بدبخت کو وہ سزا دی جائے جو مرتد کے لئے مقرر ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
مریم اور ان کے والد نے ڈاکٹروں سے کہا ہے کہ جمعرات12 جولائی کو مریضہ کی حالت بہتر بنا دی جائے تاکہ وہ پاکستان جا سکیں۔وینٹی لیٹر ہٹانے کا فیصلہ وہ پاکستان جا کر کریں گے۔با خبر ذرائع کے مطابق میاں صاحب کسی بھی وقت اعلان کر سکتے ہیں کہ وہ اہلیہ کو اس حالت میں چھوڑ کر نہیں آ سکتے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
خو شی کی بات ہے کہ پی ٹی وی نے سزا یافتہ نواز اور مریم کو دکھانے اور سنوانے پر پابندی لگا دی ہے۔نجی چینلز پر اب فرض عائد ہوتاہے کہ وہ بھی قومی مفاد کو تجارتی مفاد پر ترجیح دیں نواز شریف عوام کو فوج کے خلاف بغاوت پر اکسا رہا ہے۔باغی کا ساتھ دینے والا بھی باغی سمجھا جائے گا۔

Scroll To Top