وحشت اور دہشت کی نحوست 25-07-2013

kal-ki-baat
ایم کیو ایم کے ایک ممتاز لیڈر فاروق ستار نے الطاف بھائی کی ہتک عزت کرنے پر عمران خان کے خلاف 5ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کردیاہے۔
اس دعویٰ کو محض ایک سیاسی چٹکلہ قرار دیا جائے یا اس میں سنجیدگی کا عنصر بھی شامل ہے ` اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔دعوے کی بنیاد عمران خان کی طرف سے عائد کئے جانے والے اس الزام کو بنایا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کی رہنما زہرہ شاہد کے بہیمانہ قتل میں ایم کیو ایم کے قائد کا ہاتھ تھا۔ یہ الزام مبینہ طور پر عمران خان نے اس وقت لگایا تھا جب وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے اور مرحومہ زہرہ شاہد کی ٹارگٹ کلنگ کی خبر اُن تک پہنچی تھی۔ لندن میں ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مرحومہ کا قتل اس دھمکی اور للکار کے بعد ہوا جو ایم کیو ایم کے قائد نے اپنے ایک ٹیلیفونی خطاب میں ان تمام لوگوں کو دی تھی جنہوں نے انتخابی دھاندلی کے خلاف دیئے جانے والے دھرنے میں شرکت کی تھی۔ ایم کیو ایم کے حلقے اس دھرنے میں خواتین کی بھاری تعداد میں شرکت کی وجہ `مرحومہ کی کاوشوں کو قرار دے رہے تھے۔ مرحومہ کو اس ضمن میں ”غائبانہ “ دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔
بادیِ النظر میں یہ بہیمانہ قتل بھٹو مرحوم کے اُن مشہور الفاظ کی یاد دلاتا ہے جو وہ اپنے بدخواہوں اور مخالفوں کو مخاطب کرکے ادا کیا کرتے تھے۔ Fix him up !
قیاس یہی ہے کہ کچھ اِسی قسم کی ہدایات مرحومہ کے بارے میں ان کے ” نامعلوم “ قاتلوں کو بھی دی گئی ہوں گی۔
جن لوگوں نے الطاف بھائی کی ” تین تلوار “ والی تقریر سُنی ہے انہیں یاد ہوگا کہ وہ کس قسم کے لب و لہجے میں اور کس قسم کی گھن گرج کے ساتھ متذکرہ دھرنے کے شرکاءکو ان کے بھیانک انجام کے بارے میں آگاہ کررہے تھے۔ اگر ان کے ہاتھ میں بندوق ہوتی تو وہ لندن سے ہی ٹیلیفون کے راستے ان ” باغیوں “ پر گولیوں کی بوچھاڑ کردیتے جنہوں نے کراچی میں اُن کی ” بلاشرکتِ غیر “ حاکمیت کے خلاف آواز بلند کی تھی!
شاید قدرت اب یہ چاہتی ہے کہ کراچی شہر پر ایک عرصے سے دہشت اور وحشت کی جو نحوست چھائی ہوئی ہے اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نکلے۔ اگر ہر جانے کا یہ مقدمہ چلتا ہے تو لوگ جو کچھ جانتے ہیں لیکن کہہ نہیں پاتے وہ سب کچھ خود بخود سامنے آجائے گا۔۔۔

Scroll To Top