اگر بھارت کے سپاہی ہماری صفوں میں موجود ہوں تو پاکستان کو بھارت کا مفتوحہ علاقہ بنانے کے لئے موجودہ جمہوریت کافی ہے

aaj-ki-baat-new

ایک ترکیب سے میری شناسائی کئی دہائیاں پرانی ہے۔ فلاں شخص ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہے۔ مطلب اس بات کا یہ ہے کہ اسلام کے عقائد اس شخص کی سوچ میں بڑی گہرائی تک رچے بسے ہیں۔ بات سمجھ میں آتی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ معبود ایک ہے جو اللہ ہے اور جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور بنی نوع انسان کے لئے اللہ کا پیغام لائے ہیں جو پورے کا پورا اس کتاب میں ابد تک محفوظ ہے اور رہے گا جسے قرآن کہتے ہیں۔ گویا جو شخص بھی اس کتاب کے ایک ایک لفظ کو صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کا فرمان سمجھتا ہے وہ راسخ العقیدہ مسلمان ہے۔ چونکہ اس کتاب کا کوئی بھی لفظ تبدیل نہیں ہوسکتا اس لئے جو عقائد ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے 14صدیاں پہلے تھے وہی عقائد آج کے ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے ہیں۔
میں نے یہ لمبی چوڑی تمہید اس لئے باندھی ہے کہ میں آج کے کالم میں ان اصحاب اور صاحبات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اپنی پہچان ” راسخ العقیدہ “ جمہوریت پسندوں کے طور پر کراتے ہیں۔ وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جمہوریت کوئی آسمانی صحیفہ نہیں کہ دنیا کے ہر خطے میں اور ہر دور میں اس کی تشریح ایک ہی طرح کی ہو اور اس کے اصول عقائد کے درجہ رکھتے ہوں۔
میں یہاں نازی جرمنی کا ذکر کروں گا۔ دنیا بھر کے جمہوریت پسند اس بات پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ ایڈولف ہٹلر کی نازی پارٹی نے جرمنی میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم بڑی تباہی بپا کی۔ اِس بات پر اتفاق کرتے وقت وہ اس حقیقت کویا تو بھول جاتے ہیں یا نظر انداز کرتے ہیں کہ نازی پارٹی کو جرمنی میں اقتدار کسی آسمانی حکم نامے کے ذریعے نہیں ملا تھا ` اس نے 1933ءمیں جرمنی کے انتخابات بڑی بھاری اور واضح اکثریت کے ساتھ جیتے تھے۔ جب ہم اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہیں تو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آتی او ر نہ ہی آنی چاہئے کہ ایک اچھی انتخابی مہم اور اثر انگیز نعروں کے ذریعے عوام کی اکثریت کو گمراہ کیا جاسکتا ہے۔
میں ذاتی طور پر ایڈوالف ہٹلر کا مداح ہوں۔ وہ ایک غیر معمولی آدمی تھا جو سر سے پاﺅں تک بعض نظریات میں دھنسا ہوا تھا۔ ان نظریات کی سربلندی کے لئے اس کے نزدیک کوئی بھی راستہ اختیار کرناجائز تھا۔ اس کا نعرہ تھا کہ ” میں خدا کو مانتا ہوں مگر میرا خدا جرمن ہے۔“ جرمنی کے عوام نے اس گمراہ کن نعرے کو قبول کیا اور نہایت تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ بڑی بھاری تعداد میں ہٹلر کے پیچھے چل پڑے۔
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ جمہور کا فیصلہ خدا کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ جمہور کا فیصلہ غلط بھی ہوسکتا ہے اور جب وہ غلط ہو اور اس کی درستگی کا راستہ دُور دُور تک نظر نہ آئے تو نتائج بڑے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
اگر پاکستان یورپ کا کوئی ملک ہوتا اور اسے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ اس کا کوئی ہمسایہ ملک اس پر چڑھ دوڑے گا یا اسے عدم استحکام کا شکار بنانے کے لئے اندرونی طور پر تخریبی نیٹ ورک قائم کرے گا تو ویسی ہی جمہوریت یہاں نافذ کرنے میں کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا جیسی جمہوریت برطانیہ ` فرانس ` جرمنی ` امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں قائم ہے۔ وہ اصحاب وصاحبات جو ویسی جمہوریت کی ثناءخوانی بڑے پرُ جوش انداز میں کرتے رہے ہیںاور اسے پاکستان میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں ان سے میں صرف ایک سوال پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان میں کوئی بھی ایسی قابلِ ذکر پارٹی موجود ہے جس پر کسی فرد اور اس کے خاندان کی ملکیت ہونے کا گماں نہیں ہوتا۔۔۔؟ پہلی بات تو یہی بے پناہ اہمیت رکھتی ہے کہ ہمارے ملک میں حقیقی سیاسی پارٹیاں موجود ہی نہیں اور تقریباً ہر پارٹی کسی نہ کسی شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔
اور دوسری بات میں اس سے بھی زیادہ اہم کرنے جارہا ہوں۔ اور وہ یہ کہ پاکستان ایک نیشنل سکیورٹی سٹیٹ ہے اور جب تک اس کے پڑوس میں بھارت نام کا ایک ملک موجود ہے اسے یعنی پاکستان کو اپنی بقاءاور سلامتی کے لئے ہر لحاظ سے پوری طرح چوکس رہنا پڑے گا۔
ایسا نہیں کہ بھارت آئندہ کبھی بھی پاکستان پر روایتی حملہ کرسکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی انداز کی کسی بھی جنگ میں نہ تو کوئی فتحیاب ہوگا اور نہ ہی کوئی مفتوح ۔دونوں ممالک کھنڈرات میں تبدیل ہوجائیں گے۔ بھارت اگر ہم پر حملہ آور ہوسکتا ہے تو اندرونی طور پر ہوسکتا ہے۔
اور اندرونی طور پر حملہ آور ہونے کا راستہ اس کے سامنے موجود ہے۔ پاکستان کی جمہوریت ۔ جس ملک کا سابق وزیراعظم یہ اعلانات کرتا پھرے کہ اِس ملک کی فوج اِس خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے ` اُس ملک کو برباد کرنے کے لئے بھارت کو تباہ کن ہتھیاروں کی ضرورت نہیں۔
بھارت موجودہ انداز کی جمہوریت کی موجودگی میں ہماری صفوں سے اپنے سپاہی ” ریکروٹ“ کرسکتا ہے جو جنگ کے بغیر پاکستان کو بھارت کا ایک مفتوحہ علاقے بنا سکتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top