پی ایم ایل این متاثر کن پاور شو نہ کرسکی

zaheer-babar-logo

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا طیارہ تقریبا 2 گھنٹے تاخیر کے بعد لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا ۔ تھوڈی تاخیر کے بعد ہی حکام کی جانب سے دونوں پاب بیٹی کو گرفتار کرلیا گیا۔ سابق وزیراعظم کی گرفتاری جس طرح عمل میں آئی اس سے مسلم لیگ ن کے ان دعووںکی قلعی کھل گی کہ اگر میاں نوازشریف کو گرفتار کیا گیا تو ملک میں خوفناک صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود نہ دیگر شہر تو دور خود اہل لاہور جان ہتھیلی پر رکھ ائرپورٹ نہ پہنچ پائے۔خوش آئند ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی نے حکام کے ساتھ تعاون کیا اور خود کو قانون کے حوالے کردیا۔
اب خیال کیا جارہا ہے کہ جلد ہی خواجہ حارث سمیت سابق وزیراعظم کی قانونی ٹیم ان کی ضمانت کے لیے عدالتوں سے رجوع کرسکتی ہے۔ یہاں یہ حقیقت زھن نشین رہنی چاہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کے علاوہ بھی کئی مقدمات احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزدی کے موقعہ پر قابل زکر تعداد میں عوام کا سامنے نہ آنا پی ایم ایل این کی سیاسی ساکھ متاثر کرسکتا ہے۔ یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ اگر لندن سے گرفتاری دینے کے لیے پاکستان آنے کے باوجود میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی عوامی طاقت کا مظاہرہ نہیں کرسکے تو آئندہ الیکشن میں بھی وہ کسی ڈرامائی کامیابی کی توقع نہ رکھیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ گذشتہ پانچ سالوں میں میاں نوازشریف کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی لہذا ان کے حمایتی اگر ان کا مخالف نہیں ہوا تو ان کے لیے میدان میں آنے کا رسک بھی نہیںلے سکا۔ پی ایم ایل این یقینا اس کو تسلیم نہیںکرے گی کہ پنجاب بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج منعظم نہیںکرسکی۔اب بھی یہی کہا جارہا ہے کہ نگران حکومت نے جس طرح پی ایم ایل این کے کارکنوں کی گرفتاری عمل میں آئی اس سے ان کی جماعت کے حوصلہ پست ہوئے۔ اس میں شک نہیں کہ لاہور میں قیام امن کے لیے پولیس اور ریجنرز کے دستوں کو تعینات کرنا لازم ہوگیا تھا ۔ وجہ یہ کہ 13جولائی ہی کو مستونگ میں خودکش حملے کے نتیجے میں 80سے زائد لوگوں کی شہادت اس بات کا پتہ دے رہی کہ دہشت گرد کہیں بھی کسی بھی وقت کاروائی کرسکتے ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ لاہور میں پی ایم ایل این کے احتجاج میں سابق وزیراعلی شبہاز شریف کی سیاسی مفاہمت غالب رہی۔ خادم اعلی کہلانے والے کسی طور پر نہیں چاہتے تھے کہ وہ ایسے حالات پیدا کردیں جس کے نتیجے میں ان کے لیے مشکلات پیدا ہوں لہذا میاں نوازشریف اور مریم نواز کو آسانی سے گرفتار کروانے میں ہی عافیت سمجھی گی۔ شائد آنے والے دنوں میں میاں نوازشریف اور شہبازشریف کے طرز سیاست میں اختلافات کھل کر سامنے آسکتے ہیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر عملا یہ حصول اقتدار کی جنگ ہے جس میں کسی ایک کو کامیاب اور دوسرے کو ناکام ہونا ہے۔
سابق وزیر اعظم نوازشریف کے لیے اب 25 جولائی کا دن اہم ہوچکا ۔ مسلم لیگ ن کے قائد یہ امید کرسکتے ہیںکہ ان کی گرفتاری پنجاب میں ان کی سیاسی حمایت کو کئی گنا بڑھا دے۔ یعنی اہل پنجاب یہ یقین کرلیں کہ سابق وزیر اعظم نے کوئی بدعنوانی نہیں کی بلکہ ایک سازش کے تحت انھیں عدالتوں سے سزا سنائی گی۔ درحقیقت میاں نوازشریف کو نہیں بھولنا چاہے کہ اہل پنجاب کسی بھی مزاحمتی سیاست کے حمایتی نہیں رہے۔خود مسلم لیگ ن نے بھی پانچ دریاوںکی سرزمین میں کئی دہائیوں تک اسی لیے حکومت کی کہ اس میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی قابل زکر تعداد تھی۔ پی ایم ایل این بارے یہ تاثر بھی رہا کہ وہ سٹیٹس کو کی حمایتی جماعت ہے۔
اس میںدوآراءنہیں کہ پی ایم ایل این کو اس وقت جو حالات درپیش ہیں اس میںمیاں نوازشریف کے پاس سوائے مزاحمت کرنے کے کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ قومی اداروں کو ہدف بنانا اگر سابق وزیر اعظم کی سیاسی مجبوری بن چکا تو اس کا نقصان بہرکیف ہوگا۔ تاحال یہ یقین سے نہیںکہا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں پی ایم ایل این کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرتی ہے مگر شائد یہ ضرور ہے کہ میاں نوازشریف کے آزمائش کے دن ابھی شرو ع ہوئے ہیں ۔ وا 7 سات سال جبکہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا دی گئی تھی۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت والد اور بیٹی دونوں کلثوم نواز کی عیادت کے لئے لندن میں موجود تھے جس کے بعد انہوں نے سزا کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان واپس آنے کا اعلان کیا تھا۔مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس کے مجرم کیپٹن (ر) صفدر اڈیالہ جیل منتقل خیال رہے کہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن(ر) محمد صفدر پہلے ہی گرفتاری دے چکے ہیں، جبکہ فیصلہ آنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز نے بھی وطن واپس آکر سزا کا سامنا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس ضمن میں نواز شریف نے عدالتی فیصلے پر تنقید بھی کی جس میں ان کی صاحبزادی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی، نواز شریف کا کہنا تھا کہ جنہوں نے فیصلہ سنایا انہوں نے اپنی نفرت میں اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا کہ پاکستان میں بیٹی کا کیا مقام ہے۔

Scroll To Top