مسلم لیگ ن بحران پیدا کرنا چاہتی ہے

zaheer-babar-logo
عدالت سے قید اور جرمانے کی سزا پانے والے میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی ملک میں واپسی کا اعلان ہوتے ہی مسلم لیگ ن نے اپنے ساتھ زیادتیوں کی دہائی دینی شروع کردی۔ مثلا مسلم لیگ کا دعوی ہے کہ میاں نواز شریف کی جمعے کو وطن آمد سے قبل جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاریاں جو اس کے بعقول انتخاب دھاندلی اور عام انتخابات کو داغدار کرنے کی کوشش ہے۔پی ایم ایل این صوبے میں نگران حکومت اور ماتحت انتظامیہ کے اقدامات پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن رہنما شہبازشریف دہائی دینے میں نمایاں ہیں، ان کا دعوی ہے کی نگران حکومت کے احکامات پر لاہور اور راولپنڈی میں ان کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاکہ وہ نواز شریف کے استقبال کے لیے لاہور ایئرپورٹ نہ جا سکیں۔
حیرت انگیز طور پر مسلم لیگ ن یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ ملک میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ گذشتہ روز ہی پشاور میں ہارون بلور اور ان کے ساتھ بائیس سے زائد کارکنوں کی شہادت کے بعد کسی کو شک وشبہ نہیںہونا چاہے کہ دشمن تاک میں ہے جو کسی بھی وقت کہیں بھی کاروائی کرسکتا ہے۔اپنے انفرادی اور سیاسی مقاصد کی خاطر قومی یکجتی کو نقصان پہنچانا کسی کی خدمت نہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والوں کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بعض عناصر نوازشریف کی آمد کا جواز بنا کر لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گڑ بڑ کرسکتے ہیں چنانچہ پشیگی اقدمات اٹھائے جارہے ہیں۔
ادھر عام انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گے ۔ یقینا مسلم لیگ ن کی کوشش ہوگی کہ تیرہ جولائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے کیونکہ عام تاثر یہی ہے کہ بدعنوانی ثابت ہونے پر میاں نوازشریف کو جو سزا ہوئی اس سے پارٹی کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی واقعہ ہوئی۔
پی ایم ایل این کی ایک اور مشکل یہ ہے کہ نوازشریف اور شہبازشریف دو الگ الگ پالسیوں پرعمل درآمد کررہے۔ میاں نوازشریف قومی اداروں کو جس طرح کھل کر ہدف بنا رہے سابق وزیر اعلی پنجاب اس کے بالکل برعکس پالیسی پر عمل پیراءہیں چنانچہ عام مسلم لیگی ووٹر تاحال یہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ وہ کس کا ساتھ دے ۔ بظاہر دونوں بھائی کئی دہائیوں سے گڈ اور بیڈ کاپ کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اب لگتا ہے کہ یہ سلسلہ مذید نہیںچلنے والا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ پی ایم ایل این تاحال میاں نوازشریف سے کو چھوڈنے کو تیار نہیں۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہے تھا کہ پانامہ لیکس سامنے آتے ہی پاکستان مسلم لیگ ن خود سابق وزیر اعظم سے جواب طلبی کرتی مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ ٹھیک ہی کہا جاتا ہے کہ ارض وطن میں بشیتر سیاسی جماعتیں لمیڈ کمپنیوں کی شکل میں ہیں ۔ جس میں اختلاف رائے یا پارٹی سربراہ کی رائے مسترد کرنے کا تصور تک نہیں۔
یقینا جب یہ صورت حال ہوگی تو پھر کسی بھی معاملہ میں آزدانہ بحث مباحثہ کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔
میاں نوازشریف اور مریم نواز کی لندن واپسی کو مسلم لیگ ن فیصلہ کن موڈ قرار دے دیا ہے۔ پی ایم ایل این کے لیے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ کس طرح سے لاہور میں قابل زکر تعداد میں لوگ اکھٹے کرکے اپنی طاقت کا اظہار کرتی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف لندن سے کم وبیش چھ بجے لاہور پہنچ سکتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ ان کا جہاز مذید تاخیر کا شکار ہوجائے ۔ تاحال اس کا بھی یقین نہیںکہ واقعی انھیں لاہور میں اترنے کی اجازت ملے گی یا پھر کسی دوسرے شہر میںان کے طیارے کا رخ موڈا جاسکتا ہے۔
دراصل مسلم لیگ ن سے متعلق تاثر یہی ہے کہ اس کے کارکن کسی محاذآرائی پر تیار نہیںہوتے۔ وہ سرمایہ داروں سے پارٹی ہے جو باآسانی حصول اقتدار کے کھیل میں شریک ہونے کے لیے تیار رہتی ہے۔ نئی صورت حال پی ایم ایل این کے لیے اس لحاظ سے بھی امتحان ہے کہ تاحال کسی نئے این آر او کی امید نہیں کی جارہی۔ ملکی ادارے کسی بھی ایسے خلاف قانون اقدام کے لیے تیار نہیںجسے کل عدالت میں ثابت نہ کیا جاسکے۔ اس لحاظ سے پی ایم ایل این کے لیے جو راستہ بچا ہے وہ یہی ہے کہ وہ عدالتی جنگ کے زریعہ اپنے لیے کسی نہ کسی طور پر ریلیف حاصل کرلے۔ اس پس منظر میں قومی احتساب بیورو، نیب کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے جاری تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں دیے گئے فیصلے اور احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے وارنٹ گرفتاری پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا۔بیان کے مطابق اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نگران وزیرِ داخلہ بھی کہہ چکے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور آمد کے فورا بعد عدالتی حکم کے تحت حراست میں لے لیا جائے گا اور انھیں ہوائی اڈے سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔“میاں نوازشریف کی پاکستان آمد میں زیادہ وقت نہیں رہ گیا چنانچہ اس بات کا تعین بھی جلد ہوجائیگا کہ 13جولائی بروز جمعہ کو محض پیالی میں طوفان پیدا کرنے کی کوشش کی گی یا حقیقت میں وہ پی ایم ایل این کے لیے اہم رہا۔

Scroll To Top