تو اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرا نام محمد دین ہے یا رام چند۔۔۔ 24-07-2013

kal-ki-baat
آرٹیکل 62اور63کا شور تب سے ہی مچا ہوا ہے جب گزشتہ عام انتخابات کے لئے کاغذات ِ نامزدگی داخل ہوئے تھے اور الیکشن کے حکام نے امیدواروں کے انٹرویو لئے تھے۔
اب دوبارہ صدارتی انتخاب کے حوالے سے یہ معاملہ سامنے آیا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ایک ہدایت جاری کی ہے جس کے مطابق صدارت کے امیدواروں کو بھی آرٹیکل 62اور63کے تقاضوں پر پورا اترنا ہوگا۔
اس ضمن میں مجھے ٹی وی پر ایک مکالمہ سننے کا اتفاق ہوا ہے جس میں جناب نجم سیٹھی اپنے ساتھی میزبان منیب فاروق سے کہہ رہے تھے ۔ ” یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کوئی شخص صادق اور امین ہے۔؟ کون یہ طے کرے گا کہ اچھا مسلمان کون ہے اور کون نہیں۔؟ خدا کے سوا کس کو علم ہوسکتا ہے کہ کس شخص کی مسلمانی سچی ہے اورکس کی نہیں ؟“
بات بظاہر درست نظر آتی ہے۔ مگر اس دلیل کی آڑ میں ایک مسلم مملکت میں حکمرانی کے فرائض ایسے افراد کے سپرد نہیں کئے جاسکتے جو خود اپنے صادق اور امین ہونے کا یقین نہ رکھتے ہوں۔ اگر کوئی شخص اس ضمن میں حلفیہ بیان دیتا ہے تو یہ بیان مملکت اور معاشرے کے لئے اس وقت تک قابلِ قبول ہونا چاہئے جب تک اس شخص کے دعوے کی عملی طور پر تردید سامنے نہیں آجاتی۔
حضرت عمر فاروق ؓ کسی ایسے شخص کو کوئی اہم ذمہ داری نہیں سونپا کرتے تھے جس کے اعمال اورکردار کے بارے میں وہ خود اطمینان نہیں کرلیتے تھے۔
یہ درست ہے کہ کسی بھی شخص کے کردار کا حقیقی گواہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی ” پکڑ“ سے آخرت میں کوئی بھی گنہگار بچ نہیں پائے گا۔ مگر اس دنیا کی نظروں میں بھی افراد کو ان تمام تقاضوں پرپورا اترنا چاہئے جن کی نشاندہی آرٹیکل62اور63میں کی گئی ہے۔
ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ جو ” افراد “ بھی معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کرکے اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کے امیدوار ہوتے ہیں وہ عوام کی نظروں میں دھول ہی اس لئے جھونکتے ہیں کہ انہیں اللہ کے وجود پر کامل ایمان نہیں ہوتا۔ میں نہیں مانتا کہ اللہ کے وجود پر کامل ایمان رکھنے والے کسی بھی شخص کو کسی بھی گناہ کا ارتکاب کرتے وقت ” خوفِ خدا “ محسوس نہیں ہوتا ہوگا۔
اصل بات مسلمان ہونا اورکہلانا نہیں خوف ِ خدا محسوس کرنا اور ہر عمل کی ادائیگی کے وقت خدا کی موجودگی کا احساس رکھنا ہے۔
اگر یہ احساس نہ ہوتو اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرا نام محمد دین ہے یا رام چند۔۔۔

Scroll To Top