بڑے میاں نے چھوٹے میاں کو مشکل میں ڈال دیا:میرے استقبال کیلئے آنےوالے لشکر کاسپہ سالار شہباز شریف ہوگا،نواز شریف

  • مجرم نواز شریف اورمریم نواز کی پر زور فرمائش کہ’ ان کی لاہور آمد پر ن لیگ کے صدر لاﺅ لشکر سمیت ان کے استقبال کے لئے موجود ہوں ‘نے شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور ان کے ہم خیال ٹولے کو سخت مشکل میں مبتلا کر دیا ہے ، وہ دلی طور پر اس شو کے فلاپ ہو نے کے منتظر ہیں تاکہ پارٹی قیادت بلاشرکت غیرے ان کے ہاتھ آ جائے
  • باپ بیٹی کی گرفتاری اور اڈیالہ جیل منتقلی کیلئے 16 رکنی ٹیم تشکیل ،منتقلی کیلئے دو ہیلی کاپٹرز مختص، نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی ، چیئرمین نیب کا انتباہ

نواز شہباز

لاہور(الاخبار نیوز) ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جمعہ کو وطن واپسی کے موقع پر گرفتاری کیلئے 16 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کی قیادت اور کارکنوں کو ایئر پورٹ کی حدود سے دور رکھنے کے لئے پنجاب حکومت نے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں تمام ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور دیگر رہنما نااہل وزیر اعظم نواز شریف اوران کی بیٹی مریم نواز کی پرزور فرمائش پر ہر حال میں ان کے خیر مقدم پر تلے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے چھوٹے میاں صاحب کو بطور خاص یہ پیغام بھیجا ہے کہ انکا استقبال تاریخی نوعیت کا ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں لاہور کی سڑکوں پر کارکنوں کا جم غفیر نظر آنا چاہئے تاکہ ان کے بیانیے کو بھرپور پذیرائی حاصل ہو سکے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں میاں نواز شریف کی فرمائش نے ن لیگ کے صدر شہباز شریف کو سخت مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ وہ اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز دلی طور پر یہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں اورچاہتے ہیں کہ یہ سارا شو فلاپ ہو جائے اور کسی طریقے سے نواز شریف اور مریم نواز سین سے آﺅٹ ہو جائیں اور میدان ان کے لئے صاف ہو جائے اور آنے والے وقت میں مسلم لیگ کی قیادت بلاشرکت غیرے ان کے ہاتھ آ جائے۔ تاہم ایوان فیلڈ ریفرنس کے مجرمان کی آمد کے فوری بعد ان کی گرفتاری اور جیل منتقلی کیلئے تشکیل کی گئی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر قومی احتساب بیورو (نیب) امجد علی اولکھ کریں گے، ٹیم میں نیب کے 9 افسران اور باقی پولیس افسران شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق یہ ٹیم نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کرے گی، ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم تمام کارروائی کی نگرانی کریں گے۔ذرائع کے مطابق نیب آفس میں سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب نے دو ہیلی کاپٹرز کا انتظام کر لیا ہے اور کابینہ ڈویڑن نے دو ہیلی کاپٹرز جمعہ کے روز نیب کو مختص کر دیے ہیں۔ایک ہیلی کاپٹر لاہور اور دوسرا اسلام آباد ایئرپورٹ پر کھڑا کیا جائے گا، کسی بھی ایئرپورٹ پر اترتے ہی نواز شریف اور مریم نواز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔خیال رہے کہ نیب نے ہیلی کاپٹرز کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست کی تھی اور وزارت داخلہ کے پاس ہیلی کاپٹر نہ ہونے کے باعث کابینہ ڈویڑن نے وزیر اعظم کے لیے مختص ہیلی کاپٹر دے دیے۔دریں اثناءقومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہاہے کہ احتساب عدالت کی طرف سے نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری کےلئے جاری کئے گئے وارنٹ گرفتاری پر قانون کے مطابق عملدر آمد یقینی بنایا جائیگا ۔ ایک بیان میں انہوںنے واضح کیا کہ نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری پر قانون کی خلاف ورزی اور کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔ ادھر پنجاب حکومت کی جانب سے شدید احتجاج کے پیش نظر رات گئے مسلم لیگ (ن)کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ کارکنوں کی گرفتاریوں پر مسلم لیگ (ن)نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

Scroll To Top