شام میں اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پرحملے میں 32 رضا کار ہلاک

امدادی قافلے کی 18 گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا،اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ فوٹو:اے ایف پی

صنعاء: اقوام متحدہ کی جانب سے شامی شہر حلب میں جنگ سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے بھیجے قافلے پر حملے میں 32 افراد ہلاک جب کہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ شامی فوج اور باغی ایک دوسرے پر سات روز قبل شروع ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام میں جاری جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لئے اقوام متحدہ کی جانب سے 31 گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں اب تک 32 رضاکار ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کریبی کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کو متاثرین کےلئے بھیجے گئے قافلے کے حوالے سے مکمل معلومات تھیں اور امدادی قافلے کو حلب کے محصور علاقوں تک پہنچانے کی باقاعدہ اجازت بھی لی گئی تھیں لیکن پھر بھی امدادی کارکنوں کا حملے میں مارا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قافلے پر حملے میں شامی حکومت ملوث ہے اور حلب میں امدادی قافلے کو شامی فوج نے نشانہ بنایا۔ برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امدادی قافلے پر حملہ شامی یا روسی فوج کی جانب سے کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں امدادی ادارے کے سربراہ سٹیفن اوبرائن کے مطابق امدادی قافلے کی 31 گاڑیوں میں سے 18 گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا یہ قافلہ شام میں موجود 78 ہزار افراد کے لئے امداد لے کر جارہا تھا لیکن دلخراش واقعہ جان بوجھ کر کیا گیا اور اسے جرم سمجھا جائے گا۔
واضح رہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ حلب شہر میں 2 لاکھ 75 ہزار متاثرہ افراد بے یارو مدد گار کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر میں بیٹھے ہیں جن کے لئے اقوام متحدہ کی جانب سے امدادی سامان بھیجا گیا تھا۔

Scroll To Top