13جولائی ، یومِ شہدائے کشمیر

زین العابدین


کشمیر کی تحریکِ حریت کے نوجوان شہید برہان مظفر وانی کی دوسری برسی 8جولائی 2018کو بڑی عقیدت اور احترام سے منائی گئی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر مےں ہڑتال کی گئی اور کشمیری عوام اور حریت قیادت کیجانب سے اس نوجوان شہید کو جو آج کشمیر کی آزادی اور نوجوان کشمیری نسل کی آواز بن چکا ہے ، بھرپور انداز مےں خراجِ عقیدت پےش کیا گےا ۔ پچھلے دو سالوں کے دوران کوئی اےک دن بھی اےسا نہیں گزراجب کشمیر کی آزادی کی تحریک کے نمائندوں، قائدین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں نے برہان وانی کے گھر جا کر اسکی بےمثال قربانی اور جدوجہد کو خراجِ تحسین پےش نہ کیا ہو۔ برہان وانی نوجوان کشمیری نسل کے آزادی کے شعور کی بےداری کی علامت بن چکا ہے اور بھارت اپنے ہندو انتہا پسند گروہوں کی مدد سے اپنی پوری کوششوں مےں لگا ہوا ہے کہ برہان وانی کےخلاف پراپےگےنڈا کرکے اور نعرے لگوا کر اسے دہشتگرد ثابت کرسکے لےکن اسے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل مےں منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ وادی مےں بھارتی قابض افواج حسبِ رواےت کشمیریوں کا خون بہانے مےں مصروف ہےں۔ کلگام، شوپیّاں، بانڈی پورہ الغرض کوئی اےسا علاقہ نہیں جہاں سے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کی شہادتوں کی خبر نہ آرہی ہو۔ کشمیریوں کا خون بہانے کی اس رواےت کا آغاز 13جولائی 1931کو ہوا جب ڈوگرا افواج نے ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے 22معصوم اور نہتّے کشمیریوں کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بناڈالا جب وہ سرینگر جےل کے باہر ظہر کی نماز کی ادائیگی کےلئے اذان دے رہے تھے۔ کشمیر کے ان شہیدوں نے کشمیر کی آزادی کا وہ بیج بوےا ہے جو آج برہان وانی جےسے ہزاروں شہیدوں کے خون کی آبےاری سے اےک تناور درخت بن چکا ہے۔ کشمیری اپنی جانوں کی قربانی سے دنیا کو یہ باور کروا رہے ہےں کہ وہ جاگ رہے ہےں اور اپنی آزادی کی تحریک کو اسکے حصول تک جاری رکھےں گے اور کوئی طاغوتی طاقت انکاراستہ نہیں روک سکتی۔یہ شہیدوںکا خون ہی ہے جو جذبہ¿ آزادی کوشدّت اوردوام بخشتا ہے نےزآزادی کے متوالوں کو ہر قسم کے خوف و خطرسے بے نےاز کرکے انہیں اپنی منزلِ آزادی کی جانب رواں دواں رکھتا ہے ۔ 13جولائی1931کا دن جسے “ےومِ شہدائے کشمیر”کے طور پر مناےا جاتا ہے، کشمیر کی آزادی کی تحریک مےں اےک بڑے سنگِ میل کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس دن ڈوگرا راج کی غلامی اور مظالم سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہدمےں کشمیریوں نے اپنے خون کو شامل کر کے اس تحریک کو اےسی جاوداں زندگی بخشی کہ آج 87 سال ہونے کو آئے ہےں لےکن کشمیری آج بھی اپنی آزادی کے نصب العےن کےلئے جانوں کی قربانی دےنے سے درےغ نہیں کرتے۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر13جولائی 1931کا دن کشمیرکی تاریخ کا حصہ نہ ہوتاتو13جولائی 1931 کے بعد کی کشمیر کی تاریخ بہت مختلف ہوتی۔1846مےں برطانوی سامراج نے برصغیر پر قابض ہونے کے بعد ریاست جموں و کشمیر کو ڈوگرا مہاراجہ کے ہاتھ محض 75لاکھ روپوں کے عوض بےچ ڈالا۔ دنیا کی تاریخ کا یہ بھی اےک انوکھا سودا تھا جہاں اےک قوم کی آزادی اور عزتِ نفس کو اس قدر سستے داموںفروخت کردےا گےا۔ ڈوگرا مہاراجہ نے ریاست کی باگ ڈور سنبھالتے ہی ظلم و ستم کے اےسے اےسے طریقے اےجاد کر ڈالے کہ کشمیریوں پر عرصہ¿ حیات تنگ ہو گےا اور انکی حےثیت ڈوگرا راج کےلئے غلاموں کی سی ہو گئی۔ مذہبی، سیاسی، قانونی اور سماجی آزادی کے نام کی کوئی چیز وادی مےں موجود نہ تھی۔ کسی کشمیری کو قتل کرنے کے بعد چندسوروپوں کے عوض جان بخشی ہوجاتی جبکہ کشمیریوںکو گائے کے ذبح کرنے پر بھی کڑی سے کڑی سزائیں دی جاتیں۔ ٹےکسوں کا اےسا ظالمانہ نظام قائم تھا کہ دروازوں اور کھڑکیوں پر بھی ٹےکس عائدتھا۔مساجد پر تالے ڈال دئےے گئے اور نماز ادا کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ نہ کسی مذہبی اجتماع کی اجازت تھی نہ سیاسی جلسے ہی کئے جاسکتے تھے۔ اےسے حالات مےں کسی کشمیری کا اپنے جائز حقوق کی بات کرنا ڈوگراراج سے بغاوت کے مترادف تھا جسکی سزا موت کے سوا کچھ نہ تھی۔
برصغیر مےں برطانوی سامراج کےخلاف تحریک کے پس منظر مےں 1931کا سال اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ کشمیر مےں بھی ڈوگرا راج کےخلاف صدائے احتجاج بلند ہونا شروع ہوئی جسے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ کشمیریوں نے ڈوگرا راج کے مظالم کےخلاف احتجاج کیا تو قرانِ پاک کی بےحرمتی کے واقعات بھی رونما ہوئے جنہوں نے جلتی پر تےل کا کام کیا اوراحتجاجی جلوسوں مےں بتدریج شدت آتی گئی ۔اسی دوران اےک پرجوش کشمیری نوجوان نے ڈوگرا راج کے ظلم و ستم کےخلاف اےسی تقریر کی کہ اس پر ڈوگرا راج کے سپاہیوں نے اسے گرفتار کر کے اس پر بغاوت کا مقدمہ دائر کردیا۔ مزید احتجاج سے بچنے کےلئے سرینگر جےل کے اندر ہی عدالت قائم کی گئی اور کسی کشمیری کو اس مقدمے کی کارروائی کو دےکھنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اسی دوران13جولائی1931کادن آگےا ۔ کشمیری نوجوان کے مقدمے کی کارروائی سرینگر کی مرکزی جےل کے اندر جاری تھی جبکہ جےل کے باہرکشمیریوں کی اےک بڑی تعداد اس کارروائی کو دےکھنے کی غرض سے جمع تھی اور مطالبہ کررہی تھی کہ مقدمے کی کارروائی کھلی عدالت مےں کیجائے۔ اسی اثناءمےں ظہر کی نماز کا وقت ہو گےا اور نمازادا کرنے کےلئے صفےں درست ہونا شروع ہوگئےں۔ حاضرین مےں سے اےک اذان دےنے کےلئے آگے بڑھا ۔ ابھی اللہ اکبر کی صدا فضا مےں گونجی ہی تھی کہ گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ ڈوگرا راج کے سپاہیوں نے مو¿ذن کو گولی مار دی تھی۔ حاضرین مےں سے دوسرا آگے بڑھا کہ باقی اذان مکمل کرے تو اللہ اکبر کی دوسری صدا کےساتھ ہی اس مو¿ذن کو بھی خون مےںنہلا دیا مگر اس جوشیلے ہجوم مےں سے کسی کو یہ قبول نہ تھا کہ انہوں نے جس نماز کی نیّت کی ہے اسکی اذان نامکمل رہ جائے۔
اس طرح ےکے بعد دےگرے اذان کے الفاظ ادا ہوتے رہے اورکشمیری جامِ شہادت نوش کرتے رہے۔ تاریخِ اسلام کی اس ےادگار اور انوکھی اذان کو مکمل کرنے کےلئے22 کشمیریوں نے اپنے خون کی قربانی دی اور ڈوگرا راج پر ثابت کر دیا کہ اب انکے عزم کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں رہ سکتی اور انکے قدم منزل پر ہی جا کررُکےں گے۔13جولائی کے انہی بہادر اور پُر عزم کشمیری شہداءکی ےاد مےں ہر سال اس دن ےومِ شہدائے کشمیر مناےا جاتا ہے۔ ان شہداءنے ڈوگرا راج کیجانب سے برسنے والی تمام گولیوں کو اپنے سےنے پر روکا لےکن اپنے عزم اور ارادہ مےں کوئی کمزوری نہ آنے دی۔دراصل یہ شہیدوں کا خون ہی ہے جو جذبہ¿ آزادی کوشدّت اوردوام بخشتا ہے نےزآزادی کے متوالوں کو ہر قسم کے خوف و خطرسے بے نےاز کرکے انہیں اپنی منزلِ آزادی کی جانب رواں دواں رکھتا ہے ۔قوموںکی تاریخ ہمےشہ انہی شہیدوں کے خون سے لکھی جاتی ہے۔آج87سال بعد بھی کشمیری اپنے پےدائشی حق سے محروم اپنی جانوں کا نذرانہ دےکر تحریکِ حریت کو زندہ و جاوےد رکھے ہوئے ہےں۔ پہلے کشمیری ڈوگرا راج کے ظلم و ستم کےخلاف لڑ رہے تھے آج وہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کےخلاف صف آراءہےں۔ کالے قوانین ، کشمیری قےدیوںسے بھری جےلےں ، عقوبت خانے ،شہداءسے آباد قبرستان اس تحریک ِ آزادی کو دبانے مےں ناکام ہےں۔ڈوگرا راج کے دوران ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام پر پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ سرینگر کو قبرستان مےں تبدیل کر دیا گےاہے لےکن بھارت نے تو اپنے ناجائز قبضہ کو جاری رکھنے کےلئے پورے جموں و کشمیر کو ہی قبرستان مےں تبدیل کر دیا ہے حتّٰی کہ کشمیری بھارت کے کسی بھی حصّے مےں محفوظ نہیںرہے۔ہر سال سےنکڑوں کشمیری آزادی کی شمع کو اپنا خون دےکر اسکی روشنی قائم رکھتے ہےں۔ انہی کشمیری شہیدوں کی فہرست مےں شہید برہان وانی نے اپنا خون شامل کرکے آزادی کی تحریک کو اےک نئی زندگی بخش دی ہے۔ 13جولائی کا دن برہان وانی سمےت ہر اس کشمیری شہید کو ےاد کرنے کا دن ہے جس نے اپنے خون سے آزادی کی اس تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے۔یہ دن تقاضا کرتا ہے کہ آزادی کی تحریک کے ان شہیدوں کے مشن اور قربانیوں کو ےاد کیا جائے اور نئی نسل کو ان سے آگاہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں عالمی برادری کو بھی ےاد دلاےا جائے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پائےدار حل کو ممکن بنانا اسکی بنیادی ذمہ داری ہے جس سے جتنی جلدی سبکدوش ہوا جائے اتنا ہی اچھا ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا مسئلہ توہی اس کے ساتھ ساتھ یہ جنوبی اےشیاءخصوصاً دو جوہری ریاستوں پاکستان اور بھارت کے مابےن خوشگوار تعلقات کی استواری، امن و سلامتی ، استحکام اور خوشحالی کے قیام کےلئے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔

Scroll To Top