نئے چہرے` نئے جذبے نئی امیدیں اور نیا پاکستان! 23-07-2013

kal-ki-baat
خدا کرے کہ اس سال کا رمضان المبارک ہماری تاریخ کا ایک مبارک مہینہ ثابت ہو۔ چند روز میں ملک کے نئے صدر کا انتخاب ہو جائے گا۔ اعدادو شمار کے مطابق جناب ممنون حسین کا اگلا صدر منتخب ہونا ایک یقینی امر ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ غلام اسحاق خان اور آصف علی زرداری جیسے صدر ہر گز نہیں بنیں گے` یعنی وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جماعتی وابستگیوں کو دخل انداز نہیں ہونے دیں گے۔ قوم یہ بھی نہیں چاہتی کہ وہ چوہدری فضل الٰہی بن جائیں۔
ویسے تو صدر کا عہدہ علامتی نوعیت کا ہے۔ موجودہ صورت میں ہمارا آئین ” صدر “ کو کوئی ایسا اختیار نہیں دیتا جو اسے غلام اسحاق خان یا آصف علی زرداری بناسکے۔ ممنون حسین چاہیں بھی تو وہ اپنی حدود سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ 2013ءمیں تبدیلی کا جو عمل عوام کے ہاتھوں پچھلی حکومت کے مکمل طور پر مسترد کئے جانے سے شروع ہوا اس کا دوسرا مرحلہ ایوان صدارت میں جناب آصف علی زرداری کی جگہ ایک نئے صدر کے براجمان ہوجانے سے طے پا جائے گا۔ اس کے بعد ہمارے آرمی چیف اور چیف جسٹس بھی ایک طویل مدت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہنے کے بعد ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ ان کی جگہ نئے چہرے لیں گے جن کی سوچ بھی یقینا اپنی ہوگی۔
گویا 2013ءبہت سارے نقطہءہائے نظر سے تبدیلی کا سال بن جائے گا۔ میں یہاں اس تبدیلی کا ذکر کرنا بھول گیا جو قومی سیاست میں عمران خان کی تحریک انصاف کی عظیم پیش رفت سے رونما ہوئی ہے۔اِس مہینے ہمیں بارگاہ ِایزدی میں دُعا کرنی چاہئے کہ تبدیلی کا یہ سلسلہ ` ہماری تقدیر کو بھی ایک انقلابی انداز میں بدل ڈالے۔
بدی کی دلدل میں پھنسا ہوا پاکستان اب مزید ذلت و رسوائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اگر ہمارے اندازِ حکمرانی اور اندازِ معاشرت میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئی تو پھرہمارے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا کہ ہم اس ” آئین “ کو بدل ڈالنے کی جدوجہد شروع کریں جو ہمیں مایوسیوں اور اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دے سکا۔

Scroll To Top