بھارت کی بغل میں کیا ہے ؟

aaj-ki-baat-new

ہر حکمران کو مملکت کی باگ ڈور سنبھالنے سے پہلے چند حقائق پور ے تیقّن کے ساتھ جان لینے چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ اس کی مملکت کے دشمن کون ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے اس ضمن میں ذہن کو زیادہ دوڑانا نہیں پڑتا۔ فوراً ہی ہمارا خیال پڑوسی ملک بھارت کی طرف جاتا ہے جو اسی روز سے ہمارے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی پر گامزن ہے جس روز ہم برصغیر کی تقسیم کرانے اور پاکستان کے نام سے اپنے لئے ایک الگ آزاد مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اگرچہ یہ سٹیٹمنٹ ایک ” کتابی تصور“ کے طور پر بڑی سہانی ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات نہایت خوشگوار ہونے چاہئیں ۔ لیکن اگر زمینی حقائق اس سٹیٹمنٹ کی نفی کرتے ہوں تو ہمیں اس حقیقت کو ایک لمحے کے لئے بھی اپنی سوچوں سے باہر نہیں نکالنا چاہئے کہ جو دشمن آپ کے پڑوس میں ہو وہ دُور کے دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک اور مہلک ہوا کرتا ہے۔ ہمیں اِس حقیقت کو اپنے ذہن میں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے اس خوفناک ” اعتراف “ کو یاد کرلینا چاہئے جو گزشتہ دنوں بھارت کے ایک اہم اہلکار نے یہ انکشاف کرکے کیا ہے بھارتی پارلیمنٹ پر 2001ءکا حملہ اور 2008ءمیں ممبئی والے خونریزواقعات خود بھارت کے خفیہ اداروں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے۔ مقصد پاکستان کو دہشت گردی کا ایک مسلّمہ سرپرست ثابت کرکے دیوار کے ساتھ لگانا تھا۔
میرا مقصد یہاں یہ کہنا نہیں کہ ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ رکھنے چاہئیں۔ میرا مقصد صرف اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں نہیں بھارت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ کو دور کرنے کے لئے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرے۔
کشمیر یقینی طور پر لاکھوں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ بھی ہے لیکن بنیادی طور کشمیر پاکستان کی معاشی بقاءکا مسئلہ ہے۔ گزشتہ دنوں جب ایتھوپیا نے دریائے نیل پر ایک ڈیم تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا تو مصر کا ردّعمل بڑا شدید اور فوری ہوا تھا۔
” دریائے نیل کے پانیوں کے بغیر مصر ایک وسیع ریگستان کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔“ مصری ترجمان نے فوراً بیان دیا تھا۔
کیا اپنے حصے کے پانی سے محروم کئے جانے کی مسلسل جاری بھارتی پالیسی کے باوجود پاکستان اپنے بدترین دشمن کے ساتھ بغلگیر ہونے کے لئے اپنے بازو اس قدر والہانہ انداز میں کھول سکتا ہے جس قدر والہانہ انداز میں ہمارے قومی رہنما اپنے بازو کھولنے کے لئے بے چین نظر آیا کرتے ہیں؟
بھارت پاکستان کو کھینچ کر اپنے اندر جذب کر لینے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ اگرچہ اس کی زبان پر دوستی کے نغمے ہیں لیکن بغل میں اس نے ایک زہر آلود چھری چھپا رکھی ہے جو وہ افغانستان کے راستے ہماری پشت میں گھونپنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔
(یہ کالم اس سے پہلے 30-7-2013 کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top