بلور خاندان ہی نہیںپاکستان کانقصان ہوا

zaheer-babar-logo

اے این پی کے ہارون بشیر بلور کی شہادت یقینا انتخابی مہم پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرگی۔ ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد گروہ کے پی کے میں بدستور متحرک ہیں۔ ہارون بلور سے قبل ان کے والد بشیر بلور کو بھی انتخابی مہم کے دوران ہی شہید کردیا گیا۔ بلور خاندان کے لیے باپ بیٹے کی شہادت کسی طور پر کم صدمہ نہیں مگر اس بھی بڑھ کر 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات بارے خدشات میں اضافہ ہوگیا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ بطور قوم ہمیں نہیں بھولنا چاہے کہ دہشت کو بطور ہتھیار استمال کرنے والے کمزور ضرور ہوئے مگر ختم نہیںہوئے۔ ارض وطن پر کئی دہائیوں سے لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر کشت وخون کا سلسلہ جاری ہے جو آسانی سے ختم نہیں ہونے والا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے دور اور نزدیک کے دشمن نے کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے مسلح گروہ منعظم کردیے ہیں جو آئے روز معصوم اور نہتے شہریوںکو قتل کرنے میںہرگز تامل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم میاں نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے برملا کہا تھا کہ دہشت گردوں کو اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے شہریوں کا قتل عام کرتے پھریں ، افسوس کہ مسلم لیگ ن نے اپنا وہ وعدہ نہ نھبایا۔ اہل پاکستان باخوبی جانتے ہیں کہ سیاسی قیادت انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پس وپیش سے کام لیتی رہی جس کا نتیجہ نہ نکلا کہ سانحہ پشاور کے بعد قتل وغارت گری کے کئی واقعات ہوئے۔
یہ تسلم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اگر ملک میں ضرب عضب اور اب ردالفساد جیسی کاروائیاں نہ ہوتیں تو حالات بد سے بد تر ہونے تھے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہے کہ محض چند سال پہلے تھ ملک کا شائد ہی کوئی شہر ایسا تھا جو بدامنی سے مبرا ہو، ان دنوں میں خودکش حملوں کے علاوہ دہشت گردی کی کئی کاروائیاں عام تھیں۔ اس میں شبہ نہیںکہ دہشت گردوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس اے این پی کو زیادہ نقصان پہنچایا مگر حوصلہ افزاءیہ ہے کہ اے این پی بدستور میدان میں موجود ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ن ہے کہ تین دن تک اس سانحے کا سوگ منائیں گے جبکہ اس کے بعد انتخابی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا دہشت گرد عوامی نیشنل پارٹی کو میدان سے باہر رکھنا چاہتے ہیں وہ پیٹھ پر وار کرنا چھوڑ دیں اور سامنے آ کر مقابلہ کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے میدان نہیں چھوڑیں گے۔ اسفندیار ولی کے مطابق پہلے بھی عوامی نیشنل پارٹی کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس میں بھی انہیں ناکامی ہوئی، تین روزہ سوگ کے بعد پارٹی کا اجلاس بلائیں گے اور اس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر کے کارکنوں کو اس کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے کا کہیں گے۔“
یقینا تازہ سانحہ بھلایا نہیں جاسکتا مگر قابل تحیسن یہ ہے کہ اے این پی پوری قوت سے میدان میں موجود ہے۔ بادی النظر میں کالعدم گروہوں کی کوشش ہے کہ ارض وطن میں سیاسی عمل آگے نہ بڑھنے پائے۔ یعنی سیاسی قوتیں خوف کا شکار ہو کر عام انتخابات کے ملتوی ہونے کا مطالبہ کرڈالیں مگر ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔ اب تک ملک کی ہر سیاسی ومذہبی جماعت نے جہاں دہشت گردی کی اس کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے شرپسندوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا ہے۔ حالات و واقعات کے بعد یہ بات پورے یقین سے کی جاسکتی ہے کہ ملک بھر کی سب ہی سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لیں گے اور عوام سے یہی اپیل کریں گے کہ وہ جمہوری نظام کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں یہ مطالبہ بھی بلاجواز نہیں کہ حکام اس ہم اس واقعے کی فوری تحقیقات اور حقائق عوام کے سامنے لائیں۔
یقینا پاکستان کے بدخواہ نہیں چاہتے کہ یہاں امن کا سوراج پوری قوت سے نکلے۔ پاکستان کا محل وقوع بھی اس سرزمین کے دشمنوں کو اس بات پر آمادہ کرچکا کہ وہ آئے روز اس کے خلاف سازشوں کا جال بنتے رہیں۔ یہاں اس سوال پربھی سوچ وبچار کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے زمہ دار ان تمام تقاضوںکو ملحوظ خاطر رکھے ہوئے ہیں جن کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ ناکامیوں کا بوجھ ایک دوسرے پر لادنے کی بجائے ان عوامل کا تجزیہ کرنا ہوگا جو اس حالیہ واقعہ کے رونما ہونے میں معاون بنیں۔ مثلا اب تک یہی ہوتا چلا آیا کہ کالعدم تنظیم نے پوری تیاری کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ معلوم کرنا ہوگا کہ خودکش حملہ آور کہاں سے آیا۔اس کے گھر رہا اور اسے ٹارگٹ تک کس نے پہنچایا۔ بلاشبہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خود احتسابی کا نظام مذید سخت کرنا ہوگا۔ جزا وسزا پر عمل درآمد کرکے ہی ان کوتاہیوں سے جان چھڑائی جاسکتی ہے جو پشاور واقعہ کی بنیاد بنے۔ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت ریاست کی بنیادی زمہ داری ہے۔ حکومت چونکہ ریاست کی نمائندگی کا فریضہ سرانجام دیتی ہے لہذا اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرے۔ نگران وزیر اعلی اور ان کی ٹیم کا امتحان ہے کہ وہ کتنے دنوں میں اس واقعہ کے درپردہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لاتے ہیں۔ اس ضمن میں بلور خاندان ہی نہیں ہر پاکستان منتظر ہے۔

Scroll To Top