انتخابات کا بائیکاٹ: بڑی سیاسی غلطی ہوگی، آصف علی زرداری

  • کوشش ہے کہ جمہوریت کی ٹرین کو پٹری سے نہ اترنے دیں،نوازشریف کی خصلت میں ڈنک مارنا ہے، کہا تھا کہ مل کر جمہوریت چلاو¿، وہ نہ مانے، ہم نے تو ایک بار نوازشریف کو بچایا بھی ،نوازشریف کو دوبارہ موقع ملتا ہے یا نہیں، یہ حالات پر منحصر ہے
  • فوج ایک ادارہ ہے، اگر یہ ٹوٹ جائے، تو ملک بھی ٹوٹ جاتا ہے، فوج کا ادارہ گورننس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے،الیکشن کا وقت ہے، احتساب کا نہیں، الیکشن کے بعد بھی احتساب کے مقدمات چلائے جا سکتے ہیں، سابق صدر کا انٹرویو
لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کی شریک چیئرمین آصف علی زرداری بلاول ہاﺅس میں پارٹی ورکرز سے خطاب کر رہے ہیں

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کی شریک چیئرمین آصف علی زرداری بلاول ہاﺅس میں پارٹی ورکرز سے خطاب کر رہے ہیں۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور(الاخبار نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نوٹس ڈیڑھ کروڑ کا آیا، مگر ڈھول 40 ارب کا بجایا جارہا ہے.ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک انٹرویو میں کیا. آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پہلے بھی ایسے مقدمات کا سامنا کیا، اب بھی کروں گا، خود پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کرتا ہوں، عدالت کا نوٹس براہ راست ملا، تو اگلے دن پیش ہوجاو¿ں گا. نوازشریف کو دوبارہ موقع ملتا ہے یا نہیں، یہ حالات پر منحصر ہے، ہماری کوشش ہے کہ ٹرین کو پٹری سے نہ اترنے دیں،ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ فوج ایک ادارہ ہے، اگر یہ ٹوٹ جائے، تو ملک بھی ٹوٹ جاتا ہے، فوج کا ادارہ گورننس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے.انھوں نے کہا کہ سیاست دان کبھی مرا نہیں کرتے، نوازشریف کو دوبارہ موقع ملتا ہے یا نہیں، یہ حالات پر منحصر ہے، ہماری کوشش ہے کہ ٹرین کو پٹری سے نہ اترنے دیں.آصف زرداری کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کا وقت ہے، احتساب کا نہیں، الیکشن کے بعد بھی احتساب کے مقدمات چلائے جا سکتے ہیں، اپوزیشن میں رہ کربھی ہم پرمقدمات چلتے رہے.انھوں نے کہا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا بڑی سیاسی غلطی ہوگی، جس نے بھی حکومت بنانی ہوگی، اسے پیپلزپارٹی سے بات کرنا پڑے گی، البتہ پیپلزپارٹی کبھی کسی غیرجمہوری قوت کے ساتھ نہیں چلی۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرکے کسی کو فری ہینڈ نہیں دیں گے، حکومت چلانےکےلئے بھی اپوزیشن کی ضرورت ہے.آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف کی خصلت میں ڈنک مارنا ہے، کہا تھا کہ مل کر جمہوریت چلاو¿، وہ نہ مانے، ہم نے تو ایک بار نوازشریف کو بچایا بھی تھا. کہاں ذوالفقار علی بھٹو اور کہاں میاں صاحب، میاں صاحب نے اپنا ٹرائل کا صحیح طریقے سے دفاع نہیں کیا.انھوں نے کہا کہ حسین لوائی کو ٹارچر کیا جارہا ہے، اس کی مذمت کرتا ہوں، منظور کاکا میرے دوست نہیں، نثار مورائی بھی پارٹی ورکر ہے. جو جیل گیا ہو، اسے پتا ہوتا ہے، اے، بی سی کلاس میں فرق ہوتا ہے۔ا?صف زرداری کا کہنا تھا کہ میرے خلاف جے آئی ٹی بن چکی ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نجف مرزا اس کے سربراہ ہیں. اپنے خلاف کیس کا دفاع عدالت میں کروں گا۔

Scroll To Top