سیاسی مقاصد کی خاطر فوج کو بدنام نہ کیا جائے

zaheer-babar-logo

وطن عزیز میں ایسے حلقوں کی کمی نہیںجو اپنے مخصوص مفادات کے لیے پاک فوج کو بدنام کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے سے لے کر پانامہ لیکس تک میاں نوازشریف اور ان کے ہم خیال یہی دہائی دے رہے کہ دراصل ایک سازش کے تحت انھیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اب لندن میںایون فلیڈ ریفرنس میں میاں نوازشریف اور مریم نواز کو قید اور جرمانے کی سزا کو بھی اسی انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔
25جولائی کو عام انتخابات ہونے جارہے چنانچہ پی ایم ایل این اور اس کی ہم خیال قوتیں معنظم انداز میں قومی اداروں کے خلاف مہم پرپاکیے ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں پاک فوج نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کرانے کا کام الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ہے تاہم فوج اس میں صرف اور صرف معاونت فراہم کرے گی۔آئی ایس پی آر کے سربراہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران افواج پاکستان کا کام صرف اور صرف الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہے ۔ انھوں نہ کہا کہ فوج کے لیے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر انتخابات کے دن الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے۔
وطن عریز میں عام انتخابات اس ماحول میںہورہے کہ بعض کالعدم تنظمیوں نے اعلانیہ طور پر سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ نگران وفاقی وزیر داخلہ کہہ چکے کہ عام انتخابات کے موقعہ قیام امن بڑا چیلنج ہے ۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہے تھا کہ تمام سیاسی قوتیں ہاتھوں میں ہاتھ دے کر سماج دشمن عناصر کے عزائم خاک میں ملادتیں مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ ملک کی ہر سیاسی ومذہبی قوت کو سمجھ لینا چاہے کہ پاکستان کے اندر اور باہر ایسی قوتوں کی کمی نہیں جو یہاں افراتفری کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ بطور قوم ہمیں ایک دوسرے سے دست وگربیاں کرنے کے لیے پیسے کا بے دریغ استمال کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا محل وقوع کئی اعتبار سے اس کے لیے چیلنج بن چکا ایسے میں لازم ہے کہ اب پھونک پھونک کر قدم رکھیں۔
حیرت اور ملال اس پر ہے کہ بعض سیاست دان اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کے اس قدر اسیر ہوچکے کہ وہ قومی تقاضوں کو پس پشت ڈالنے می ہرگز تامل کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ رہنماوں کو جان لینا چاہے کہ پاکستان کی سیاست اور معاشرت تیزی سے تبدیل ہورہی ۔ روایتی طور طریقوں کی بجائے اب نئے انداز سے مسائل حل کرنے کا وقت آن پہنچا۔ ملک میںجمہوریت بتدریج مستحکم ہورہی چنانچہ ایسے میں ہمیں صبر اور تحمل کا دامن نہیں چھوڈنا چاہے۔ دو منتخب حکومتیں اپنی مدت پوری کرچکیں۔ اب عام انتخابات کے بعد بفضل تعالی نے نئی حکومت زمام اقتدار سنھبال لے گی۔
کسی بھی ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے پر حملہ آور ہونا حیران کن نہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ ہر سیاسی جماعت ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کئی حربے استمال کرتی ہے ایسے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیںہونی چاہے۔ جو معاملہ قابل غور ہے وہ یہ کہ ہم اس عمل سے کس طرح اپنے ہاں نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔پاکستان ترقی یافتہ نہیں ترقی پذیر ملک ہے لہذا یہاں کے عوام سے مثالی سیاسی بالغ نظری کی توقع نہیں کرنی چاہے۔ ملک میں تو اب تک ایسا بھی ہوتا رہا کہ عوام نے ان چود ڈاکووں کو بھی اپنا نمائندہ بنا کر پارلمینٹ میں بھیج دیا جن کے بدعنوان ہونے میں خود انھیں بھی کوئی شک نہ تھا۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اپنی تازہ پریس کانفرنس میں جس طرح کھل کر باتیں کیں وہ یقینا ضروری تھیں مثلا ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار اور دیگر رہنماوں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ جیپ ہماری نہیں ہے میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام جسے ووٹ دیتی ہے اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم ہو گا اور ہم سے زیادہ میڈیا صاف شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کیپٹن ریٹائر صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے قواعد و ضوابط رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی“
۔ سابق وزیر اعظم میاںنوازشریف اور ان کی صاحبزادی 13جولائی کو ملک میں واپس آرہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی خواہش اور کوشش یہی ہے کہ کسی طرح ان کی آمد کو ایسا بنا دیا جائے جس کے نتیجے میں 25جولائی کے عام انتخابات میں انھیں فائدہ ملے۔ ادھر نگران حکومت نے میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزدی کا نام ای سی ایل میں ڈالتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انھیں ائرپورٹ سے ہی گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا جائیگا۔ آثار یہی ہیں کہ مسلم لیگ ن 13جولائی کو کوئی بڑا پاور شو کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی تازہ میڈیا بریفنگ بہت سارے مسائل کو مدنظر رکھ کی گی جس کے بعد کسی ابہام کی ضرورت باقی نہیں رہنی چاہے ۔

Scroll To Top