کرپشن کے بغیر کامیابی ممکن نہیں! 23-07-2013

kal-ki-baat
ابن خلدون محض ایک مورخ ہی نہیں تھے ` جدید پولیٹیکل سانئس کے موجد بھی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کا باہمی رشتہ جسم اور روح کا ہے۔ پولیٹیکل سائنس کا تعلق فرد ` معاشرے اور ریاست کے باہمی رشتے سے ہے۔ اسی رشتے کے ساتھ رموز ِمملکت اور حکمرانی و حکومت سازی کے اسرار جڑے ہوئے ہیں ۔
ابن خلدون نے اپنے ” مقدمہ “ میں وضاحت کے ساتھ لکھا کہ پورا معاشرہ ` اس کے افراد اور ریاستی ڈھانچہ ` مملکت کے سربراہ یا سلطان کے کردار کی عکاسی کیا کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک کرپٹ اور بداعمال حکمران کے تحت پورا معاشرہ اور اس کے افراد کرپشن اور بداعمالی کی تصویر بن جائیں گے۔
اس ضمن میں ابن خلدون کے الفاظ یہ تھے ” حکمران کے اعمال امورِ مملکت چلانے والے تمام افراد اور مملکت کے تمام شہریوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر حکمران بداعمال ہو تو ایک مرحلہ وہ آتا ہے جب مملکت اور معاشرے میں بداعمالی کو بداعمالی نہیں سمجھا جاتا اور لوگ مروجہ اخلاقی قیود کو کاروبارِ حیات سے نکال باہر پھینکتے ہیں۔“
اگر ہم پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو ہمارا معاشرہ آج ابن خلدون کے مندرجہ بالا الفاظ کا بڑا دیانت دارانہ عملی خاکہ پیش کرتا ہے۔
نظامِ حکومت کوئی بھی ہو۔۔۔ اس کی پہچان آمریت سے ہوتی ہو یا جمہوریت سے۔۔۔ کاروبارِ مملکت چلانا وہاں کی بیورو کریسی کا کام ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مملکت یا حکومت کا سربراہ فوجی آمر ہے ` بادشاہ ہے یا منتخب شدہ صدر ( یا وزیراعظم)ہے۔ ریاست کے معاملات بہرحال بیورو کریسی کے ہاتھوں میں ہی رہتے ہیں۔
اگر حکمران کرپٹ ہو اور بیورو کریسی اس کی شریک کار بنی ہوئی ہو ` تو کوئی دعویٰ یا بپان یا اعلیٰ و ارفع مقاصد کے ساتھ وابستگی کا بھرپور اظہار معاشرے میں سرایت کرنے والی کرپشن کو نہیں روک سکتا ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کرپشن کو کچھ اس شان سے گلے لگا لیا ہے کہ جیسے یہ کوئی معیوب چیز نہ ہو ہمارے لئے آگے بڑھنے اور کامیاب کہلانے کا واحد راستہ ہو۔
جب تک ” اوپر “ کے لوگوں میں بداعمالی اور کرپشن رچی بسی رہے گی تب تک نیچے کی سطح پر بھی کرپشن کا ہی راج رہے گا۔۔۔

Scroll To Top