نواز شریف ، مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل

  • حسن ، حسین نواز کے وارنٹ گرفتاری جاری
    اسحاق ڈار کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا فیصلہ
  • جن افراد کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ آ جائے اور وہ بیرون ملک ہوں تو قانون کے مطابق ان کا نام خود بخود ای سی ایل میں آجاتا ہے اور ایسا شخص جیسے ہی وطن واپس آتا ہے اسے ائیرپورٹ پر ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے،حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری وزارت داخلہ کے ذریعے انٹرپول کو ارسال
  • مفرور اسحاق ڈار کو بیرون ملک سے گرفتار کرنے کی نیب کی کارروائی شروع ،ملزم کے ریڈ وارنٹ کے اجرا کیلئے وزارت داخلہ کو خط ارسال، یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ٹی وی کیس کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے لیے متعلقہ اداروں کو تین روز کی مہلت دی تھی

نواز شریف ، مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل

اسلام آباد (این این آئی)وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل نیب نے فروری، جون اور جولائی میں نوازشریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کےلئے وزارت داخلہ کو خطوط لکھے تھے جس پر وزارت داخلہ نے اپنے طے شدہ طریقہ کار اور قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ جن افراد کے خلاف کوئی عدالت فیصلہ دے اور وہ بیرون ملک ہوں تو طے شدہ قانون کے تحت ان کا نام ای سی ایل میں آجاتا ہے اور اس قانون کے تحت مذکورہ شخص جیسے ہی وطن واپس آتا ہے اسے ائیرپورٹ پر ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ ادھر ایون فیلڈ ریفرنس میں حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری وزارت داخلہ کے ذریعے انٹرپول کو ارسال کر دیئے گئے۔ وارنٹ میں دونوں ملزمان کو فوری گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔میڈےا رپورٹس کے مطابق وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد دونوں ملزمان باقاعدہ اشتہاری قرار دیے گئے ہیں جب کہ ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری وزارت داخلہ کے ذریعے انٹرپول کو بھی ارسال کر دیے گئے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 11 اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 8 جب کہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلے میں نوازشریف کو 80 لاکھ پاو¿نڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاو¿نڈ جرمانہ بھی کیا ہے اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو ضبط کرنے کا بھی حکم دیا جب کہ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر پر جرمانہ نہیں کیا۔عدالتی فیصلے میں حکم دیا گیا تھا کہ حسن اور حسین مفرور ہیں انہیں اشتہاری ملزم قرار دیا جائے جب کہ عدالت نے دونوں کے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرکے گرفتار کرنے کا حکم دیا۔فیصلے میں کہا گیا ہےکہ حسین نواز نے خود تسلیم کیا کہ وہ لندن فلیٹس کے مالک ہیں، حسن نواز کے انٹرویو کے مطابق بھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ان کے زیر استعمال رہے۔واضح رہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے جب کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے 13 جولائی کو وطن واپسی کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ نیب ذرائع کہتے ہیں کہ انہیں بھی پاکستان واپسی پر گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا جائے گا۔دریں اثناءاثاثہ جات ریفرنس کیس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کرنے کا فیصلہ۔تفصیلات کے مطابق نیب نے سابق وزیر خزانہ کو بیرون ملک سے گرفتار کرنے کی کارروائی شروع کر دی۔اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ کے اجرا کیلئے وزارت داخلہ کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاقڈار کو وطن واپسی کے لیے تین روز کی مہلت دی تھی جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار ایم ڈی پی ٹی وی کیس میں ملوث ہیں، وہ سینیٹر ہیں پھر بھی بھاگے ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ اتنی بے بس ہوگئی ہے کہ سابق وزیر کو نہیں بلاسکتی، ڈار صحت مند ہیں اور وہاں چلتے پھرتے ہیں، ہم ان کا پاسپورٹ منسوخ کردیں گے اور ریڈ وارنٹ جاری کرنے پر بھی غور کریں گے۔

Scroll To Top