فوج کا کام شفاف انتخابات کے انعقاد میں محض الیکشن کمیشن کی معاونت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

  • عوام انتخابات میں جسے منتخب کریں گے وہی وزیر اعظم ہوگا،اگر ایک پولنگ بکس میں 100ووٹ ڈالے گئے تو 100ہی نکلنے چاہئیں ، ملک دشمن عناصر انتخابات کے بروقت انعقاد پرخوش نہیں
  • کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئےگا تو آرمی رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائےگی ،سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے ، اگر کوئی کام ملک کےخلاف ہو اتو اسے نظر انداز نہیں کیا جائےگا،میجر جنرل آصف غفور

ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (این این آئی) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ افواج پاکستان کا انتخابات میں براہ راست کوئی تعلق نہیں ،فوج الیکشن کے عمل کو غیر سیاسی غیر جانبدار ہوکر ادا کرےگی ،فوج کو انتخابی عمل میں بے ضابطگی خود دور کرنے کا اختیار نہیں تاہم اگر فوجی اہلکاروں نے کسی جگہ بے ضابطگی نوٹ کی تو ان کا کام الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنا ہے ،25 جولائی کو عوام اپنا حق اداکرینگے اور ملک کو جمہوری نظام کی طرف لیکر جائینگے ، پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں ہے لیکن انتخابات اپنی تاریخ پر ہی ہوں گے ،یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی جونیئر افسر کسی کو بلا کر کہے کہ انتخابات کا انعقاد اس طریقے سے ہوگا ،کچھ لوگوں کا مقصد ہے کہ افواج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے ،جیپ ہماری نہیں ، انتخابی نشان الاٹ کرنا افواج پاکستان کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے ،عوام جیسے ووٹ دیتے ہیں اس کے مطابق نتیجہ ہونا چاہیے ، کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائےگی ،سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے ، اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائےگا ،ہم خدا کی مخلوق ہیں ، پاکستان کے عوام کےلئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے فرائض انجام دیں گے ،عوام انتخابات میں کسے بھی منتخب کریں، ہمارے لیے وہی وزیر اعظم ہوں گے ، فوج کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہر پریس کانفرنس میں سوال ہوتا رہا کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں اور اس حوالے سے شکوک و شہبات کا اظہار ہوتا رہا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ تمام شکوک و شہبات نے دم توڑدیا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان ایک بار پھر الیکشن کی طرف جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تیسرا الیکشن ہے جو پاکستان میں جمہوری نظام کو جاری رکھے گا، خوشی کی بات ہے کہ پاکستان عوام اور سیاسی جماعتیں اس عمل کو کامیابی سے آگے لیکر جارہی ہیں اور 25 جولائی کو عوام اپنا حق اداکرے گی اور ملک کو جمہوری نظام کی طرف لیکر جائی گی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افواج پاکستان کا انتخابات میں براہ راست کوئی تعلق نہیں ، 2013ءکے الیکشن نسبتاً مشکل تھے۔انہوںنے کہاکہ افواج پاکستان کا کام الیکشن کمیشن آف پاکستان کی صرف معاونت فراہم کرنا ہے انتخابات کرانے کا کام الیکشن کمیشن کا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ افواج پاکستان الیکشن کمیشن کے حکم پر پہلے بھی انتخابات میں فرائض انجام دیتی رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ 2018 کے انتخابات میں فوج پہلی بارتعینات نہیں ہو رہی ہے ،1997 کے انتخابات میں 35 ہزار پولنگ اسٹیشن پر ایک لاکھ 92 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور 2008 کے الیکشن میں کوئیک ایکشن فورس نے ڈیوٹی دی۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کے دن ووٹر کسی بھی دباو¿ کے بغیر اپنا ووٹ کاسٹ کریں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق دیا ہے اس پر مکمل طور پر عمل کرنا اور 2018 کے انتخابات کے تناظر میں الیکشن کمیشن نے فوج سے صاف اور شفاف الیکشن کے انعقاد میں مدد مانگی ہے۔ انہوںنے واضح کیا کہ فوج الیکشن کے عمل کو غیر سیاسی غیر جانبدار ہوکر ادا کرےگی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں 6 کام دئیے ہیں، اس میں سب سے پہلے امن و امان کو بہتر کیا جائے، دوسرا بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا، اس کے علاوہ انتخابی سامان کی ترسیل کرنا ہے، پولنگ اسٹاف اور ریٹرننگ افسران کی سیکیورٹی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی فراہم کرنا افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور پہلی مرتبہ افواج کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ۔انہوںنے کہاکہ ملک بھر میں 85 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جو 48 ہزار 500 عمارتوں میں بنائے گئے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کےلئے افواج پاکستان کو 3 لاکھ سے 71 ہزار سے زائد اہلکار درکار ہیں.میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سرحدی صورتحال کے باعث اتنی نفری الیکشن کےلئے تعینات کرنا ممکن نہیں تھا، جس کی وجہ سے 5 سال قبل ریٹائرڈ ہونے والے فوجی اہلکاروں، پاکستان نیوی اور ایئرفورس کے اہلکاروں کو بھی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا جائےگا۔انہوںنے کہاکہ اگر کسی پولنگ بوتھ میں 100ووٹ ڈالے گئے تو وہاں نہ تو 99اور نہ ہی 101ووٹ نکلنے چاہئیں ۔انہوںنے کہا کہ فوج کےلئے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کےلئے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر کرنی ہے۔انہوںنے کہاکہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل جاری ہے اور 21 جولائی تک اس کا عمل مکمل ہوجائےگا اور فوج اس عمل میں صرف سیکیورٹی کےلئے موجود ہے اور اس کی ترسیل کے دوران الیکشن کمیشن کا افسر کی موجودگی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں پولنگ سے 3 دن پہلے سیکیورٹی کے تمام امور مکمل ہو جائیں گے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج، رینجرز اور پولیس کے جوان موجود ہوں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حساس پولنگ اسٹیشن میں 2 فوجی اندر اور 2 باہر ہوں گے جبکہ غیر حساس پولنگ اسٹیشن میں فوجی کے ساتھ ساتھ پولیس بھی موجود ہو گی اس سلسلے میں افواج پاکستان نے راولپنڈی میں سپورٹ سینٹر قائم کیا ہے، جو پورے پاکستان میں الیکشن کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرےگا۔انہوںنے کہاکہ انتخابات کی شفافیت یہ ہے کہ اگر بیلٹ باکس میں 100 ووٹ ڈالے گئے ہیں تو گنتی کے وقت ان کی تعداد یہی ہو اور ہر شخص ایک ہی ووٹ ڈال سکے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری پولنگ اسٹیشن کے باہر نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا، کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ ووٹرز سے زبردستی کرے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ میڈیا سے درخواست ہے کہ جو جوان ڈیوٹی پر ہو اس سے سوالات کرنے سے گریز کیا جائے اور انہیں میڈیا کے ساتھ رابطے میں نہیں لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اپنے جوانوں کا خیال کرتی ہے اور ان سے محبت کا اظہار یہی ہے کہ ان کی ڈیوٹی کی راہ میں خلل نہ ڈالا جائے۔انہوںنے کہاکہ ہماری کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی وابستگی نہیں ہے، میں عوام سے کہنا چاہوں گا کہ جتنی تعداد میں آپ ووٹ ڈالنے آئیں گے اتنے ہی صاف اور شفاف انتخابات ہوں گے۔ مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کونسے ایسے انتخابات تھے جس سے پہلے یہ نہ کہا گیا ہو کہ انتخابات دھاندلی زدہ ہیں، کوئی ایسے انتخابات بتائے جس سے پہلے کسی سیاسی جماعت کے رہنماو¿ں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی ہو۔انہوںنے کہاکہ جب دل اور دماغ کی سرجری کر رہے ہوں تو چھوٹے مسائل پر توجہ نہیں دیتے، افواج پاکستان نے 15 سال سے قومی فریضہ انجام دیا اور پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ سب کچھ برداشت کیا جو عام حالات میں برداشت نہیں کرسکتے، کچھ لوگوں کا مقصد ہے کہ افواج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کوئی شخص سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی کال کرے کہ ایسا کردیں تو ایسا ہوجائےگا۔انتخابات میں انجینئرنگ کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ یہ سب افواج پاکستان پر الزامات ہیں لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے کہا جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں ہے لیکن انتخابات اپنی تاریخ پر ہی ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی جونیئر افسر کسی کو بلا کر کہے کہ انتخابات کا انعقاد اس طریقے سے ہوگا، اس طرح کی چھوٹی باتوں کو اس طرح پیش کرنا کہ دھاندلی ہوگئی تو ایسا بالکل نہیں ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی تصویر کو انتخابی پوسٹر پر استعمال کرنے پر انہوںنے کہاکہ ہم نے اس معاملے پر نوٹس لیا۔چوہدری نثار اور دیگر رہنماو¿ں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنے پر انہوں نے کہا کہ انتخابی نشان نہ فوج اور نہ ہی آئی ایس آئی الات کرتی ہے ،یہ جیپ ہماری نہیں ہے اور انتخابی نشان الاٹ کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔انہوںنے کہاکہ جس کو ووٹ ڈالنی چاہتے ہیں وہ ڈالیں ،پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود جوان کی ذمے داری فری اینڈ فیئر الیکشن میں رکاوٹ نہ ہونے دینا ہے۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ ملتان کے واقعہ میں آئی ایس آئی کا کوئی کر دار نہیں ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ عوام جسے ووٹ دیتی ہے اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم ہوگا اور ہم سے زیادہ میڈیا صاف شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔سائبر حملوں کے معاملے پر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ خطرہ سب کو ہوتا ہے لیکن اس کے تحفظ پر کام کیا جارہا اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے اور کسی کو ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کراسکتے لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی شخصیات کو خطرہ ہے اور اس سلسلے میں ان کے تحفظ کےلئے اقدامات کیے جارہے ہیں اور ان شخصیات کو خود بھی احتیاط کرنی چاہیے۔پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کس ملک کا پاکستان کے انتخابات میں کتنا مفاد ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں۔کالعدم تنظیموں کی الیکشن میں شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا کہ کالعدم تنظیم کے افراد کا جائزہ لے، فوج کا انتخابی امیدوار کی اہلیت سے متعلق کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ ہماری امید ہے کہ ووٹرز گھر سے نکلے اور بلا خوف و خطر ووٹ ڈالے اور ہماری اولین ترجیح یہی ہے کہ ہم اس عمل میں کامیاب ہوں۔خلائی مخلوق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاست میں نہیں ہیں اور ہم رب کی مخلوق ہیں اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے فرائض انجام دیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام انتخابات میں کسے بھی منتخب کریں، ہمارے لیے وہی وزیر اعظم ہوں گے اور فوج کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

Scroll To Top