”آپ بھی وینٹی لیٹر پر چلے جائیں۔ دشمنوں کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔“

ہماری بیانک بیٹریاں ہمیں لندن پہنچانے ہی والی تھیں کہ فون کی گھنٹی بجی۔۔۔
” السلام علیکم بھائی ہمہ تن گوش۔“ بھائی واقف حال کی آواز بڑی ہشاس بشاش تھی۔
” وعلیکم السلام ۔۔۔ کیا بات ہے ؟ بڑے خوش لگ رہے ہیں آپ۔۔۔“ ہم نے کہا۔۔۔
” ہمیں بچپن میں چور سپاہی کھیلنے کا بڑا شوق تھا۔ چور ہمیشہ پکڑا جاتا تھا۔ اِس کھیل میں بھی بالآخر پکڑا گیا ہے لیکن کتنے سال لگے ؟ پورے چھبیس سال۔ ہم جب 1993ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے قیام کے بعد لندن گئے تھے تو اِن اپارٹمنٹس میں پورا شریف خاندان رونق افروز تھا۔ میاں صاحب انتخابات میں شکست کا غم بھلانے کے لئے شاپنگ کرنے لندن گئے ہوئے تھے۔ “ بھائی واقف حال بولے۔
” مگر آج کیوں خوش ہیں آپ۔۔۔؟“ ہم نے پوچھا۔۔۔
” آپ کو معلوم ہے کہ اچھے لطیفے ہمیں خوش کرتے ہیں ۔ ہم جب سینما میں نارمن وزڈم کی فلمیں دیکھا کرتے تھے تو ہنستے ہنستے کرسی میں اچھل اچھل پڑتے تھے۔۔۔ آپ نے ہمارے پاکستانی نارمن وزڈم کو گرفتاری دیتے وقت یہ کہتے سنا کہ لبیک یا رسول اللہ آپ کی حرمت پر جان بھی قربان ہے ۔۔۔؟“ بھائی واقف حال بولے۔۔۔
” اوہو۔۔۔ اِس میں خوش ہونے کی کیا بات ہے۔۔۔؟ “ ہم نے کہا۔۔۔” وہ شخص تو ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتا ہی رہتا ہے۔ ترسوں جب وہ کہیں چھپا ہوا تھا تو ہم بیانک بیٹریوں کی مدد سے اس کی آواز تک پہنچ گئے تھے۔ وہ کسی سے کہہ رہا تھا کہ بادشاہ کا کتا بن جانا چاہئے اس کا داماد نہیں۔ اللہ کا احسان ہے کہ ایک سال کے بعد جب جیل سے نکلوں گا تو آزادی کے پورے مزے لے سکوں گا۔ بس صرف یہ پریشانی ہے کہ کہیں میری اولاد مجھے پہچاننے سے انکار نہ کردے۔۔۔“
” آپ کا کیا خیال ہے۔ بادشاہ سلامت شہزادی صاحبہ کے ساتھ واقعی واپس آرہے ہیں؟“ بھائی واقف حال نے پوچھا۔۔۔
” آج ہم کوشش کریں گے اُن کے دل کا حال جاننے کی۔۔۔ ہم فریکوئنسی سیٹ کرکے لندن پہنچنے ہی والے تھے کہ آپ نے رخنہ ڈال دیا۔ “ ہم نے جواب دیا۔۔۔
” اچھا آپ تشریف لے جائیں لندن۔۔۔ ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ خدا حافظ ۔۔۔“ یہ کہہ کر بھائی واقف حال نے فون بند کردیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ہمارے کانوں سے مریم بی بی کی آوا ز ٹکرا رہی تھی۔
” ابا حضور ۔۔۔ کیا وہ سچ مچ ہمیں گرفتار کرلیں گے ۔۔۔؟“ ابھی ابھی خبریں سن رہی تھی کہ وہ پکا پلان تیار کررہے ہیں۔ میرا تو خون کھول رہا ہے۔ اُن کی اتنی ہمت ؟ انہیں معلوم نہیں کہ ہم کون ہیں۔؟ “
” بیٹی۔۔۔ تم تھوڑی دیر کے لئے خوابوں سے نکل آﺅ۔ اب ہم عالم پناہ نہیں۔ اور تم راجکماری نہیں۔ ہمارا تخت جاتی عمرہ میں ہے جہاں ہم جانہیں سکتے۔ اور تاج ہمارا ثاقب نثار کے قدموں میں پڑا ہے۔۔۔ مجھے تو آج پتہ چلا ہے کہ لندن بھی ہمارے لئے محفوظ نہیں۔ میں بھاگ کر اندر نہ آجاتا تو شاید مجھے بھی وینٹی لیٹر پر جانا پڑتا۔ ہم نے جو بدمعاش پالے ہوئے ہیں وہ کہاں تھے جب ان مسٹنڈوں نے ہمارے دروازے پر ٹھوکریں ماریں۔۔۔؟“ میاں صاحب بولے۔۔۔
” واہ ۔۔۔ابوجان۔۔۔ یہ آئیڈیا زبردست ہے۔۔۔“ مریم اچانک بولی۔۔۔
” کون سا آئیڈیا۔۔۔؟“ میاں صاحب نے پوچھا۔۔
” آپ بھی وینٹی لیٹر پر چلے جائیں۔ دشمنوں کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔ میں سب سے نمٹ لوں گی۔ “ مریم نے کہا۔۔۔
” تم ہوش میں تو ہو مریم۔۔۔؟میں جیتے جی وینٹی لیٹر پر چلا جاﺅں۔۔۔؟“
” ابا جان۔۔۔ ایسے جینے کا کیا فائدہ جس میں نیچے تخت نہ ہو اور سر پر تاج نہ ہو۔۔۔؟“ مریم بی بی بولیں۔۔۔
” تم ہمیشہ اپنے فائدے کی بات سوچتی ہو مریم۔۔۔ وینٹی لیٹر پر جانا مجھے قبول نہیں۔۔۔ تخت و تاج نہ سہی جینے کا اپنامزہ ہے۔ ابھی ابھی صفدر نے فون پر مجھے بتایا ہے کہ وہ نہایت آرام دہ کمرے میں زندگی کے مزے لے رہا ہے۔ مجھے ابھی جینا ہے مریم۔۔۔تمہیں صبر سے کام لینا ہوگا۔۔۔“
” ابا حضور ۔۔۔ مجھے پریشانی یہ ہے کہ لوگوں نے واقعی ووٹ کو عزت دے دی تو ہمارا کیا بنے گا۔؟“ مریم نے کہا۔۔۔
” کیا مطلب ۔۔۔؟“ میاں صاحب نے پوچھا۔۔۔
” کسی بدبخت نے مجھے یمسیج بھیجا ہے کہ وہ ووٹ کوعزت دے گا۔ ایک سزا یافتہ مجرم کو ووٹ دے کر ووٹ کو بے عزت نہیں کرے گا۔۔۔“ یہ مریم کی آواز تھی۔۔۔ جواب میں میاں صاحب نے کہا۔ ۔۔
” یہ آئیڈیا بھی تمہارا تھا۔ میں نے تو جنرلوں سے مخالب ہو کر کہا تھا کہ ووٹ کو عزت دو ۔۔۔ اور تم نے اسے پارٹی کا ترانہ بنا لیا۔ مجھے خواجہ کا فون آیا ہے کہ وہ لوگوں کے پاس ووٹ مانگنے جارہے ہیں تو جواب میں ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ تو خود ہی کہہ رہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو ۔۔۔ اب تو میاں صاحب کوسزا بھی ہوچکی ہے۔ کیسے ووٹ کو بے عزت کریں انہیں ووٹ دے کر۔۔۔؟“
” چھوڑیں اس قصے کو ابا حضور ۔۔۔ کیا ہمیں پاکستان جانا چاہئے۔۔۔ ؟“ یہ مریم کا سوال تھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ میا ں صاحب جواب دیتے فضا میں ایسا شور اٹھا کہ لندن سے بیانک رابطہ فوراً ٹوٹ گیا۔۔۔

Scroll To Top