آصف علی زرداری کا احتساب بھی ہونے جارہا ؟

zaheer-babar-logo

احتساب بیورو کی جانب بدعنوانی کے خلاف کاروائیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ تازہ پیش رفت میں عدالت عظمی نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت سات افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ عدالت عظمی نے ان افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم چند روز قبل آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی حسین لوائی کے خلاف درج ہونے والے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ہونے والی ابتدائی تفتیش کی بنا پر دیا ۔
وطن عزیز میں کئی دہائیوں سے پیسے کی بیرون ملک منتقلی کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ظاہر اس کھیل میں بااثر سیاست دان ، بیوروکریسی ، کاروباری حضرات نمایاں ہیں۔ بادی النظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان سے دیگر ملکوں میں پیسے طے شدہ حکمت عملی کے تحت منتقل کیا جارہا ہے تاکہ کالے دھن کو سفید کیا جاسکے۔ یہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آخر یہ سلسلہ کیونکر تھم نہیں رہا وجہ صاف ظاہر ہے کہ طاقتور حضرات یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تازہ کاروائی میں جو لوگ پکڑ میں آئے ہیں ان میں نصیر عبداللہ، آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور مصطفی ذوالقرنین شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن صوبہ سندھ سے رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت سات افراد کے نام سٹاپ لسٹ میں ڈال دئیے ہیں۔
دراصل حسین لوائی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کیا ۔ گذشتہ روز ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن نے اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو آگاہ کیا ۔ معاملے کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے درخواست بھی دے رکھی ہے جس کے مطابق بشیر میمن کے بھائی کراچی کے ایک حلقے سے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اس لیے انھیں اس عہدے سے ہٹایا جائے۔اس پر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ڈی جی ایف آئی اے کو عدالت عظمی کو بتائے بغیر انھیں کسی دوسری جگہ ٹرانسفر نہ کیا جائے۔ادھر عدالت عظمی نے سٹیٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل کے سربراہان کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جعلی بینک اکانٹس کی تحقیقات کیلئے پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں مالیاتی ماہرین بھی شامل ہوں۔
دراصل اس سکینڈل میں تحقیقات کے دوران 4 اکاونٹس کی نشاندہی ہوئی۔ پھر29 اکاونٹس کا پتہ چلا جن میں سے 16 سمٹ بینک، 8 سلک بینک اور 5 یو بی ایل کے اکاونٹ تھے۔ یہ اکاونٹس 7 لوگوں سے متعلق تھے جن سے 35 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔
وطن عزیز میں اب تک یہی ہوتا چلاآرہا کہ قومی خزانے کو بے دردی لوٹا گیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں قانون طاقتور کے سامنے کمزور جبکہ کمزور کے سامنے طاقتور ہے۔ چونکہ سیاست کا یہاں کاروبار بن چکا لہذا ملک کو شائد ہی کوئی امیر خاندان ہو جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاست سے مستفید نہ ہورہا ہو۔ بظاہر بعض سیاسی جماعتیںدراصل ایک دوسرے کو بدعنوانی کے مقدمات میںسہارا دینے کی پالیسی پرگامزن ہیں جس کا نقصان ملک وملت کو ہورہا ۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے بارے عممومی تاثر یہی ہے کہ مذکورہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو بدعنوانی کے مقدمات میں مدد فراہم کرتی رہی۔ میثاق جمہوریت پر بھی بڑا الزام یہی ہے کہ اس کے زریعہ پی ایم ایل این اور پی پی پی نے باری باری اقتدار میں آنے کا پروگرام ترتیب دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا یہ کارنامہ کم اہمیت کا حامل نہیں کہ انھوں نے اپنی بھرپور جدوجہد کے زریعہ عوام کو یہ باور کروانے میں کامیابی حاصل کی کہ مذکورہ دونوں جماعتیں اندر سے شیروشکر ہیں جنھیں عام آدمی کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کو عدالتوں سے سزا ہوجانے کے بعد سابق صدر زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کا کھل جانا اہم پیش رفت ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ قومی احتساب بیورو کسی طور پر کسی بھی دباو میں آنے کو تیار نہیں لہذا وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسا ناممکنات میں سے نہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ”جمہوریت “ کے نام پر اکھٹی ہوجائیں اور قومی اداروں کے خلاف محاذ بنا لیں۔ ایسی خبریں بھی گردش کررہیں کہ دونوں سیاسی جماعتیں تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں اور جلد ہی ان کے مشترکہ حکمت عملی کے آثار ظاہر ہوسکتے ہیں۔
وطن عریز میں احتساب کا جاری وساری رہنا آسان نہیں۔ ایسی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ جب مصلحت سے کام لیتے ہوئے زمہ دار اداروں نے اپنے فرائض منصبی ادا نہ کیے ۔یہی وجہ ہے آج بھی نیب کی ہر کاروائی کو شکوک وشبہات سے دیکھا جاتا ہے۔مگر سمجھ لینا چاہے کہ گزرے ماہ وسال کی کوتاہیاں ایک طرف مسقبل میں احتساب بیورو غیر جانبداری اور شفافیت سے اپنی ساکھ بحال کرسکتا ہے۔
۔

Scroll To Top