صوابدیدی اور ڈیویلپمنٹ فنڈز کی آڑ میں عوام کی دولت پر ڈاکے ! 19-07-2013

kal-ki-baat
پاکستان میں کرپشن کے کلچر کو جو تحفظ خود برسراقتدار سیاست دان اور ان کے ساتھ کام کرنے والے اکابرین مملکت دیتے ہیں اس کا اندازہ اس آڈٹ رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو صوابدیدی فنڈز کے استعمال کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے۔اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم پرویز اشرف نے 37ارب روپے حکمران جماعت پی پی پی اور اس کے اتحادیوں میں بانٹے۔ اور قومی دولت کی یہ فیاضانہ تقسیم انتخابی حلقوں میں ڈیویلپمنٹ کے کام کرانے کی آڑ میں ہوئی ۔
اس شرمناک کیس کے حوالے سے قوم کے سامنے ہمارے حکمران کلچر کا ایک سیاہ پہلو سامنے آیا ہے۔ جس جماعت کو بھی اقتدار ملتا ہے اس کی قیادت عوام کے خون پسینے کی کمائی سے وصول کئے جانے والے ٹیکسوں کی رقم اپنے منظورانِ نظر اور حلیفوں کے درمیان ڈیویلپمنٹ فنڈز کے نام پر تقسیم کردیتی ہے `جس سے انتخابی عمل پر خرچ ہونے والی تمام رقم ”وافر منافع “ کے ساتھ ” عوامی نمائندوں “ کو مل جایا کرتی ہے۔ جس جمہوریت کا راگ بڑے زور و شور کے ساتھ الاپا جاتا ہے اس کے حقیقی فیض یافتگان ڈیویلپمنٹ فنڈز کی کثیر رقوم اس انداز میں ہڑپ کرنے والے منظورانِ نظر ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی برکات سے فیض پانے والوں میں وہ ” خواتین “ بھی ہوتی ہیں جن کی ایک بڑی تعداد انتخابی عمل میں حصہ لئے بغیر صرف اپنے ” تعلقات “ کی بناءپر اسمبلیوں میں پہنچ جایا کرتی ہے۔
اگر اسے بدترین قسم کی کرپشن اور قومی خزانے پر ایک بڑا منظم ” ڈاکہ “ نہ کہا جائے تو پھر کیا کہا جائے۔؟
جمہوریت کو اصلاحات کے عمل سے گزارنے کی جو بات کی جاتی ہے اس کی طرف پہلا قدم یہی ہوگا کہ صوابدیدی اور ڈیویلپمنٹ فنڈز کی آڑ میں ہونے والی لوٹ مار کے تمام راستے بند کردیئے جائیں.

Scroll To Top