نوازشریف نے اگر کوئی قربانی دی ہے تو صرف اور صرف اپنے ضمیر کی قربانی دی ہے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new

مال و دولت اور کاروبار کی جس عظیم سلطنت کو تعمیر کرنے اور کرہءارض کے طول و عرض میں پھیلانے کے لئے میاں نوازشریف اور ان کے خاندان نے اخلاقی اقدار اور اجتماعی ضمیر کی اتنی قربانیاں دی ہیں اسے بچانے کے لئے وہ آخری حد تک جائیں گے ۔۔۔ ان کی آخری حد کیا ہے ۔۔۔؟ میں اس سوال کا جواب آج نہیں دے سکتا۔۔۔ بہت ساری حدیں وہ بہت پہلے عبور کرچکے ہیں۔۔۔ جب انہوں نے ڈان کے ایک متنازعہ رپورٹر سرل المائیڈا کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور جب انہوں نے بالواسطہ طور پر پاک فوج کو خطے کے عد م استحکام کا ذمہ دار قرار دیا تو انہو ں نے اپنے اس عزم میں کوئی ابہام نہیںچھوڑا کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے اعمال کی پاداش میں ہونے والے فیصلوں کو قبول نہیں کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو کھل کر ان بین الاقوامی قوتوں کا ساتھ دیں گے جو پاکستان کو عدم استحکام کے اندھے کنویں میں دھکیل کر اسے اس کے ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنا چاہتی ہیں۔۔۔
مریم نواز نے اپنے والد کی جن قربانیوں کا ذکر کیا ہے ان سے انکار ممکن نہیں۔۔۔ انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا ضمیر ہوتا ہے۔۔۔ میاں نوازشریف اپنا یہ اثاثہ اپنی حرص و ہوس پر قربان کرچکے ہیں۔۔۔
میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ نیب نے انہیں کرپشن کے الزام سے بری قرار دے دیا ہے۔۔۔ بے ضمیر آدمی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ سچ کا سامنا کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرتا ہے۔۔۔ جس محل نما عظیم الشان اپارٹمنٹ میں بیٹھ کر وہ اپنے آپ کو کرپشن سے پاک قرار دے رہے ہیں وہی ان کی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔ اگر وہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کو غور سے پڑھ لیتے تو وہ جان جاتے کہ کرپشن کے نتیجے میں تعمیر ہونے والی ” سلطنتِ زر “ خود کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہے۔۔۔دولت کے ہر بڑے انبار اور ہر بڑے پہاڑ کے پیچھے سے اتنا ہی بڑا جرم جھانک رہا ہوتا ہے۔۔۔ یہ تو خود میاں نوازشریف نے دنیا کو بتانا ہے کہ انہوں نے مال و دولت کی وہ سلطنت مریم جسے اپنا ورثہ سمجھتی ہیں کیا کیا جرم کرکے بنائی ۔۔۔
جرم کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ خود بولتا ہے۔۔۔ اگر ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کسی جرم کے نتیجے میں شریف خاندان کی ملکیت نہ بنے ہوتے تو اس خاندان کے افراد کو اتنے سارے جھوٹ نہ بولنے پڑتے اور دو سال قبل ہی مطلوبہ گمشدہ منی ٹریل کو دنیا کے منہ پر دے مارا جاتا۔۔۔
مریم صاحبہ نے اپنی واپسی کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔۔۔ مگر جو خاندان اپنی ” خاتونِ اول“ کی زندگی اور موت کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی سطح پر اتر سکتا ہے اس کی کسی بھی بات کا اعتبار نہیں کیاجاسکتا۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا بھی نیلسن منڈیلا جیسے عظیم ہیرو کی توہین ہے کہ میاں نوازشریف نیلسن منڈیلا بننے کی کوشش نہ کریں۔۔۔
نوازشریف کا موازنہ صرف اور صرف مارکوس سے کیا جاسکتا ہے۔۔۔ مگر میرے خیال میں مارکوس اتنا بڑا چور نہیں تھا۔۔۔ اتنا بڑا ضمیر فروش بھی نہیں۔۔۔
مودی جیسے موذی کے ساتھ گرمجوشی کے ساتھ بغلگیر ہونے سے بڑی ضمیر فروشی کیا ہوسکتی ہے ۔۔۔؟

Scroll To Top