پی ٹی آئی منشور، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائینگے:کڑا احتساب،50لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرینگے: عمران خان

  • پانی کاضیاع روکنے کےلئے فوری طور پرڈیمز تعمیر کریں گے، قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی بنائیں گے ، خارجہ پالیسی باہمی مفادات پر استوار کریں گے
  • دفاعی صلاحیت یقینی بنانا ہماری دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا ،فوری انصاف کےلئے عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کریں گے ،
اسلام آباد:۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان انتخابی منشور پیش کر رہے ہیں،اسد عمر، فواد چوہدری ، شیریں مزاری ، شبلی فراز اور عارف علوی بھی موجود ہیں

اسلام آباد:۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان انتخابی منشور پیش کر رہے ہیں،اسد عمر، فواد چوہدری ، شیریں مزاری ، شبلی فراز اور عارف علوی بھی موجود ہیں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابی منشور پیش کردیا ہے جس میں کرپشن کے خاتمے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا کوئی آسان حل نہیں ہے ، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائینگے ، آنے والی حکومت کےلئے معیشت بڑا چیلنج ہوگا ، گور ننس سسٹم میں تبدیلی سے جدت لا سکتے ہیں ، کوئی نہ سمجھے ہم منشور کو آسانی سے لاگو کرینگے ، ہمیں اپنے ہی منشور پر عمل کرنے کےلے سخت محنت کرنا پڑےگی ،پانچ سالوں میں 50 لاکھ گھر فراہم کریں گے ، پانی کاضیاع روکنے کےلئے فوری ڈیم تعمیر کریں گے، قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی بنائیں گے ، خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات پر استوار کریں گے ،تنازعہ کشمیر کے حل پر کام کا آغاز کریں گے ،کم ازکم دفاعی صلاحیت یقینی بنانا ہماری دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا ،فوری انصاف کےلئے عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کریں گے۔ پیر کو انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا کوئی آسان حل نہیں ہے ،ہمارا ویژن ہے کہ ہم ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے ،آنے والی حکومت کےلئے معیشت بڑا چیلنج ہوگا، ہم گورننس سسٹم میں تبدیلی سے جدت لاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی نہ سمجھے ہم منشور کو آسانی سے لاگو کریں گے، ہمیں اپنے ہی منشور پر عمل کرنے کےلئے سخت محنت کرنا پڑے گی۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں ریونیو اکٹھا کرنے کا نظام ہی نہیں ، یہ بھی ایک چیلنج ہے کہ پیسہ کیسے اکٹھا کرنا ہے اس کےلئے ایف بی آر میں اصلاحات بہت ضروری ہیں کیونکہ وہاں پیسہ کرپشن سے ختم ہوجاتا ہے، اگر پیسہ اکٹھا کرنا ہے تو ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس وقت لوگ سمجھتے ہیں ان کا ٹیکس حکمرانوں کے لائف اسٹائل پر ضائع ہوتا ہے ،ہم حکمرانوں کی عیاشی ختم کریں گے، عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کریں گے، لوگوں کو جب ایک بار یقین آجائےگاکہ پیسہ ان پر خرچ ہوگا تو قوم ٹیکس دےگی۔عمران خان نے کہاکہ اس وقت ملک میں کرپشن ہے اور ادارے تباہ ہیں، 10 ارب ڈالر ہر سال پاکستان سے باہر جاتا ہے، اس لیے کرپشن پر قابو پانا سب سے اہم ہے، اس پر قابو پانے کےلئے نیب اور ایس ای سی پی بہت اہم ہیں، جب کرپشن پر قابو پائیں گے تب ہی اتنا پیسہ ہوگا کہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں۔انہوں نے کہاکہ ہم کم قیمتوں پر گھروں کی اسکیم لے کر آرہے ہیں ،پانچ سالوں میں 50 لاکھ گھر فراہم کریں گے، یہ بلین ٹرین سونامی کی طرح چینج لیا ہے، اس میں انگلینڈ کے سب سے بڑے بلڈر کی مدد لے رہے ہیں، لوگوں کو تعمیرات کی وجہ سے نوکریاں ملیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ سی پیک ہمارے لیے بڑا موقع ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں، سی پیک گیم چینجر نہیں لیکن بن سکتاہے۔عمران خان نے بتایا کہ پانی کاضیاع روکنے کےلئے فوری ڈیم تعمیر کریں گے، قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی بنائیں گے، آبی تنازعات کے حل کیلئے ہر ممکنہ فورم استعمال کریں گے، تعلیم و روزگار کے لیے نوجوانوں پر خصوصی سرمایہ کاری کریں گے، ملک بھر میں دس ارب درخت لگائیں گے، ماحولیاتی تغیر سے نمٹنے کیلئے سبزپیداوار کا علم اٹھائیں گے۔انہوںنے کہاکہ اندرونی وبیرونی سلامتی پالیسی کےلئے پالیسی سازی کے ڈھانچے کی اصلاح کریں گے، خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات پر استوار کریں گے اور خارجہ پالیسی بین الاقوامی روایات کی پاسداری کے اصولوں پر بنائیں گے ، تنازعہ کشمیر کے حل پر کام کا آغاز کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ کم ازکم دفاعی صلاحیت یقینی بنانا ہماری دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا، مساوات کےاصول کے پیش نظر بھارت کواسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دیں گے۔عمران خان نے کہاکہ انتظامی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات سے کراچی میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔انہوںنے کہاکہ 60 کی دہائی میں پاکستان کی بیوروکریسی غیر سیاسی تھی تو مثالی تھی، بیوروکریسی کو سیاسی بنا کر نااہل بنا دیا گیا ہے،ادارے جو ہیں انہیں تباہ کیا گیا ہے، پاکستان میں پولیس سیاسی انتقام کےلئے استعمال ہوتی ہے،سیاسی استعمال پر پولیس بدعنوان اور نا اہل ہو گئی۔انہوں نے بتایا کہ پختون خوا میں بیوروکریسی کو غیر سیاسی کرنے کی پوری کوشش کی، پاکستان کو دلدل سے نکالنے کےلئے دو اہم کام ہیں، اداروں کو غیر سیاسی کرنا اورلوگوں پر پیسے خرچ کرنا، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کی ذمہ داری لے،منشور میں غریبوں کےلئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ کاروبار کی حوصلہ افزائی کےلئے اقدامات منشور کا حصہ ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے تمام چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں، پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ امیر ہورہا ہے، ملک میں ریوینیو اکٹھا کرنے کا نظام نہیں ہے اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اکثریت غریب ہورہی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ سب خیبرپختون خوا میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کا سوال کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے کے پی میں پولیس ایکٹ پاس کیا، کے پی پولیس میں سزا اور جزا کا نظام لائے، پولیس کا نظام بہتر ہونے سے جرائم اور دہشتگردی میں کمی ہوئی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کےلئے ہر سال 4 نئی جگہیں متعارف کروائیں گے، سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور نوکریاں بھی پیدا ہوں گی، فصلوں کےلئے گودام بنائے جائیں گے جبکہ دیامر بھا شاڈیم کو بھی بنایا جائے گا، فوری انصاف کے لیے عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کریں گے، گلگت بلتستان کو مزید اختیارات سونپیں گے اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے جبکہ فاٹا انضمام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو کرپشن کی دلدل سے نکالنے کےلئے 2 طریقے ہیں، اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور ٹیکس کو عوام کی فلاح پر خرچ کیا جائے، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار پولیس اہلکاروں کو کرپشن کی وجہ سے نکالا گیا۔تحریک انصاف کے منشور کے مطابق پی ٹی آئی قومی احتساب بیورو کو خود مختار بنائےگی اور کرپشن کے تمام مقدمات کا پیچھا کیا جائےگا۔منشور میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی عوام کو با اختیار بنائیں گی اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات اور فیصلہ سازی گاو¿ں کی سطح تک منتقل کرےگی۔پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی طرز پر غیر سیاسی پولیس کا ماڈل دیگر صوبوں میں بھی متعارف کروائے گی۔شہریوں کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کیلئے ہم عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کریں گے۔انتخابی منشور میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہم انتظامی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات اور عوام کو خدمات کی فراہمی کے ذریعے کراچی میں انقلابی تبدیلیاں برپا کریں گے۔منشورکے مطابق بلوچستان میں مفاہمت کو فروغ دیا جائے گا، جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کی حمایت کی جائےگی اور گلگت بلتستان کو مزید اختیارات دیے جائیں گے اس کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع سے غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی طریقہ کار اپنایا جائے گا اور غربت کے خاتمے کی موجودہ کاوشوں کو مزید تقویت پہنچائی جائے گی۔اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور قومی معاملات میں سمندر پار پاکستانیوں کے کردار میں اضافہ کیا جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ ہم توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو کم اور دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔عمران خان کی جانب سے پیش کردہ منشور میں کہا گیا کہ زراعت کو کسان کے لیے منافع بخش بنائیں گے، پیداواری لاگت کم کریں گے، زرعی منڈیوں کی اصلاح کریں گے اور ویلیو ایڈیشن میکانائزیشن کےلئے سہولیات کی فراہمی کا بیڑا اٹھائیں گے۔ہم لائیو اسٹاک کے شعبے میں نمایاں بہتری لائیں گے، پاکستان کو دودھ اور دودھ سے حاصل ہونے والی مصنوعات میں خودکفیل بنائیں گے اور برآمد ات میں اضافے کیلئے گوشت کی پیداوار بڑھائیں گے۔ہم ماہی گیری کی صنعت بحال کرینگے اور مچھلی کے ذخیرے میں اضافہ کریں گے۔پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق تحریک انصاف تعلیم کی اصلاح کے مجموعی ایجنڈے کے تحت ملک بھر کے اسکولوں، جامعات، ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز اور دینی مدارس میں اصلاحات متعارف کرائے گی ،ہم صحت کے شعبے میں بھی انقلاب لائیں گے صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار پورے ملک میں وسیع کیا جائے گا ،ہم تعلیم اور روزگار میں درپیش مسائل کو دور کرتے ہوئے نوجوانوں پر خصوصی سرمایہ کاری کی جائے گی ،پاکستان ہم سب کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا اور ماحولیات کے تغیر کو مٹانے کے لیے 10 ارب درخت لگائے جائیں گے۔ منشور کے مطابق عالمی سطح پر اسلحے پر قابو پانے اور اس کے عدم پھیلاو¿ کے اقدامات کے حوالے سے مساوات کے اصول کے پیشِ نظر بھارت کو اسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دی جائے گی۔انتخابی منشور کے مطابق یہ واحد صوبہ ہے جس نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کیے اور ترقیاتی فنڈز کا 30 فیصد حصہ مختص کیا، یہاں پولیس کو غیر سیاسی بنایا گیا اور اہلیت کی بنیاد پر پیشہ وارانہ نظام نافذ کیا۔صحت کے بجٹ میں 3 گنا اضافہ کیا ،70 فیصد مستحق گھرانوں کو ’صحت انصاف کارڈ‘ کا اجرا کیا گیا اور ہسپتالوں میں 5 ہزار بستروں کااضافہ کیا۔تعلیم کےلئے کم از کم 20 فیصد سالانہ بجٹ فراہم کیا، اہلیت کی بنیاد پر 57 ہزار اساتذہ بھرتی کیے اور 10 ہزار اسکول، 47 کالجز اور 10 جامعات قائم کیں جبکہ بون چیلنج کو پورا کرتے ہوئے صوبے میں ایک ارب درخت لگائے۔

Scroll To Top