پاکستان کو ہیروز کی ضرورت ہے ! 18-07-2013

kal-ki-baat

ہوسکتا ہے کہ میری یہ رائے غلط ہو لیکن پھر بھی اس کا اظہار پورے اعتماد کے ساتھ کروں گا کہ جب ہرطرف مایوسی کے اندھیرے چھائے ہوئے ہوں اور اچھی خبریں سننے کے لئے کان ترس گئے ہوں تو اِس ملک کے بدقسمت عوام کے چہروں پر رونق اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے کے لئے کرکٹ کے میدان میں ایک ایسی جیت ہی کافی ہوتی ہے جیسی جیت 14تاریخ کی رات کو ہمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف حاصل ہوئی۔
یہاں میں یہ سٹیٹمنٹ دینے کی جسارت بھی کروں گا کہ ہمیں ہماری 65سالہ تاریخ میں جتنی زیادہ دل خوش کن خبریں کرکٹ کے میدان سے ملی ہیں زندگی کے کسی اور شعبے سے نہیں ملیں۔ چہروں پر رونق لانے اور ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والی اِن خبروں کا سفر62برس قبل کے لکھنوٹیسٹ سے شروع ہوتا ہے ۔1954ءکے اول ٹیسٹ میں پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف فتح سے گزر کر دیگر تمام ٹیموں کے خلاف تاریخی کامیابیوں سے گزرتا ہوا 1992ءکے ورلڈ کپ تک پہنچتا ہے جس نے قوم کو عمران خان اور وسیم اکرم جیسے ہیروز دیئے۔
اِس قوم کو ہیروز کی تلاش ہمیشہ رہی ہے۔ قائداعظم ؒ کے بعد سیاست کے میدان میں اسے بھٹو مرحوم کے علاوہ کوئی بڑا ہیرو نہیں ملا۔ بھٹو مرحوم بھی بہرحال ایک متنازعہ ہیرو تھے۔
ایک ہیرو جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گا اے کیو خان ہے۔
کچھ ہیروز ہمیں ہاکی اور سکوائش سے بھی ملے لیکن سب سے زیادہ ہیروز ہمیں کرکٹ نے ہی دیئے ہیں۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ آج جو شخص سیاست کے افق پر اپنا مقام پیدا کرنے کے مراحل سے گزر رہا ہے ¾ اس کی شہرت اور مقبولیت کا سفر بھی کرکٹ کے میدان سے ہی ہوا۔ میری مراد عمران خان سے ہے ۔ آج کوئی بڑا ہیرو سامنے نہیں آرہا۔ جہاں تک شاہد آفریدی کا تعلق ہے ¾ انہیں قوم 16برس سے جانتی ہے۔ بلاشبہ وہ ایک ہیرو ہیں۔ اور یہ بات انہوں نے 14جولائی 2013ءکی رات کو ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ ثابت کردی۔ اس روز قوم جب سحری کے لئے اٹھی تو شاہد آفریدی ہم سب کے چہروں اور ہونٹوں پر مسکراہٹیںبکھیرنے کا انتظام کرچکے تھے۔
دو روز بعد یعنی 16جولائی کی رات کو ہمارے چہروں پر سے وہ چمک غائب ہوگئی جو 14جولائی کو پیدا ہوئی تھی۔
ہارجیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں ہمیشہ جیت کے یقین کے ساتھ ہی کھیلنا چاہئے۔ ہماری موجودہ ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ مجھے یہی نظر آتا ہے کہ اس کے کپتان کو کھیل کے میدان میں ہار کا خوف کچھ زیادہ ہی رہتاہے۔ مصباح الحق ایک بہت اچھے کھلاڑی ہیں۔ لیکن ان کی اولیت آجکل یہ ہے کہ اپنے آپ کو اگلے ورلڈ کپ میں کپتانی تک قائم رکھیں۔یہی وجہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں انہیں وہ ” دبا“ کر رکھناچاہتے ہیں۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ وہ اُس ” حفیظ“ کو بالنگ کے شعبے میں پرفارم کرنے کا موقع نہیں دے رہے جوکچھ عرصہ پہلے تک عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر تھے ؟ پھر شاہد آفریدی کے ساتھ ان کا سلوک سب کو معلوم ہے۔
جنید خان کا تو وہ نام بھی بھول گئے ہیں۔
اگلا میچ 19جولائی کو ہے۔
کیا اسد شفیق کو ریسٹ دیا جائے گا؟ وہ بہت اچھے بیٹسمین ہیں لیکن انہیں ٹیسٹ میچوں کے لئے ” محفوظ“ رکھنا چاہئے۔ ون ڈے کے میچوں میں ان کی مسلسل ناکامی سے ان کا اعتماد بالکل ختم ہوجائے گا۔
بہرحال سلیکشن کمیٹی کا ایک نیا سربراہ سامنے آچکا ہے۔
اگرمعین خان کو پور ے اختیارات حاصل رہے تو وہ ایک وننگ کمبی نیشن تیار کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کو ہیروز کی ضرورت ہے۔۔۔

Scroll To Top