نگران حکومت اور نیب کی نااہلی

zaheer-babar-logo

یقینا قومی احتساب بیورو اور نگران حکومت کی کارکردگی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری سے پوری طرح بے نقاب ہوگی ۔سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے داماد اور سابق ممبر قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے راولپنڈی میں سکستھ روڈ پر مسلم لیگ نواز کے مرکزی دفتر کے سامنے نیب کو گرفتاری دی وہ شرمناک بھی ہے اور قابل افسوس بھی۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے نیب کے مرکزی دفتر پہنچنے پر مسلم لیگ نواز کے کارکنان سے کہا کہ وہ نیب کو گرفتاری دے رہے ہیں اس لیے کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔یاد رہے کہ اس سے قبل نیب نے کئی بار ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن کارکنان نے ایسا نہیں ہونے دیا۔اس سے قبل کیپٹن ریٹائرڈ صفدر راولپنڈی پہنچے تو مسلم لیگ ن کے کارکنان ان کی ریلی میں شریک ہوگے۔ اس سے قبل قومی احتساب بیورو نے بیان میں کہا کہ نیب کی چار ٹیموں نے ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور میں واقع کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے مکانات پر چھاپے مارے جس کے بعد انھوں نے نیب کو گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب میڈیا سے بھی یہ درخواست کی جاتی رہی کہ وہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی تقاریر نہ دکھائیں مگر ان درخواستوں پر عمل درآمد نہ ہوا۔ اب کہا جارہا ہے کہ نیب ان افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرے گی جنھوں نے محمد صفدر کو پناہ دی اور ان کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالی۔
حالیہ واقعات سے ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ سیاسی لوگوں پر اگر جرم ثابت بھی ہو جائے تو ان کے خلاف قانون آسانی سے حرکت میں نہیں آتا۔ سابق وزیر اعظم کے داماد کو احتساب عدالت سے سزا ہونے کے باوجود وہ جس طرح اپنے آبائی علاقے سے باآسانی فرار ہوکر روالپنڈی جا پہنچے وہ قومی احتساب بیورو اور نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی کا منہ بولتا ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ جمعہ کو لندن سے لاہور پہنچے والے میاں نوازشریف اور مریم نواز بھی کپیٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری دینے کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگرچہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کو ائرپورٹ سے ہی گرفتار کرکے جیل پہنچایا جاسکتا ہے مگر ائرپورٹ کے باہر مسلم لیگ ن کے رہنما اور کارکن ممکن حد تک اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ راولپنڈی میں ہونے والا ڈرامہ لاہور میں کس حد تک کھیلا جاسکتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کیپٹن صفدر کو عدالت سے سزا سنائی مگر ان کے حامی اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو ہرگز آمادہ نہیں۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیںکہ خود میاں نوازشریف بھی پانامہ لیکس کے مقدمہ میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے باوجود عدالت عظمی کے فاضل ججز پر تنقید کرتے رہے۔ سابق وزیر اعظم اعلانیہ یہ موقف رکھتے ہیں کہ کرپشن نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کو اقتدار سے محروم کیا گیا۔ ان کا یہ جملہ تو مشہور ومعروف ہے کہ ”کیوں نکالا مجھے ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں نکالا مجھے “۔
اس کے برعکس میاں نوازشریف کی بدعنوانی کے حوالے سے بین الاقومی سطح پر خبریں بدستور سامنے آرہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل برطانیہ نے بیان قابل غور ہے کہ ان کا ادارہ برطانوی حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسلام آباد احتساب عدالت کے فیصلے کی روشنی میں لندن میں مذکورہ پراپرٹی کی تحقیقات کرے۔ٹرانسپیریسی انٹرنیشل نے کھل کر کہا ہے کہ برطانوی حکومت اس کیس میں شامل لندن کی پراپرٹی کی تحقیقات کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ میاں نواز شریف اور ان کے اہلخانہ ان عالی شان جائیداد میں آرام کی زندگی نہ گزاریں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے ذریعے سے لی گئی ہے۔بدعنوانی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر متحرک ادارے کے بعقول میاں نوازشریف کا مماملہ برطانوی حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ برطانیہ کالے دھن کے خلاف کارروائی میں کتنی سنجیدہ ہے۔ادھر سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی بار بار یہ دہائی دے رہے کہ عوام احتجاج کے لیے باہر نکلیںمگر حقیقت یہ ہے کہ عوام بالخصوص اہل پنجاب میاں نوازشریف کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں۔ بادی النظر میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام جان چکے کہ بیرون ملک جائیدادیں ، بچے اور کاروبار رکھنا والا شخص ان کا قائد نہیں ہوسکتا ۔
حیرت انگیز طور پر سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستانی سیاست تبدیل ہوچکی۔ خبیر تا کراچی عوام کا سیاسی شعور پر گرزتے دن کے ساتھ ساتھ بہتر ہورہا، عام آدمی سیاست میں جذباتی وابستگی سے کہیں بڑھ کر اپنے بنیادی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کررہا۔ کہا جاسکتا کہ دوہزاراٹھارہ کے عام انتخابات میں سیاسی جماعتیںجس طرح کہڑے میں کھڑی ہوئیں ماضی میںاس کی نظیر نہیں ملتیں۔
مسلم لیگ ن کے لیے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان کے قائد میاں نوازشریف اور ان کے بچے بدعنوانی کے مقدمہ میں سزایافتہ ہوچکے۔ لندن میںاربوں روپے کی جائیدادیں رکھنے والے غریب اور مجبور عوام کے رہنما کیسے کہلاسکتے ہیں یہ بڑا سوال ہے۔ آنے والوں میں سابق وزیر اعظم کی بدعنوانی کے مذید ثبوت بھی سامنے آسکتے ہیں جو یقینا مسلم لیگ ن کی سیاست کے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ یقینا یہ واضح نہیں کہ مذکورہ مسائل کے باوجود پی ایم ایل این کس حد تک اپنی سیاسی بقا کی جنگ میں کامیاب ہوتی ہے۔

Scroll To Top