نیب سے سزایافتہ مفرور مجرم کیپٹن صفدربالآخر گرفتار

  • کیپٹن صفدر کو ہیرو بنا کر نہ پیش کیا جائے وہ ایک مجرم ہے،نیب کی بار بار کارروائیوں کے بعد مجرم نے گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا، آمدن سے زائد اثاثے رکھنے والا مجرم خود کو جلوسوں کے ذریعے اب نیک ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے: نیب
  • مجرم کے حراست میں لینے کے عمل کو نیب نے طوالت نہیں دی، جن لوگوں نے حراست میں رکاوٹ پیدا کی ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی،نیب راولپنڈی اسلا م آباد دفاتر کے گردا گرد سکیورٹی انتہائی سخت
اسلام آباد:۔حواس باختہ مفرور مجرم کیپٹن (ر)صفدر کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد کی ایک جھلک

اسلام آباد:۔حواس باختہ مفرور مجرم کیپٹن (ر)صفدر کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد کی ایک جھلک

راولپنڈی(صباح نیوز)قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما ءکیپٹن(ر) صفدر کو گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب کی ٹیم نے کیپٹن (ر)صفدر کو گرفتار کرلیا ہے۔ کیپٹن صفدر دوپہر 2 بجے جلوس کی شکل میں ن لیگ کے مرکزی دفتر لیاقت باغ پہنچے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ تھی۔ کیپٹن صفدر 3 گھنٹے تک راولپنڈی کی سڑکوں پر جلوس نکالتے رہے اور تقاریر کرتے رہے۔ اس دوران پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ن لیگ کے کارکنوں نے مزاحمت کرکے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا۔ شام پانچ بجے نیب کی ٹیم نے حتمی کارروائی کرتے ہوئے کیپٹن صفدر کو گرفتار کرلیا۔کیپٹن(ر)صفدر ایون فیلڈ ریفرنس میں جمعہ کو احتساب عدالت کی جانب سے ایک سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد روپوش ہوگئے تھے اور دو روز بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔کیپٹن(ر)صفدر نے گزشتہ روز آڈیو بیان جاری کرتے ہوئے باضابطہ گرفتاری دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مانسہرہ شہر سے گرفتاری دینے کا سوچا تھا، لیکن پارٹی فیصلے کے نتیجے میں کسی اور شہر سے گرفتاری دے دوں گا، گرفتاری دینا غیرت کا تقاضا ہے اور اس حوالے سے پارٹی فیصلے کا احترام کروں گا۔کیپٹن صفدر دو روز سے راولپنڈی میں روپوش تھے، لیکن نیب کی ٹیم انہیں ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں تلاش کرتی رہی۔ مجرم کی گرفتاری کیلئے نیب راولپنڈی بیورو اور خیبرپختونخوا بیورو کی ٹیموں نے ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں چھاپے مارے جب کہ ہری پور میں بھی کیپٹن صفدر کے گھر کی نگرانی کی جاتی رہی ۔ادھرقومی احتساب بیورو (نیب) نے عوام اور میڈیا سے درخواست کی ہے کہ کیپٹن صفدر کو ہیرو بنا کر نہ پیش کیا جائے وہ ایک مجرم ہے۔تفصیلات کے مطابق نیب کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مجرم کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے متعدد کارروائیاں کی گئیں، چار تفتیشی ٹیموں نے ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور میں کارروائیاں کیں۔اعلامیے کے مطابق نیب کی بار بار کارروائیوں کے بعد مجرم محمد صفدر نے گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا، انھیں عدالتی فیصلے کے بعد پہلے دن ہی گرفتاری دے دینی چاہیے تھی۔نیب کا کہنا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثے رکھنے والا مجرم خود کو جلوسوں کے ذریعے اب نیک ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ادارے نے متنبہ کیا کہ مجرم کو کسی قسم کا تحفظ فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔نیب کے مطابق جن لوگوں نے حراست میں رکاوٹ پیدا کی ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، مجرم کے حراست میں لینے کے عمل کو نیب نے طوالت نہیں دی۔ د ریں اثنا ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے مجرم کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد نیب راولپنڈی کے دفتر کے اطراف سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کر لیے گئے ہیں۔وفاقی پولیس کی بھاری نفری سمیت رینجرز کے جوان تعینات کر دیے گئے ہیں، نیب دفتر آنے والے راستوں کو سِیل کر دیا گیا ہے، نیب دفتر کے سامنے والی شاہراہ کو بھی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا، جب کہ میلو ڈی سے لال مسجد جانے والی ٹریفک کو جی سکس ون ٹو موڑ دیا گیا ہے۔

Scroll To Top