برہان وانی۔ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا درخشاں استعارہ

زین العابدین


نوجوان کشمیری رہنمابرہان مظفر وانی کو قابض بھارتی افواج نے کے ہاتھوں 8 جولائی 2016کو اپنے دوساتھیوں سمےت شہید ہوا، کشمیر کی تحریکِ آزادی مےں اےک ہیرو اور نوجوان نسل کے نمائندہ کے طور پر سامنے آ ےاہے ۔ برہان وانی نے 2011مےںمحض 15سال کی عمر مےں حزب المجاہدین مےں شمولیت اختیار کی اور اسکا سرگرم کمانڈر ثابت ہوا جس نے کشمیری نوجوانوں مےں آزادی کا شعور اور بےداری پےدا کی جو بھارت کےلئے دردِ سر بن گئی۔ برہان وانی کی شہادت کو دو سال مکمل ہو رہے ہےں لےکن آزادی کی تحریک اسی طرح جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بھارتی قابض افواج کی مقبوضہ وادی مےںانسانی حقوق کی انسانیت سوز پامالیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سال 2016سے شروع ہونیوالی آزادی کی تازہ لہر نے پوری وادی کو اپنی لپےٹ مےںلے رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیرسے ملنے والے اعداد شمار یہ بتانے ہےں کہ کس طرح بھارت آزادی اور اپنے پےدائشی حق خود ارادیت کےلئے آواز اٹھانے والے نہتّے کشمیریوں پر اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر کے انکی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کشمیر سے ملنے والی خبرےں اےک طرف بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا منہ بولتا ثبوت ہےں وہیں ان سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ نوجوان شہیدِ آزادی برہان مظفر وانی کی شہادت نے کس طرح مقبوضہ جموں و کشمیر مےں بسنے والے ہر نوجوان ، مردو عورت ، بچے اور بوڑھے کو اس تحریک کا حصہ بنا دیا ہے کہ وہ بھارتی ظلم و ستم کے سامنے سر جھکانے کو تےار نہیں۔ جس انداز سے سکول و کالج کے نوجوان طلباءو طالبات نے اس تحریک مےںشمولیت اختیار کر کے اس مےں نئی جان ڈال دی اس سے خودبھارتی صاحبِ اختیار حلقے شدید پرےشانی اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہےںاور خود کئی بھارتی حلقے بھی بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہےں۔ کشمیری نوجوانوں مےں برہان وانی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگاےا جاسکتا ہے کہ اسکے جنازے مےں کشمیر بھر سے اتنے لوگوں نے شرکت کی کہ اس سے پہلے وادی مےں اتنا بڑا جنازہ کسی کشمیری رہنما کا نہیں ہوا۔ برہان وانی شہید کو پاکستانی پرچم مےں دفن کیا گےا۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر بھر مےں احتجاج اور بھارت مخالف مظاہروں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے اور بھارتی پولیس اور افواج کےلئے ان جلسے جلوسوں اور مظاہروں پر قابو پانا مشکل ہو گےا۔وادی بھر مےں کرفیو کا نفاذ اور ذرائع ابلاغ پر مکمل طور پر پابندی لگا کر وادی کا رابطہ دنیا بھر سے کاٹ دیا گےا ہے۔ پر امن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی اور ان پر پےلٹ گن کا استعمال کیا گےا جس سے سےنکڑوں شہید اور ہزاروں کشمیری زخمی ہو گئے۔ سکولوں اور کالجوںپر بھارتی افواج نے حملے کئے اور طلباءو طالبات کو بلا امتےاززدوکوب کیا گےا۔ سکولوں اور کالجوں کو زبردستی بند کیا گےا جن سے مقبوضہ کشمیر مےں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔
برہان وانی کشمیری نوجوانوں کےلئے آزادی کی تحریک کی علامت بن چکا ہے ۔برہان وانی کی شہادت کو دو سال مکمل ہورہے ہےں لےکن وادی مےں آزادی کی صدا اسی شدّت کےساتھ گونج رہی ہے اوربھارت کسی طور اسے دبانے مےں کامیاب نہیں ہو رہا۔ بھارت کی کشمیریوں کےساتھامتیازی سلوک اور دشمنی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے پےدائشی حقِ خود ارادیت کا مطالبہ کرنےوالے کشمیریوں کےخلاف بھارتی افواج خطرناک کییائی ہتھےاروں کا استعمال کرنے پر تل گئی ہے۔ وادی سے ملنے والی اطلاعات کےمطابق بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں کو قتل کرنے اور انکی املاک کو تباہ کرنے کےلئے مہلک کیمیائی مواد کا استعمال شروع کر دیا ہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ مےں 3جولائی2017 کو 24گھنٹوںکے دوران 3کشمیریوں اور4گھروں کو کیمیائی ہتھےاروں سے نشانہ بناےا ۔ شہید ہونےوالے کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کی اس کیمیائی مواد کے استعمال سے اس قدر بری حالت تھی کہ انکو پہچاننا دشوار تھا۔ہزاروں افراد نے ان شہیدوں کے جنازوں مےں شرکت کی اور بھارتی وافوج کی طرف سے انکے خلاف کیمیائی ہتھےاروں کے استعمال پر احتجاج کیا۔ اسی طرح کا اےک واقعہ پچھلے ہفتے پام پورہ مےں بھی پےش آےا تھا جس مےں بھارتی افواج نے 3کشمیری نوجوانوں کوکیمیائی ہتھےاروں کے استعمال سے شہید کردیا جبکہ اےک گھر کو بھی تباہ کردیا ۔بھارتی افواج کے ان اقدامات کےخلاف کشمیری سراپا احتجاج ہےں اور کشمیری نوجوانوں کےخلاف کیمیائی مواد کے استعمال کی شدید مذمت کررہے ہےں۔
بھارت کا کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حق خود ارادیت کے استعمال سے روکنا نہ صرف بےن الاقوامی قوانین اوراقوامِ متحدہ کے چارٹر کی توہین ہے بلکہ اپنی بنیادی ذمہ داری سے روگردانی بھی ہے جسکا اس نے کشمیروںکےساتھ وعدہ بھی کیا تھا۔بھارت مختلف حیلوں بہانوں سے دنیا کی آنکھوں مےں دھول جھونک کر یہ باور کروانے کی کوشش کرتا آےا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر مےں حالات معمول کےمطابق اور پرامن ہےں لےکن حقیقتِ حال اسکے بالکل برعکس ہے۔ بھارت کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دہشتگردی اور آزادی کا مطالبہ کرنےوالوں کو دہشتگرد قرار دےکر ان پر ریاستی دہشتگردی کا ہر ہتھکنڈہ اپنانے پر تلا ہوا ہے۔ برہان وانی جےسے شہیدوں کا لہو اس امر کی نشاندہی کرتاہے کہ کشمیری بھارتی غلامی سے آزادی چاہتے ہےں اور اسکے حصول کےلئے وہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کےلئے تےار ہےں۔ بھارت کےلئے یہ جاننا ہی کافی ہے کہ جب تک برہان وانی جےسے شہیدوں کا لہوتحریکِ آزادیِ کشمیر مےں شامل ہوتا رہےگا اس تحریک کا کاررواں اپنی منزل ےعنی بھارتی استبداد سے آزادی کی طرف بڑھتا رہےگا اور طاقت کا کوئی استعمال انکے راستے کو اب نہیں روک سکتا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے باسی بھارت اور اسکی قابض افواج اور پولیس کے ہاتھو ں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار تو ہمےشہ ہی سے رہے ہےں لےکن 2014مےں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیا جنتا پارٹی(BJP)کے برسرِ اقتدار آئی اور مسلمانوں کے قاتل کے طور پر اپنی شہرت رکھنے والے نرےندرا مودی نے بطور وزیرِ اعظم حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو مسلمانوں سمےت بھارت مےں بسنے والی تمام اقلیتوں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے کہ اب انتہا پسند ہندو عناصر کو کھل کر اپنے منفی عزائم کو آگے بڑھانے کی شہہ ملے گی اور اےسا ہی ہوا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے مےں مودی حکومت کی پالیسی طاقت کے استعمال اور کشمیریوں کو ہراساں کرکے اپنی آزادی اور پےدائشی حقِ خود ارادیت سے باز رکھنے کی کوششوں پر مبنی رہی۔ برہان مظفر وانی کی شہادت اسی فوجی طاقت کے استعمال کا نتیجہ ہے۔
برہان مظفر وانی کی کم عمری مےں کشمیر کی جدوجہدِ آزادی مےں شمولیت اختیار کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ کشمیری نوجوان اس تحریک کا سرگرم حصہ بن رہے ہےں اور کشمیری کی آزادی کی تحریک مےںکشمیری نوجوانوں کی شمولیت نے اسے اےک اےسی ہمہ گےر تحریک مےں تبدیل کردیا ہے جو دنیا کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیجانب دلا رہی ہے جو بھارتی افواج مقبوضہ وادی مےں بلا روک ٹوک کررہی ہےں۔آج کشمیری بچے اپنے ہاتھوں مےں پتھر لئے بھارتی فوجیوں پر پتھراو¿ کر کے ان سے اپنی نفرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہےں اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارتی افواج ان پر گولیوں کا استعمال کررہی ہے ، کبھی ان پتھراو¿ کرےنونےوالوں کر خوفزدہ کرنے کےلئے کشمیری نوجوانوں کو انسانی ڈھال ے طور پر استعمال کررہی ہے، ۔ کشمیری طلبا ءکےخلاف بھی بہت تےزی آئی ہے اور کئی طلباءکو کالج اور ےونیورسٹی مےں کھس کر تشدد کا نشانہ بناےا گےا ہے احتجاج کے ڈر سے سکولوں، کالجوں او رےونیورسٹی کو زبردستی بند کردیا جاتا ہے جس سے ان طلباءکی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہےں۔ مقبوضہ کشمیر مےں کشمیریوں کی اس تحریک کو کشمیر کے انتفاضہ سے بھی تعبیر کیا گےا۔کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور خود کشمیریوں کےساتھ مذاکرات کی عدم موجودگی ۔ کشمیریوں کی روز بروز بڑھتی معاشی بدحالی،بھاری تعداد مےں عوامی جگہوں پر بھارتی افواج کی تعیناتی اورانسانی حقوق کی پامالیوں نے نہ رکنے والے سلسلے نے وادی کی مجموعی امن و امان کی صورتِ حال کر خراب کیا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر مےں پاکستانی پرچم لہرانا اور آزادی کے جلسے جلوسوں اور بھارت مخالف مظاہروں مےں پاکستان کے حق مےں نعرے لگائے جاتے ہےں۔ پاکستان کا ےومِ آزادی جوش و خروش سے مناےا جاتا ہے اور بھارت کے ےومِ آزادی کو ےومِ سیاہ کے طور پر مناےا جاتاہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد اس بڑے پےمانے پر احتجاج ہوا اور مقبوضہ وادی مےں بدامنی پھےلی کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کےساتھ مذاکرات کےلئے اےک نمائندہ مقرر کیا۔
بار بار بھارتی اور وادی مےں بھارت کی کٹھ پتلی انتظامیہ کشمیریوں کو یہ تاکید کرتی رہتی ہے کہ وہ پرسکون رہیں لےکن عملی طور بھارتی قابض افواج ہر روز کشمیری نوجوانوں کو ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماورائے عدالت قتل کر ڈالتی ہےں اور انہیں مجبوراً بھارتی مظالم کےخلاف آواز اٹھانے کےلئے اپنے گھروں سے نکلنا پڑتا ہے۔
بھارت نے حسبِ معمول برہان وانی کی شہادت کے بعد پےدا ہونےوالی بدامنی کی صورتِ حال اور کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد مےں آزادی کی تحریک مےں شمولیت اور فعال سرگرمیوں کےلئے پاکستان اور اسکی انٹےلی جنس اےجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ مقبوضہ وادی کے گلی کوچوںاور سڑکوں پر کم سن بچے اور عورتےں اپنے اور اپنے گھر والوں کےساتھ ہونےوالی زیادتیوں پر سراپا احتجاج پےں اور اپنے ہاتھوں مےں پتھر لئے بھارت کی سات لاکھ کے لگ بھگ قابض افواج سے اپنی نفرت اور اسکی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کرہے ہےں۔ کشمیری نوجوان نسل پچھلی سات دہائیوں سے جاری ظلم و ستم کے ردعمل مےں اور اپنے پےدائشی حقِ رائے دہی کے حصول کےلئے آواز اٹھارہی ہے جو بھارت کو گوارا نہیں۔ یہ کشمیریوں کی چوتھی نسل ہے جو بھارتی مظالم سہہ رہی ہے اس پر انکے احتجاج کو بےرونی مداخلت ےا دہشتگردی قرار دےنا کسی صورت درست نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت نے الحاق کی جعلی دستاویز کا سہارا لےکر کشمیر پر قبضہ کیاتھا ، مزید برآں یہ کہ بھارت نے کشمیریوں اور عالمی برادری کےساتھ اقوامِ متحدہ سمےت کئی بےن الاقوامی اور قومی پلےٹ فارمز پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل بنیادی انسانی حقوق کے طے شدہ اصولوں کے تحت کشمیریوں کی خواہشات اور مرضی کےمطابق کرنے کا پابند ہے اور اس حل کےلئے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی رو سے جموں و کشمیر مےں استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیریوں کی مرضی معلوم کی جائےگی۔ لےکن یہ بھارتی ہٹ دھرمی ہے کہ وہ ستر سالوں سے انسانی حقوق کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیریوں کےساتھ وعدہ شکنی کررہا ہے اور کشمیری نوجوان اپنے احتجاجی جلسے جلسوں اور مظاہروں مےں آزادی کا نعرہ لگا کر بھارت کو انہی وعدوں کی ےاددہانی کروا رہے ہےں۔
مقبوضہ وادی کی ابتر صورتِ حال کا عالمی برادری نے بھی نوٹس کیا اور کشمیر مےں معمولات کی بحالی کےلئے کئی اہم اقدامات کی بھی سفارش کی مثلاً کشمیر کو اےک بےن الاقوامی قضیہ اور کشمیریوں کے رائے شماری کے حق کو تسلیم کرنا، مقبوضہ وادی سے فوجوں کاا نخلائ، Armed Forces Special Powers Act (AFSPA)اور Public Safety Act (PSA)جےسے کالے قوانین کی منسوخی، کشمیر کے تمام سیاسی قےدیوں کی رہائی اور ابہیں سیاسی سرگرمیوں مےں حصہ لےنے کی آزادی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو وادی مےں کام کرنے کی اجازت اورتمام سیاسی جماعتوں کو آزادی کےساتھ کام کرنے کےلئے سازگار ماحول کو ےقینی بناےا جائے

Scroll To Top