احتساب عدالت کا فیصلہ اور بھارتی میڈیا

zaheer-babar-logoاحتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن ریٹائر کپٹن محمد صفدر کے خلاف قید اور جرمانے کس حد تک قومی سیاست کو بدل دے گا اس کا فیصلہ 25 جولائی کو نمایاں انداز میں سامنے آسکتا ہے ۔ سابق وزیر اعظم نے توقعات کے عین مطابق لندن پریس کانفرنس بلندوبانگ دعوی تو کیے مگر اپنی واپسی کو اہلیہ کلثوم نواز کے ہوش میں آنے سے مشروط کردیا۔ چنانچہ یہ معاملہ مسلسل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے کہ میاں نوازشریف اور مریم نواز کب اور کیسے وطن واپس آتے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا نے نوازشریف کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلہ کو عمران خان کے لیے سازگار اور مسلم لیگ ن کے لیے انتخابات کے حوالے سے دھچکا قرار دے دیا۔بھارتی نیوز چینل سی این بی سی ٹی وی کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ فیصلے سے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے اور گزشتہ 4 دہائیوں سے پاکستان کے بہت بڑے سیاست دان کے کیرئر کے خاتمے کا خطرہ ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق نواز شریف کے خلاف فیصلہ پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں اثر انداز ہوگا جس میں ان کا مقابلہ عمران خان کی تحریک انصاف سے ہے ۔ادھر زی نیوز نے بھی فیصلہ کو نواز شریف اور ان کی پارٹی کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔
میاں نوازشریف اپنی سیاسی تاریخ کے اہم اور نازک موڈ پر پہنچ چکے۔عام انتخابات سر پر آنے کے باوجود سابق وزیراعظم کا ملک میں آکر عدالتی کاروائی کا سامنا نہ کرنا ان کی کم ہمتی ظاہر کررہا۔ سابق وزیراعظم کے مخالفین کا دعوی ہے کہ میاں نوازشریف کو صرف اور صرف اپنی دولت عزیز ہے لہذا وہ کسی طور پر جیل میں آکر ان صوبتوں کو برداشت نہیں کریں گے جو کسی بھی لیڈر کے لیے باعث عزت ہوا کرتی ہیں۔
ادھر توقعات کے عین مطابق مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مذکورہ فیصلہ تاریخ میں سیاہ حروف میں یاد رکھا جائے گا۔ ان کے بعقول پورے مقدمے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔“
اس میں دوآراءنہیںکہ احتساب عدالت کے فیصلہ نے مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کو مشکل حالات سے دوچار کردیا ہے۔ عین انتخابی مہم کے موقعہ پر میاں نوازشریف کا ملک میں موجود نہ ہونا ان کے حامیوں کے لیے کسی طور نیک شگون نہیں۔ کلثوم نواز کی بیماری اپنی جگہ مگر یہ تاثر ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہورہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عدالتی کاروائی سے بھاگ کر لندن جا چکے۔ احتساب عدالت کے فیصلے کے باوجود پاکستان آنے کے لیے کسی واضح تاریخ کا اعلان نہ کرنا سابق وزیر اعظم کی سیاسی حکمت عملی کو واضح کرگیا۔
افسوس کہ میاں نوازشریف نے صرف اور صرف اپنی ذات کے لیے مسلم لیگ ن کو قربان کردیا ۔اس میں شک نہیں کہ پی ایم ایل این کا ووٹ بنک نوازشریف ہی کا ہے لہذا یہ پیشن گوئی کرنا مشکل ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم وطن واپس نہ آئے تو 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں ان کی پارٹی کہاں کھڑی ہوگی۔
اس میں شک نہیں کہ جنوبی ایشیاءکے عوام اپنے رہنما سے دیگر توقعات کے علاوہ دلیری کی بھی امید بھی رکھتے ہیں۔مثلا کہا جارہا ہے کہ 6 جولائی کو اگر سابق وزیر اعظم عدالت کے اندر موجود ہوتے اور پھر وہی سے جیل چلے جاتے تو شائد ان کے حامیوں کے حوصلہ اس قدر پست نہ ہوتے۔
سیاسی مبصرین تو یہ دعوی بھی کررہے کہ میاںنوازشریف کی سیاست کا سورج غروب ہوچکا ۔ اسے تاریخ کا جبر ہی کہا جاسکتا ہے کہ35سال تک قومی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی شخصیت ماضی کا حصہ بنے جارہی۔ افسوس یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے اپنے طویل سیاسی دور میں ملک وقوم کے لیے ایسی خدمات سرانجام نہیں دیں جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔
احتساب عدالت کا فیصلہ یقینا طاقتور لوگوں کے واضح پیغام ہے کہ پاکستان یقینا بدل رہا ہے، امید کرنی چاہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے مذید فیصلہ بھی سامنے آئیں گے جس کے نتیجے میں یہ تاثر مضبوط ہو کہ ارض وطن میں قانون صرف اور صرف کمزور کے لیے نہیں بنا۔میاں نوازشریف ان کے خاندان اور مسلم لیگ ن کے دیگر لوگوں کے خلاف احتساب عدالت میں قانونی کاروائی جاری ہے۔پاکستان کا باشعور شہری یہ امید کرنے میں حق بجانب ہے کہ آنے والے دنوں میں کسی بھی مصلحت سے کام نہیں لیا جائیگا، کوئی این آر او نہیں ہوگا تاکہ آٓئین اور قانون کی بالادستی کا خواب کسی طور پر شرمندہ تعبیر نہ ہو۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جنھوں نے بین الاقوامی کرپشن کے مالیاتی سکینڈل پانامہ لیکس سامنے آنے پر ہمت نہ ہاری۔ احتجاج کے علاوہ قانونی سیاسی وقانونی جنگ بھی لڑی جس کی بدولت میاں نوازشریف اپنے پورے خاندان کے ہمراہ قانونی کاروائی میں شریک ہونے پر مجبور ہوگے۔
یقینا عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو اس کامیابی کا فائدہ ملے گا۔ امکان یہی ہے کہ خود مسلم لیگ ن کے حمایتی بھی پی ایم ایل این کی اس جوش وخروش سے حمایت کرنے پر آمادہ نہ ہوں جس کی میاں نوازشریف توقع کررہے ۔

 

Scroll To Top