انصاف کا بول بالا ہو گیا: نواز شریف 11،مریم نواز8اور کیپٹن صفدرکو 1سال قید با مشقت کی سزا

  • نواز شریف کو 8ملین پاﺅنڈز ، مریم نواز کو 2ملین پاﺅنڈز جرمانہ ،ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم ، مریم نواز، کیپٹن صفدر انتخابی دوڑ سے آﺅٹ،حسین اور حسن نواز کی عدم حاضری کی بنا پر سزا نہیں سنائی گئی ، ان کے دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے
  • 1993 ءمیں مریم نواز 18 سال، حسین نواز 20 سال اور حسن نواز 17 سال کے تھے اور اپارٹمنٹس خریدنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ، اس عمر میں عام طور پر بچے والدین کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں، لہذا سابق وزیراعظم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے بچوں کو رقم نہیں دی،فیصلے کا متن
کراچی:۔ ایون فیلڈ فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی ، عمران اسماعیل و دیگر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں

کراچی:۔ ایون فیلڈ فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی ، عمران اسماعیل و دیگر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں

اسلام آباد(این این آئی) اسلام آباد احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو 10 سال قید ، 8ملین پاﺅنڈ جرمانہ ، مریم نواز کو سات سال قید ،دو ملین پاﺅنڈ جرمانہ ، کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزااور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا ہے ، عدالتی فیصلے کے بعد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے داماد کیپٹن صفدر نا اہل ہوگئے ہیں اور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے جبکہ عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت تمام ملزمان کو کرپشن کے پیسے سے جائیداد بنانے کے الزام سے بری کر دیا ہے ۔جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے بند کمرے میں تین جولائی کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا ۔فیصلہ سنانے سے قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ بند کمرے میں سنانے سے قبل فریقین کے وکلاءکو کمرہ عدالت میں طلب کیا۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی اور فریقین کے وکلاءکو روسٹرم پر بلایا گیا تاہم میڈیا کے نمائندے کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا ۔میڈیا نمائندوں کی جانب سے احتجاج کے بعد عدالتی عملے نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ابھی وکلاءاور جج صاحب کی ڈسکشن ہورہی ہے جب فیصلہ سنایا جائے گا تو میڈیا کو اندر بلایا جائےگاتاہم چند منٹ بعد نیب کے پراسیکیوٹر مظفر عباسی نے باہر آکر بتایا کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنادیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کو 10سال قید ، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سات سال قید اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ۔نیب پراسیکیوٹر مظفر عباسی کے مطابق احتساب عدالت نے نوازشریف کو 80 لاکھ پاو¿نڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاو¿نڈ جرمانہ بھی کیا ہے جبکہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا بھی حکم دیاہے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان سے متعلق سزا نہیں سنائی گئی ،مریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے پر غلط بیانی پر شیڈول ٹو کے تحت ایک سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔عدالت فیصلے کے بعد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن صفدر دس سال کےلئے نا اہل ہوگئے ہیں اور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کے تحریری فیصلے میں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیا گیا ۔ تحریری فیصلے کے مطابق حسین نواز نے خود تسلیم کیا کہ وہ لندن فلیٹس کے مالک ہیں ۔ فیصلے میں جے آئی ٹی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ تحریری فیصلے میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب کا حوالہ بھی دیا گیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مریم نواز اپنے والد محمد نواز شریف کی جائیداد چھپانے کیلئے آلہ کار بنیں۔ مریم نواز نے جرم کے ارتکاب میں اپنے والد کی معاونت کی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے قطری خطوط کے ذریعے لندن جائیداد کا کبھی پہلے ذکر نہیں کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قطری خطوط سنی سنائی بات سے زیادہ کچھ نہیں جبکہ اپارٹمنٹس سے متعلق کوئی معاون دستاویز یا براہ راست ثبوت نہیں دیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 1993ءمیں مریم نواز کی عمر 18 سال، حسین نواز 20 سال اور حسن نواز 17 سال کے تھے اس وقت تینوں ملزمان کم عمر تھے اور اپارٹمنٹس خریدنے کے وسائل ان کے پاس نہیں تھے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر بچے والدین کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے بچوں کو رقم نہیں دی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ حسن نواز کے انٹرویو کے مطابق بھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ان کے زیر استعمال رہے ۔ فیصلے کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بھی جرم کے ارتکاب میں معاونت کی ۔ فیصلے کے مطابق حسن اور حسین نواز کے دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے ہیں۔ فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو شیڈول 2 کے تحت مزید ایک سال قید کی سزا دی گئی ۔ اس طرح نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ۔ مریم نواز کی سات سال اور ایک سال اضافی سزائیں ایک ساتھ شروع ہونگی۔ اسی طرح سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی دس سال اور ایک سال اضافی سزائیں ایک ساتھ شروع ہونگی۔عدالتی فیصلے کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو تفتیشی ایجنسی سے تعاون نہ کرنے پر ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔174 صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو فرد جرم میں شامل نیب آرڈیننس کی سیکشن 9A-5 کے تحت سزا سنائی گئی ۔ فیصلے میں نواز شریف سمیت تمام ملزمان کو کرپشن کے پیسے سے جائیداد بنانے کے الزام سے بری کیا گیا ہے۔نیب آرڈیننس کی سیکشن 9A-5 زیر کفالت افراد یا بے نامی دار کے نام جائیداد بنانے سے متعلق ہے۔ واضح رہے کہ نوازشریف اور مریم نواز بیگم کلثوم کی بیماری کی وجہ سے لندن میں موجود ہیں ۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پاکستان میں موجود ہیں تاہم اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں مانسہرہ میں مصروف ہونے کے باعث وہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔فیصلے کے وقت مسلم لیگ (ن )کے رہنما آصف کرمانی ،دیگر رہنما اور نیب کی 7 رکنی ٹیم کے ارکان احتساب عدالت میں موجود تھے۔فیصلے سے قبل آصف کرمانی کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں عدالت میں جانے کی اجازت مل گئی تھی۔فیصلے کے وقت عدالت کے اندر بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔قبل ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف کی جانب سے ان کی واپسی تک فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ایک گھنٹے کےلئے موخر کی تھی۔صبح 9 بجکر 40 منٹ پر جب سماعت کا آغاز ہوا تو سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں زیر علاج اہلیہ کلثوم نواز کی تازہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کی حالت تشویشناک ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق آئندہ 48 گھنٹے فیملی کا کلثوم نواز کےساتھ ہونا ضروری ہے لہٰذا فیصلے کو کچھ دن کےلئے موخر کردیا جائے تاہم نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کی مخالفت کی جس کے بعد جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت11 بجے تک کےلئے موخر کردی۔ایک گھنٹے بعد عدالت نے نواز شریف کی فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ ساڑھے بارہ بجے فیصلہ سنایا جائیگا تاہم اس فیصلے کو پہلے ڈھائی بجے ،پھر 3 بجے اور بعدازاں ساڑھے 3 بجے تک کےلئے مو¿خر کردیا گیا۔عدالت کی جانب سے فیصلے کو 4 بار مو¿خر کرکے اسے ساڑھے تین بجے سنانے کا وقت دیا گیا۔ اس موقع پر وکلاءکو عدالت میں بلایا گیا تاہم میڈیا کے نمائندوں کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔میڈیا کے احتجاج پر عدالتی عملے کی طرف سے گمراہ کن اطلاعات فراہم کی جاتی رہیں اور بتایا گیا کہ ابھی جج اور وکلاءکے درمیان تبادلہ خیال ہو رہا ہے ، فیصلہ سنائے جانے کے وقت میڈیا کے نمائندوں کو عدالت میں بلا لیا جائے گا لیکن بعد ازاں یہ اطلاعات اس وقت غلط ثابت ہوگئیں جب نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے باہر آکر آگاہ کیا کہ نیب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ سنا دیا ہے۔یاد رہے کہ نیب نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس 8ستمبر 2017ءکو دائر کیا تھا جس کی احتساب عدالت میں پہلی سماعت گزشتہ سال 14 ستمبر کو ہوئی۔ایون فیلڈ ریفرنس میں 18گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے،ان میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءبھی شامل تھے۔مزید شواہدکے دعوے کے ساتھ نیب نے 22جنوری کو ضمنی ریفرنس بھی دائر کیا،مقدمے کی کل 107سماعتیں ہوئیں، نواز شریف کی78 ، مریم نواز کی 80 اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی 92 پیشیاں ہوئیں۔11 جون 2018ءکو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ بھی ہوگئے تھے تاہم 19جون کو دستبرداری کی درخواست واپس لے لی، عدالت نے 3جوالائی کو سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔احتساب عدالت نے اس کیس میں حسن اور حسین نواز کو پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دے رکھا ہے اور ان کا ٹرائل بھی الگ کر دیا گیا ہے ،نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹی ریفرنس کے فیصلے کے موقع پر سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ضلعی انتظامیہ نے فیصلے کے پیش نظر کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کےلئے سیکیورٹی انتظامات کے تحت احتساب عدالت جانے والے راستے ٹریفک کےلئے بند کردئیے تھے ، اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان بھی کیا گیا۔احتساب عدالت کو چاروں جانب سے خاردار تاروں سے بند کیا گیا، عدالت کے سامنے سروس روڈ کو دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا ،اس موقع پر چار سو کے قریب پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے، ایف سی اور رینجرز کے اہلکاروںنے بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دیئے، 50سے زائد خواتین پولیس اہلکار بھی سیکیورٹی پر مامور تھیں۔ایس ایس پی آپریشن نجیب الرحمان سیکیورٹی کی نگرانی کر رہے تھے، ٹریفک کے 50سے زائد اہلکار بھی ٹریفک کی نگرانی کےلئے تعینات تھے، جبکہ شیلنگ اے پی سی وین بھی احتساب عدالت کے باہر موجود تھی۔

Scroll To Top