اسلام کو سیاسی شکست دینے کا ایک ہی طریقہ! 17-07-2013

kal-ki-baatمسلم ممالک کو بالخصوص اور تمام پسماندہ یا ترقی پذیر ممالک کو بالعموم۔۔۔ سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے امریکہ کے پاس” تیربہدف نسخہ“ جمہوریت کا فروغ ہے۔
اصولی طورپر جمہوریت ملکوں کی سیاسی صحت کا نسخہ ہونا چاہئے چرچل نے اسے ایک ناقص نظام ہونے کے باوجود سب سے بہتر قرار دیا تھا۔ ویسے بھی سب لوگ مانتے ہیں کہ جتنے بھی نظام اب تک سامنے آئے ہیں ان میں جمہوریت سب سے کم ناقابلِ قبول ہے۔
لیکن امریکہ نے ”جمہوریت کے فروغ “ کی مہم ہمیشہ ایسے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے استعمال کی ہے جہاں مسائل کے حل کے لئے مضبوط اور مستحکم قیادت ناگزیر محسوس ہوتی ہو۔ سابق صدر جارج بش کی وزیر خارجہ کنڈولیزارائس فلسطین میں جمہوری انتخابات کرانے کا ایجنڈا لے کر نکلیں تو وہاں حماص برسراقتدار آگئی۔ دوسرے الفاظ میں عوام کی اکثریت اس نظام کے حق میں پائی گئی جسے امریکی ” اسلامی انتہا پسندی “ قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔
چنانچہ امریکہ نے فوراً اپنی جمہوریت نوازی کو سردخانے میں ڈال دیا۔ حماص کی حکومت کا تختہ الٹوایا گیا اور اہلِ فلسطین کو دو گروپوں میں تقسیم کرا دیا گیا۔
جمہوریت امریکی نقطہ نظر سے اس لئے ناکام ہوگئی تھی کہ فلسطین پر سیکولر اور لبرل قوتیں قبضہ نہیں کرسکی تھیں۔ لیکن ایک امریکی مقصد ضرور پورا ہوگیا تھا۔ فلسطین کا اتحاد ختم کردیا گیا تھا۔
مصر کی صورتحال بھی مختلف ثابت نہیں ہوئی۔ یہاں دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ سامنے آئی ہے کہ حسنی مبارک کی آمریت کا خاتمہ کرنے کے لئے جمہوریت حرکت میں آئی۔ اور جب جمہوریت کی فتحمندی کے نتیجے میں اسلام پسند قوتیں اقتدار میں آگئیں تو جمہوریت کی بنیادیں ہلانے کے لئے جمہوریت کو ہی ہتھیار بنایا گیا۔ ایک لحاظ سے امریکہ مصر کو عدم استحکام کا شکار بنوانے میں کامیاب ہوچکاہے۔ لیکن تاریخ بڑی ستم ظریف ہے۔
جس ” پیپل پاور “ )عوامی قوت(نے جمہوریت قائم گی اور پھر خود ہی اسے ختم کیا وہ عوامی قوت ایک بار پھر جمہوریت کو واپس لاسکتی ہے اور لائے گی۔
امریکہ پوری کوشش کرے گا کہ جوصورتحال صدرمرسی کے جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے وہ قائم رہے۔ کیوں کہ ایسے انتخابات مصر میں کرانا بے حد مشکل کام ہوگا جن میں عوام کواخوان المسلمون کے حق میں فیصلہ دینے سے روکا جاسکے۔
اسلام کے سیاسی ظہور کا راستہ صرف ایک صورت میں روکا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ انتخابات کا کوئی ایسا طریقہ ایجاد ہوجائے جس میں عوام اپنا ووٹ استعمال نہ کرسکیں۔

Scroll To Top