بڑی کرپشن کا بڑا فیصلہ آج : احتساب عدالت کی سیکورٹی انتہائی سخت

  • نواز شریف اور مریم نواز نے آج سنائے جانے والے محفوظ فیصلے کے التوا کےلئے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں ، سماعت آج احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کریں گے ، آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان کی سزا یقینی ہے اور یہ کہ سپریم کورٹ کی دی گئی ڈیڈ لائن کے پیش نظر فیصلہ التوا میں نہیں ڈالا جا سکتا
  • نواز شریف سمیت ملزمان سے 127سوالات پوچھے گئے، ملزمان کی طرف سے کوئی گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، کیس کی سماعت تقریباً ساڑھے 9 ماہ جاری رہی ، نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے

sec
اسلام آباد(الاخبار نیوز) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کے متوقع فیصلے کے پیش نظر احتساب عدالت اور جج محمد بشیر کی سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں اس سلسلے میں رینجرز کی تعیناتی کی درخواست بھی دے دی گئی ہے تفصیلات کے مطابق 500 رینجرز اہلکار اور 1500 پولیس اہلکار عدالت اور معزز جج کی سکیورٹی کے لئے تعینات ہوں گے احتساب عدالت کے گردا گرد دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت 5یا اس سے زیادہ افراد کے عدالت کے گرد اکھٹا ہونے اور بالخصوص غیر متعلقہ افراد کے اکٹھا ہونے پر سخت پابندی رہے گی اس تناظر میں جوڈیشل کمپلیکس کے گردا گرد انتہائی چوکسی کی صورت حال نافذ رہے گی یاد رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے احتساب عدالت کے فیصلے کو موخر کرنے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی انتہائی تشویشناک حالت کے پیش نظر وہ لندن میں مقیم ہیں لہذا 7روز کیلئے موخرکی جائے ان درخواستوں کی سماعت بھی آج ہی احتساب عدالت میں ہو گی دریں اثناء پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کو موخر کرنے کی سختی سے ممانعت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک کے غریب عوام کے 300 ارب روپے لوٹنے والے خاندان کو کسی بھی قسم کی رعایت خلاف قانون و قاعدہ ہو گی انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنا دیا جائے گا اور یہ کہ نواز شریف جس قدر جلد ممکن ہو وطن واپس آئیں کیونکہ اڈیالہ جیل ان کا انتظار کر رہی ہے۔ ادھر کی احتساب عدالت ?ے جج محمد بشیرایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ ا?ج سنائیں گے، یہ فیصلہ انہوں نے تین جولائی ?و محفوظ ?یاتھا۔اس ضمن میں احتساب عدالت ملزمان کو جمعے کو پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کرچکی ہے فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر انہیں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کرچکی ہے۔واضح رہے کہ ریفرنس میں نواز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز کے ساتھ کیپٹن (ر) صفدر بھی ملزم نامزد ہیں۔ نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوتے رہے تاہم حسن اور حسین نواز پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر انہیں اشتہاری قرار دیا۔نواز شریف سمیت تمام ملزمان کے خلاف مقدمات میں نیب کی دفعہ نائن اے لگائی گئی ہے جو رقوم اور تحائف کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ہے۔اس جرم کی سزا 14 سال قید ہے۔ مریم نواز کے خلاف جعلی دستاویزات کے الزام میں ایک اور سیکشن 31 اے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں سزا 3 سال قید ہے۔ریں اثنا نوازشریف نے اس مقدمے کا فیصلہ کل سنانے کے خلاف درخواست دائر کی ہوئی ہے جس میں مطالبہ کیا ہے کہ کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ موخر کی جائے، عدالت نے یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے اور کل فیصلہ سنانے سے قبل اس درخواست کی سماعت ہوگی

Scroll To Top