ہمہ تن گوش کی ڈائری 

huma-tan-goshہمہ تن گوش کی ڈائری

” ٹرمپ اب بھی ہم سے زیادہ امیر ہے ` اور امبانی اور مِتل بھی۔ کاش کہ ایک ٹرم ہمیں اور مل جاتا !“

اپنی بیانک بیٹریاں چارج کرنے اور فریکوئنسی سیٹ کرنے کے بعد ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ہمارے کانوںسے میڈم مریم نواز کی آواز ٹکرارہی تھی۔۔۔
” ابا جان اگر آدمی آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جائے تو کتنی دیر زندہ رہ سکتا ہے ؟“
اس سوال کے بعد چند لمحوں کے لئے خاموشی رہی پھر میاں صاحب کی آواز سنائی دی۔۔۔
” اس وقت میں تمہاری ماں کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ اسے کتنی دیر تک زندہ رہنا چاہئے۔۔۔؟‘ ‘
” ابا حضور اب میرا دل واقعی ڈوبنے لگا ہے۔ میرے اور آپ کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارے کسی ہتھکنڈے کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اور وہ ہماری چالوں سے بے نیاز ناک کی سیدھ میں انتخابات کی طرف بڑھے جارہے ہیں۔۔۔“
” میرے نہیں تمہارے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ آدمی واقعی اولاد کی محبت میں اندھا ہو کر اندھے کنویں میں بھی چھلانگ لگا دیتا ہے۔ تم نے مجھے واپسی کا کوئی راستہ چھوڑنے نہیں دیا۔ ۔۔“ میاں صاحب بولے۔
” ابا جان۔۔۔ میں اپنی غلطیاں مانتی ہوں مگر مجھ پر ہر الزام نہ رکھیں۔ جب آپ ایون فیلڈ پراپرٹیز خرید رہے تھے تو میری عمر کیا تھی ؟ تب تو آپ مجھ پر اور صفدر پر اپنا غصہ اتار رہے تھے۔ “ مریم نے جواب دیا۔
” میں اُس نالائق کو تمہارے قابل نہیں سمجھتا تھا مگر جو ہوگیا سو ہوگیا۔ میں نے یہ محلات اپنے لئے نہیں آپ لوگوں کے لئے خریدے تھے۔ میں تو یہاں صرف چھٹیاں گزارنے کے لئے آتا رہا ہوں۔ “ میاں نے کہا۔۔۔
” آپ بھول رہے ہیں ابا جان کہ آپ زیادہ تر چھٹیوں پر ہی رہے ہیں۔ رہی سہی کسر اُس گدھے نے یہ کہہ کر پوری کردی کہ الحمد للہ یہ پراپرٹیز ہماری ہیں ۔“ مریم بولیں۔۔۔
”برُی بات ہے۔۔۔اپنے بھائی کو گدھا نہیں کہتے ۔ تم نے بھی تو منہ پھاڑ کر اعلان کردیا تھا کہ لندن تو دُور کی بات ہے میری تو پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں۔اپنے ابا کے ساتھ رہتی ہوں۔“ میاں بولے۔
” مجھے کیا پتہ تھا کہ میری باتیں ریکارڈ ہوجائیں گی اور بدمعاشوں کا ایک ٹولہ پاناما کا شوشہ چھوڑے گا۔۔۔چلیں میں تو ناسمجھ تھی۔ آپ نے کون سی سمجھ سے کام لیا تھا پارلیمنٹ میں یہ اعلان فرما کر کہ یہ ہیں وہ سارے وسائل جن کی بدولت یہ پراپرٹیز خریدی گئیں ۔ ان کے سارے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ “ مریم نے ترکی بترکی کہا۔
” نثار واقعی سچ کہتا ہے مریم کہ تم بولتی پہلے ہو اور سوچتی بعد میں ہو۔۔۔ میں تمہارا باپ ہوں اور باپ کے سامنے تمیز سے بات کرنی چاہئے۔۔۔“ میاں صاحب نے کہا۔۔۔
” سوری ابا جان۔۔۔ کہیں ناراض ہو کر مجھے وزیراعظم بنوانے کا ارادہ نہ تبدیل کرلیں۔۔۔ “ مریم نے کہا۔
” اگر تم پر جلد ازجلد وزیراعظم بننے کا خبط سوار نہ ہوتا تو شاید ہم آبیل مجھے مار کی پالیسی اختیار نہ کرتے۔۔۔“
” ابا جان ۔۔۔ بیل مست ہوگئے تھے۔ حسد میں آکر۔۔۔ انہیں ہماری ترقی اور آسودگی نے جلا کر کوئلہ کردیا۔۔۔“ مریم نے کہا۔ جواب میں میاں صاحب بولے۔۔۔
” اتنی زیادہ ترقی تو ہم نے کی بھی نہیں بیٹی۔ ٹرمپ اب بھی ہم سے زیادہ امیر ہے۔ اور امبانی اور مِتل بھی۔۔۔ کاش کہ ایک ٹرم ہمیں اور مل جاتا۔۔۔“
” ابا جان آپ تو بالکل ہی ہمت ہار بیٹھے ہیں ۔ کوئی نہ کوئی تو صورت نکل ہی آئے شاید۔۔۔ “ مریم نے کہا۔۔۔
” دعا کرو کہ جج بشیر کو ہار ٹ اٹیک ہوجائے۔ ثاقب نثار گہری نیند میں چلا جائے اور باجوہ کا ہیلی کاپٹر کریش ہوجائے۔۔۔یا پھر۔۔۔“
”میاں صاحب اپنی بات مکمل نہیں کرپائے تھے کہ فضا میں ایکدم تیز شور بلند ہوا اور ہمارا بیانک رابطہ ٹوٹ گیا۔۔۔“

Scroll To Top