ایک اور تاریخی فیصلے کا دن

zaheer-babar-logo
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایوان فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست دائر کرچکے۔ درخواست کے مطابق چونکہ وہ اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی علالت کے باعث کل عدالت پیش نہیں ہو سکتا لہذا عدالت سے استدعا ہے احتساب عدالت کا فیصلہ کچھ روز کیلئے موخر کیا جائے۔بظاہر سابق وزیر اعظم کی جانب سے عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی پالیسی بدستور جاری وساری ہے۔ قانونی اور سیاسی حلقے باخوبی جانتے ہیں کہ پانامہ لیکس میں بدعنوانی کے مقدمات میں میاں نوازشریف اپنے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں تادم تحریر ناکام رہے ہیں۔ تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنے والی شخصیت یہ بتانے کو تیار نہیں کہ لندن میں اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے میں وہ کیسے کامیاب ہوئے۔ یعنی پیسہ کہاں سے آیا یا کم عمری میں ان کے بچے ارب نہیں کھرب پتی کیسے ہوگے۔ اب تک میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پوری حکمت عملی کے ساتھ پانامہ لیکس میں سامنے آنے والے شوائد کے خلاف ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ کم وبیش 35 سالوں سے جو شخصیت قومی سیاست میں چھائی رہی آج وہ شدید اخلاقی بحران اورسیاسی بحران میں گھر چکی۔
ادھر قانونی حلقوںکے مطابق نیب عدالت کے جج محمد بشیر کو آج یعنی بروز جمعہ 6جولائی کو ایک نہیں دو فیصلے کرنے ہیں۔فاضل جج کو میاں نواز شریف کی اس درخواست پر فیصلہ پہلے کرنا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ شریف خاندان کی لندن میں جائیدادوں کے حوالے سے مقدمے کا فیصلہ اس وقت تک موخر کیا جائے جب تک لندن میں زیر علاج بیگم کلثوم نواز کی صحت سنبھل نہیں جاتی۔دوسرا فیصلہ جج محمد بشیر کو یہ کرنا ہے کہ انھیں اپنی اعلان کردہ تاریخ پر شریف خاندان کے بارے میں مقدمے کا فیصلہ کریں یا نہیں۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف لندن میں جائیدادوں کے حوالے سے مقدمے کی سماعت گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری ہے اگرچہ میاں نوازشریف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے مگر وہ کوئی اپنے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔میاں نوازشریف اور ان کا خاندان اگر مگر چونکہ چنانچہ سے کام لیتارہا مگر فاضل ججز کے بار بار اصرار کے باوجود بے گناہی ثابت نہ کرسکے۔
اب میاں نواز شریف نے عدالتی فیصلے کا اعلان ‘چند روز’ تک موخر کرنے کی اپیل تو کی ہے مگر میاں نواز شریف نے ‘چند روز’ کی تعریف نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسا اشارہ دیا ہے کہ وہ کب تک واپس پاکستان جانا چاہتے ہیں۔ ماہرین قانون کی اکثریت اس موقف کی حامی ہے کہ قانون کسی ملزم کو یہ حق نہیں دیتا کہ عدالت اس کی مرضی کی تاریخ پر فیصلہ سنائے۔ یعنی کرمنل پروسیجر کوڈ کی سیکشن 366 واضح طور پر کہتی ہے کہ عدالت فیصلے کی تاریخ کا اعلان کرے اور اس کا نوٹس ملزم کو دیا جانا لازمی ہے۔ (ڈیک) سی آر پی کی سیکشن (3) 366 واضح ہے کہ کسی عدالتی فیصلے کو اس بنیاد پر غیر موثر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کہ عدالتی فیصلے کے وقت ملزم عدالت میں موجود نہ تھا۔ یقینا قانون کسی شخص کی غیر موجودگی میں مقدمے کی کارروائی چلانے کی اجازت نہیں دیتا لیکن جب ملزم نے مقدمے کی کارروائی میں شرکت کی اور اس نے عدالتی کے سامنے حاضری دی ہے تو وہ عدالت کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی اعلان شدہ تاریخ پر فیصلہ نہ سنائے(ڈیک)۔قانون یہ بھی کہتا ہے کہ اگر کسی ملزم کی عدالت سے غیر حاضری پر اسے مجرم قرار دے دیا جائے تو پھر وہ اسی صورت میں ضمانت کے لیے درخواست دے سکتا ہے جب وہ پہلے خود کو قانون کے حوالے کرئےگا۔سابق صدر آصف علی زرداری کہہ رہے کہ میاں نوازشریف نے لندن میں سیاسی پناہ حاصل کرلی ہے لہذا اس کا امکان نہیں کہ وہ مسقبل قریب میں پاکستان آئیں گے۔“ پی پی پی کے شریک چیرمین کا دعوی اپنی جگہ مگر سابق وزیر اعظم کی سیاست کا فیصلہ ہونے میں شائد زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔
میاں نوازشریف پانامہ لیکس سامنے آنے کے بعد سے لے کر اب تک اپنے حواریوں کے زریعہ یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہیںکہ ان کے خلاف ۔۔۔۔۔
ادھر ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف کا 6 جولائی کا فیصلہ موخر کرنے کا مطالبہ جائز ہے، احتساب عدالت سے درخواست ہے کہ نواز شریف کا فیصلہ 25 جولائی تک موخر کرے، عدالت انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے درخواست پر ضرور غور کرے۔ انہوں نے کہا نیب کا 25 جولائی تک سیاسی لوگوں کیخلاف مقدمات موخر کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا بیگم کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر ہیں، ڈاکٹرز کے مطابق بیگم کلثوم کی حالت چند دنوں بعد خطرے سے باہر آ جائے گی، میری خواہش ہے کہ انھیں ہوش میں دیکھ لوں، اہلیہ کی بیماری کی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر احتساب عدالت سے درخواست ہے کہ وہ فیصلہ چند روز کے لئے محفوظ رکھے۔

نواز شریف نے کہا کہ معلوم ہے کہ جس مشن کیلئے میں نے جھنڈا اٹھایا وہ آسان نہیں ہے، میں پاکستانی قوم کا نمائندہ ہوں، میں انھیں کبھی مایوس نہیں کروں گا، اگر فیصلہ میرے حق میں آیا یا اگر خلاف آیا، دونوں صورتوں میں پاکستان واپس جاں گا، میں کوئی ڈکٹیٹر نہیں جو ڈر کر بھاگ جاں، انشا اللہ فتح عوام کا مقدر رہے گی۔

Scroll To Top