امریکہ پاکستان پر دباو برقرار رکھے ہوئے ہے

zaheer-babar-logo
سالوں سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑا تنازعہ افغانستان کی صورت حال ہے۔ بارک اوباما ہو یا صدر ٹرمپ دونوں ہی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ایسا مثالی تعاون نہیں کررہا جس کی بجا طور پر ضرورت ہے چنانچہ واشنگٹن کی جانب سے آئے روز الزام تراشی معمول بن چکی۔ ایسا نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر روابط کا فقدان ہے اس کے برعکس صورت حالات یہ کہ شائد انکل سام پاکستان پر مکمل طور پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔دوسری جانب پاکستان اور امریکا افغانستان میں قیام امن کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں جاری رکھنے پر رضامندی کا اظہار کررہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کی سینیئر عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے سپہ سالار سے ملاقات کی جس میں ایک بار پھر دوطرفہ تعاون مذید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب سے خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ مفاد کے حصول کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی عہدیدار اور آرمی چیف کی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین مختلف سطحوں پر تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ایلس ویلز نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستانی حکام کی مدد حاصل کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر ہیں جس میں انہوں نے وزیر خارجہ شمشاد اختر، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اختر سے ملاقات کی۔اہمیت یہ حامل بات یہ ہے کہ دورے کے دوران امریکی عہدیدار نے تاجر رہنماوں اور دیگر ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقات کی۔
اعلی امریکہ عہدیدار نے پاکستان آنے سے قبل افغانستان کا دورہ کیا جس میں وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے عمل کی حمایت کرتی نظر آئیں۔ ماضی کے دیگر اعلی امریکی عہدیداروں کی طرح ایس ویلز بھی افغانستان میں بیرونی مداخلت کی دہائی دے رہیں۔بظاہر واشنگٹن کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا زمہ دار افغانستان کے پڑوسی ملکوںبالخصوص پاکستان کو قرار دیتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایسی الزام تراشی اس کے باوجود جاری ہے کہ پاکستان نے کامیابی کے ضرب عضب اور ردالفساد کی شکل میں دو ایسے کامیاب آپریشن کیے جن کے نتائج دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ محض چند سال پاکستان میں ہر بڑے شہر میں دہشت گردی کے تواتر کے ساتھ واقعات دیکھنے کو ملتے تھے۔ اس دوران کالعدم تنظمیوں نے شائد ہی کسی شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کو نشانہ نہ بنایا ہو۔ ہزاروں شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار انسانیت سوز واقعات میں اپنی زندگیوںسے محروم کردئیے گے۔ آج بھی ہزاروں پاکستانی ایسے ہیں جو دہشت گرد کاروائیوں میں بچ تو گے مگر تمام عمر کے لیے کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہوئے۔
امریکہ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن باخوبی جانتا ہے کہ پاکستانی علاقوں میںاس کے مطلوب لوگ موجود نہیں۔ ماضی کے قبائلی علاقے دہشت گردوں کی نمایان آمجگاہ تھی مگر اب ایسا نہیں۔ حال ہی میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے دفاعی اداروں کے اصرار پر فاٹا کو کے پی کے حصہ بنا ڈالا۔ 25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد قوی امکان ہے کہ فاٹا میں بھی الیکشن کا انعقاد ہوجائے۔ کے پی کے میں آنے والی نئی حکومت پر اس بات کی پابندہوگی کہ وہ ماضی کے قبائلی علاقوں میں بہتری کے عمل میں تیزی لائے۔یاد رکھا جائے کہ بنیادی ضروریات زندگی کی شکل میں قبائلی عوام کی مشکلات تیزی سے حل کرنے میں ہی ملک وقوم کا بھلا ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ جائز امریکہ مطالبات تسلیم کرنے میںکوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ کم وبیش 22کروڈ کی آبادی کے روشن اور محفوظ مسقبل کے لیے چند سو لوگوں کی قربانی دینے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کرنی چاہے۔ امریکہ بہادر کو جان لینا چاہے کہ پاکستان میں عام انتخابات سر پر آن پہنچے۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی نمایاں سیاسی ومذہبی جماعت کالعدم تنظمیوں کے حق میں نہیں۔ بنیادی مسائل کا شکار پاکستان دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نفرت کرتے ہیں۔ پرنٹ،الیکڑانک اور سوشل میڈیا میں مقامی مسائل ہی کو اجاگر کیا جارہا۔امریکہ کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہے کہ ایسا ملک جس نے اپنے ہزاروں شہریوں کی قربانی دی آخر کیوں دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر آزدانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔
یقینا پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے ل حلقوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ امریکا کی نئی حکمت عملی کے پیش نظر دونوں ممالک کے تعلقات آخر کیوں تناو کا شکار ہیں یا پھر دونوں ملکوں کی جانب سے دیرینہ اتحاد کے باوجود تعلقات معمول پر نہیں لائے جاسکے۔حال ہی میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان سے افغان تنازع کا پر امن حل نکلنے کی امیدوں کو تقویت ملی تھی، تاہم اب طالبان کی جانب سے لڑائی کا دوبارہ آغاز کیے جانے اور افغان حکومت کے دہشت گردی کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے اعلان نے صورتحال بگاڈ دی ہے۔ دراصل تاحال یہ واضح نہیں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو طالبان اور افغان حکومت کو ایک بار پھر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہونے پر مجبور کرگے ۔ یقینا فریقین کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ بات چیت کی مسائل کا حل ہے چاہے وہ کس قدر پچیدہ ہی کیوں نہ نظر آئیں۔

Scroll To Top