آخری ملاقات میں جناب بھٹو اور جنرل ضیاءکی آنکھوں میں کیا لکھا ہوگا ؟ 05-07-2013

kal-ki-baat
5جولائی 1977ءکا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ 4جولائی 1977ءکی رات کو پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور ملک کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ اُن کا آفتابِ اقبال اس انداز میں غروب ہونے والا ہے جس انداز میں وہ غروب ہوگیا۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار ایک جمہوری عمل کی پیداوار تھا۔ لیکن یہ حقیقت بھی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ان کے مزاج میں خود پرستی اور آمریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ یہی آمرانہ خود پرستی بھٹو مرحوم کے ان تمام فیصلوں کا باعث بنی جن سے جنرل ضیاءالحق کے ذہن میں پرورش پانے والی طلبِ اقتدار کا راستہ ہموار ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ جس رات پاکستان میں ایک نئے مارشل لاءکے نفاذ کا فیصلہ ہوا اس رات جناب بھٹو اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد نئے عام انتخابات کرانے کا تہیہ کرچکے تھے۔
لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
میں یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پر قابض ہونے کا فیصلہ کسی فوری اور ہنگامی سوچ یا جذبے سے مغلوب ہوکر کیا ہوگا۔
مارشل لاءکبھی دور رس منصوبہ بندی کے بغیر نہیں لگا کرتے۔
جنرل ضیاءالحق کوئی فرشتہ نہیں تھے کہ اُن کے اندر اقتدار کی طلب نہیں تھی ۔ اقتدار کی طلب ہر ” بشر “ کے اندر موجود ہوا کرتی ہے۔ اس طلب کی تکمیل کا موقع صرف کسی کسی کو ملا کرتا ہے۔یہ درست ہے کہ جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف دونوں کو اقتدار پر قابض ہونے کے لئے لمبی منصوبہ بندی نہیں کرنی پڑی۔ جنرل ضیاءالحق آرمی چیف 1976ءمیں بنے تھے۔ اور1977ءمیں وہ پاکستان کے ” مختارِکل“ بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف بھی آرمی چیف 1998ءمیں بنے اور ایک ہی سال میں پاکستان کی تقدیر کلی طور پر ان کے ہاتھوں میں آگئی۔
صرف جنرل ایوب خان نے منصوبہ بندی میں بڑا طویل عرصہ گزارا۔ لیکن اس طویل عرصے کے دوران بھی انہیں اس بات کا مکمل یقین رہا کہ وہ جب چاہیں اقتدار پر قابض ہوسکتے ہیں۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ”5جولائی 1977ءکے مارشل لاءکے نفاذ سے پہلے جب جنرل ضیاءالحق اور جناب زیڈ اے بھٹو کی آخری ملاقات ہوئی ہوگی تو دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں کیا پڑھا ہوگا۔؟“
بھٹو کی آنکھیں یقینا کہہ رہی ہوں گی۔ ” مجھے تم پر اعتماد ہے جنرل !“
اورجنرل ضیاءالحق کی آنکھوں میں یقینا یہ لکھا ہوگا۔
” اعتماد صرف اپنی ذات پر کرنا چاہئے۔“

Scroll To Top