ہر عروج کے مقدر میں زوال لکھا ہوتا ہے نوازشریف کے لئے 6جولائی 2018ء سے فرار کا کوئی راستہ نہیں

aaj-ki-baat-new

ہر آغاز کا ایک انجام ہوتا ہے۔۔۔
میں نہیں جانتا کہ جس کہانی کا آغاز میاں نوازشریف نے ایوا ن ہائے اقتدار میں قدم رکھتے وقت کیا تھا اس کا انجام جمعہ 6جولائی 2018ءکو ہوجائے گا۔۔۔ یا پھر یہ کہانی کچھ اور آگے بڑھے گی ` مگر مجھے وہ بات ہر وقت یاد آتی رہتی ہے جو سکندر اعظم نے تقریباً ڈھائی ہزار برس قبل اور ڈیگال نے 1966ءمیں کہی تھی۔۔۔
سکندر اعظم نے جب اپنے دوست اور سپہ سالار سیلوکس سے کہا کہ میرا وقتِ اجل آگیا ہے تو سیلوکس نے جواب دیا تھا۔۔۔ ” آپ فاتح عالم ہیں سکندر۔۔۔ آپ کو موت نہیں آسکتی ۔۔۔“
اس پر سکندر اعظم نے کہا تھا ۔۔۔” میرے دوست یہاں میرے قدموں کے نیچے نجانے کتنے فاتح ِ عالم دفن ہیں۔۔۔ دنیا فتح ہونے کے لئے نہیں بنی۔۔۔ دنیا فاتحین کو دفن کرنے کے لئے بنی ہے۔۔۔“
اس بات پر سیلوکس روپڑا تھا۔۔۔
1966ءمیں جب لوگ جنرل ڈیگال کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تو جدید فرانس کے اس عظیم معمار نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
” جنابِ صدر۔۔۔ آپ فرانس کے لئے ناگزیر ہیں۔۔۔“
جنرل ڈیگال نے جواب میں کہا۔۔۔” نجانے کیسے کیسے کتنے ناگزیر لوگ میرے قدموں کے نیچے جو زمین ہے اس میں دفن ہیں۔۔۔“
سکندر اعظم اور جنرل ڈیگال بہت بہت بہت بڑے آدمی تھے۔۔۔ ان پر خیانت بددیانتی اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کے الزامات نہیں تھے۔۔۔ اِن کا ذکر اِس کہانی کے ساتھ کرنا مجھے بھی مضحکہ خیز لگ رہا ہے جو 6جولائی 2018ءبروز جمعہ ایک نئے موڑ میں داخل ہونے والی ہے۔۔۔
میاں نوازشریف کا عروج یقینا ایک حادثہ تھا مگر ان کا زوال ہر گز کوئی حادثہ نہیں۔۔۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے وہ گڑھے خود کھودے جن میں وہ گرتے رہے۔۔۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قدرت نے یکایک فیصلہ کرلیا کہ اس شخص کو اس سے زیادہ ڈھیل نہیں دی جاسکتی۔۔۔ قدرت نے ہی میاں نوازشریف کے نامزد کردہ صدر` ممنون حسین کے منہ میں یہ الفاظ ڈالے کہ پانامہ کے ذریعے بہت سارے لوگ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آگئے ہیں اور آتے چلے جائیں گے۔۔۔
میاںنوازشریف واجد ضیاءکو برا بھلا کہیں یا جے آئی ٹی کے دیگر ارکان کو۔۔۔ عدلیہ پر اپنا غصہ اتاریں یا خلائی مخلوق پر۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کی پکڑ میں آچکے ہیں۔۔۔ جس باری تعالیٰ نے اس کم عقل ` کم علم اور کم فہم آدمی کو اوجِ ثریا تک پہنچانے کے راستے پر ڈالا ۔۔۔ اسی قادر ِ مطلق نے اس کے مقدر میں یہ دن بھی لکھ دیا۔۔۔
جمعہ 6جولائی 2018ئ

Scroll To Top