پاکستان ہے توسب کچھ ہے ورنہ کچھ بھی نہیں میاں بھی نہیں خان بھی نہیں اور خلائی مخلوق بھی نہیں

aaj-ki-baat-new

سرگودھا میں آستانہ ءسیالوی کے دورے کے موقع پر عمران خان نے کہا ہے کہ 1970ءکے بعد انتخابات کے ذریعے عوام کو بڑی تبدیلی لانے کا یہ پہلا موقع مل رہا ہے اور 25جولائی 2018ءکا دن ہماری تاریخ کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ عمران خان نے یہ بات بڑے مثبت انداز میں ایک مثبت مقصد کو سامنے رکھ کر کہی ہے۔ مگر ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ ان کے بڑے سیاسی حریف میاں نوازشریف بھی بار بار 1970ءکے عام انتخابات کا ہی ذکر کررہے ہیں اور ہمیں بار بار یاد دلارہے ہیں کہ جو کچھ اُن انتخابات کے نتیجے میں ہوا اس سے سبق سیکھا جائے اور انہیں یعنی میاں نوازشریف کو شیخ مجیب الرحمان بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ میاں نوازشریف کو اتنا سیاسی شعور نہیں کہ انہیں معلوم ہو کہ 1970ءمیں ہوا کیا تھا۔ وہ 1970ءکا حوالہ اِس بات پر زور دینے کے لئے دیتے ہیں کہ جس طرح شیخ مجیب الرحمان مشرقی پاکستان کے مقبول لیڈر تھے اِسی طرح وہ یعنی میاں صاحب پنجاب کے مقبول لیڈر ہیں۔ جس طرح شیخ مجیب الرحمان بنگالیوں کی آواز تھے اسی طرح میاں صاحب پنجابیوں کی آواز ہیں۔ اگر یہ بات غلط ہے تو وہ لوگ جنہوں نے اس کم عقل اور کم فہم آدمی کو یہ بیانیہ تھمایا ہے وہ اس کی وضاحت کردیں۔ اس بیانیے میں میاں صاحب کو جوبات پسند آئی ہے وہ یہی ہے کہ وہ پنجاب اور پنجابیوں کی آواز ہیں اور جس طرح مشرقی پاکستان اور بنگالیوں کے منتخب لیڈر شیخ مجیب الرحمان کو ملک پر حکومت کرنے کا حق تھا اِسی طرح میاں صاحب کو پنجاب کی آواز ہونے کی بناءپر پورے پاکستان کو اپنی سلطنت سمجھنے کا حق حاصل ہے۔
اس بیانیے میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ جس طرح شیخ مجیب الرحمان حقیقت میںمشرقی پاکستان کی بہت بڑی اکثریت کے لیڈر تھے اس طرح میاں صاحب پنجاب کی ایک بہت بڑی اکثریت کے لیڈر نہیں ہیں۔آج تک ملک میں صاف اور شفاف انتخابات ہوئے ہی نہیںکہ معلوم ہوسکے کہ پنجاب میں میاں صاحب کی حقیقی مقبولیت کا گراف کیا ہے ۔ 2008ءکے انتخابات کے نتیجے میں میاں صاحب کی پارٹی کو پنجاب میں حکومت بنانے کا استحقاق زرداری صاحب کے ساتھ ایک مفاہمتی سمجھوتے کی بدولت ملا۔ 2013ءکے انتخابات کو روز اول سے ہی مخالف جماعتوں نے ” آراوز“ کا الیکشن قرار دے دیا جس کا مقصد مقتدر قوتوں کی منشا کے مطابق میاں صاحب کو لاہور اور اسلام آباد دونوں جگہوں میں برسراقتدار لانا تھا۔ اگر یہ الیکشن دھاندلی زدہ نہ ہوتا تو میاں صاحب اُن چار حلقوں کا آڈٹ کرانے پر فوراً تیار ہوجاتے جن کے گرد عمران خان نے دائرہ ڈالا تھا۔ دھاندلی کے الزامات کا مقابلہ تحقیقات پر آمادگی ظاہر کرنے کی بجائے میاں صاحب نے ایسے رویے سے کیا جو 2014ءکے تاریخی دھرنے کا باعث بنا۔
آج پنجاب میں جو سیاسی نقشہ ابھر رہا ہے اُس سے میاں صاحب کے اِن دعوﺅں اور خوش فہموں کی قلعی کھل جاتی ہے کہ وہ پنجاب کے شیخ مجیب الرحمان ہیں۔ شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ ان کی مشابہت صرف اِس بناءپر درست ہے کہ جس طرح شیخ مجیب اندرا گاندھی کے ساتھ خفیہ رابطے رکھتے تھے اسی طرح میاں صاحب نریندر مودی کے ساتھ خفیہ رابطے رکھتے ہیں۔ ایک اور مشابہت بھی دونوں میں پائی جاتی ہے۔ جس طرح شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ مشرقی پاکستان کی انتظامیہ پر اوپر سے نیچے تک کنٹرول رکھتی تھی ¾ اسی طرح پنجاب پر ایک تہائی صدی تک حکومت کے ایوانوں میں موجود ہونے کی بناءپر نوازشریف کی نون لیگ کا کنٹرول رہاہے۔ اِس ایک تہائی صدی کے صرف وہ آٹھ برس ایسے تھے جب نون لیگ براہ راست حکمران نہیں تھی جنہیں جنرل پرویز مشرف کا عہدِ حکومت کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ جنرل مشرف کے بہت سارے قریبی ساتھی میاں صاحب کی واپسی پر میاں صاحب کے قریبی ساتھی بن گئے۔؟
بات کا آغاز میں نے عمران خان کے بیان سے کیا تھا۔ یہاں میں ایک ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جو شاید بہت سارے لوگوں کو پسند نہ آئے۔ پاکستان کو توڑنے میں مرکزی کردار 1970ءکے انتخابات نے ادا کیا۔ مارچ1969ءمیں جب جنرل یحییٰ خان نے ” دورِ ایوب“ کا خاتمہ کیا تو 1963ءکے آئین کو اسی طرح معطل رکھنا چاہئے تھا جس طرح1977ءمیں 1973ءکے آئین کو معطل رکھا گیا۔ اگر 1963ءکا ایوبی آئین قائم رہتا اور 1970ءکے انتخابات اسی آئین کے تحت ہوتے تو پاکستان کو دولخت کرنے کی سازش اتنی آسانی کے ساتھ کامیاب نہ ہوتی۔
پاک فوج صرف اس حد تک سقوط مشرقی پاکستان کے المیے کی ذمہ دار ہے کہ اس کی قیادت نے 1970ءکے انتخابات کے ذریعے شیخ مجیب الرحمان کو مشرقی پاکستان کا بلاشرکت غیر لیڈر بننے کا موقع دیا۔ تاریخ بڑی ستم ظریف ہے اور ستم ظریف تاریخ یہ کہتی ہے کہ بعض اوقات اچھے نظر آنے والے مقاصد کے پیچھے بھی ” سفاک“ حقائق پنہاں ہوتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جس ” خلائی مخلوق“ پر نون لیگی لیڈر اور ان کے ملک دشمن ہم نوا تضحیک و تحقیر کے نشترچلارہے ہیں اس ” خلائی مخلوق“ کو ایک بنیادی نقطے پر ڈٹا رہنا چاہئے۔ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔ ۔۔ورنہ کچھ بھی نہیں۔۔۔

Scroll To Top