نوازشریف پہلے ہی دھاندلی کا شور کررہے

zaheer-babar-logo

بظاہر مسلم لیگ ن پورے اہتمام کے ساتھ اس حکمت عملی پر کاربند ہے کہ وہ عام انتخابات کو کسی نہ کسی شکل میں متازعہ قرار دے ڈالے ، یعنی یہ تاثر مضبوط ہوجائے کہ پی ایم ایل این کو بھرپور انتخابی مہم چلانے کا موقعہ ہی نہیںدیا گیا۔حیرت انگیز طور پر پی ایم ایم ایل این کے اس موقف کی کی تائید ملک کی نمایاں سیاسی جماعتیں تو دور خود ن لیگ کے بعض سنئیر رہنما کرنے کو تیار نہیں۔
مثلا حال ہی میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے اپنی جماعت سے تیس سالہ رفاقت ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو خبردار کیا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، 25 جولائی کو ہمارے مخالفین کی صندوقچیاں خالیں جائیں گی۔ سابق وزیر داخلہ کے بعقول 34 سال سے میں نے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں بلکہ میرا ان پر اور ان کے خاندان پر قرض ہے، اس جماعت کی ایک ایک اینٹ میں نے رکھی ہے، انہوں نے کہا کہ جب پارٹی بنا رہے تھے تو اس وقت 15،20 لوگ تھے ۔“ میاں نواز شریف اور کئی سابق مسلم لیگی رہنماوں کے درمیان صلح کرانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور اب وہ ایک دوسرے کی مخالف صف میں کھڑے ہو چکے ہیں جویقییا پی ایم ایل این کیلئے آئندہ انتخابات اور مستقبل میں مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ دوسری طرف دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں انتخابی تیاریوں کے حوالے سے سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ، ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوا تو امیدواروں کے کاغذات نامزدگیوں کی سکروٹنی بھی کی جاچکی مگر مسلم لیگ ن مسلسل گوں مگوں کی پوزیشن میں ہے۔ پی ایم ایل این کے مسائل کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو جماعت محض پانچ سال قبل چاروں صوبوں میںمقبول ترین تھی اور جس جماعت کی تمام صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی، سینٹ سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھرپور نمائندگی ہے۔ آج اس جماعت کے پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں پارٹی ٹکٹ واپس کیے جارہے ۔
دوسری جانب آئندہ انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کیا بنتی ہے تاحال اس حوالے سے یقین سے کہنا مشکل ہورہا مگر کہا جاسکتا ہے کہ اس بار انتخابی نتائج حیران کن ہوسکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کا مختلف انتخابی حلقوں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ۔ پی ایم ایل این کی مشکل یہ ہے کہ اس نے پانچ سالہ دور حکومت میں خاطرخواہ کارکردگی نہیںدکھائی۔ مسلم لیگ ن کے لیے مسلہ یہ بھی ہے کہ اس کے قائد میاں نوازشریف آئے روز قومی اداروں کو نشانہ بنا رہے۔ وہ دفاعی اداروں پر اعلانیہ الزام تراشی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا شخص یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ اس کی جاری پالیسی ملک وقوم کے لیے کتنے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ بعض باخبر حلقوں کے مطابق میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کا قومی اداروں پر حملہ آور ہونا خود مسلم لیگ ن کے اندر بھی پسند نہیں کیا جارہا۔ پارٹی کے سرمایہ دار سیاست دان یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ میاں نوازشریف ان کے لیے مسائل پیدا کریں ۔ بعض مسلم لیگی رہنما آف دی ریکارڈ یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ میاں نوازشریف اپنی دولت بچانے کے لیے پوری پارٹی کو داو پر لگا چکے۔ پی ایم ایل این کے بااثر لوگ سمجھتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم کی جارحانہ سیاست ان کا سیاسی مسقبل مخدوش کردے گی۔
اب ملک میں انتخابی مہم عروج پر پہنچ گئی۔ا دھر یہ اطلاعات مل رہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی نے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ یعنی اگلے ایک ہفتے میں دونوں باپ بیٹی نہ صرف پاکستان میں ہوں گے بلکہ مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔بتایا جارہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا وطن واپسی کا فیصلہ سینئر لیگی قیادت سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔اس ضمن میں میاں نواز شریف نے مختلف شہروں میں انتخابی مہم چلانے کیلئے انتظامات کی بھی ہدایت کر دی۔ اس قبل میاں نوازشریف یہی کہتے رہے کہ لندن میں ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی صحت ٹھیک نہیںلہذا وہ فی الحال وطن واپس نہیں جاسکتے ۔ادھر پارٹی زرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا جارہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جلد وطن واپسی کا فیصلہ پارٹی ورکرز کے دباو پر کیا ہے مذید یہ کہ مریم نواز کی پہلے وطن واپسی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف کی وطن واپسی میں بڑی رکاوٹ ان کے خلاف نیب عدالت میں جاری مقدمات ہیں۔ مقدمات اس وقت تک جہاں تک پہنچ چکے وہاں فیصلہ ہونے میںدیر نہیں رہ گی۔ ریکارڈ پر ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کے بچوں نے تاحال ایسے ثبوت فراہم نہیں کیے جو ان کے خلاف متوقع قانونی کاروائی میں رکاوٹ ڈال سکے۔ یہی وجہ ہے کہ میاں نوازشریف مبینہ طور پر بدعنوانی کی رقم چھپانے کے لیے تواتر کے ساتھ سازش کی دہائی دے رہے۔ میاں نوازشریف کے خلاف قائم مقدمات کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ سابق وزیر اعظم جیل کی سلاخوں کے پچھے ہوں۔ یاد رہے لندن میں میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا سینیٹ الیکشن والا کھیل عام انتخابات میں بھی کھیلا جا رہا چنانچہ انھیں عام انتخابات شفاف ہوتے نظر نہیں آرہے´ ۔

Scroll To Top