میرا اور وینا ملک بھی عامر لیاقت حسین جیسا مقام حاصل کرسکتی ہیں ! 12-07-2013

kal-ki-baat
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1990ءکی دہائی کے اوائل میں جب روزنامہ جنگ کی انتظامیہ نے ” دی نیوز “ کے نام سے اپنے انگریزی اخبار کا اجرا کیا تھا تو میں نے اپنے ہفت روزہ ” مڈایشیا“ میں ایک تبصرہ شائع کیا تھا جو بڑا مقبول ہوا۔
” دی نیوز ملک کی انگریزی صحافت میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی بدولت ملک کو ایک اور بڑا اخبار ملا ہے۔“
یہ ایک اور بڑا اخبار ” ڈان“ تھا۔ ڈان اور پاکستان کئی دہائیوں سے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں ¾لیکن ” دی نیوز “ کی آمد سے پہلے ” ڈان “ بڑی تیزی کے ساتھ جمود اور یکسانیت کا شکار ہورہا تھا۔دی نیوز کے اجرا کے بعد جو مسابقت شروع ہوئی اس نے ” ڈان “ کو زیادہ بہتر اخبار بنا دیا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج کے کالم کے لئے میں نے اس موضوع کا انتخاب کیوں کیا ہے تو اس کی وجہ وہ خصوصی” توجہ اور محنت“ ہے جو ” جنگ جیو “ گروپ ملک کے جانے پہچانے اداکار فیشن ماڈل اور شو مین جناب عامر لیاقت حسین کو ایک ” ممتاز عالم دین “ کے طور پر منوانے کے ” نیک کام “ پر صرف کررہا ہے۔
جناب عامر لیاقت حسین کے لئے یہ ” رول “ نیا نہیں۔ وہ ایک عرصہ سے ملک کے ممتاز علماء(بلکہ تاریخ کے چیندہ اکابرین)کی صف میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ” جنگ جیو “ گروپ کی بھرپور پشت پناہی اور اعانت کی وجہ سے موصوف کی متذکرہ کوششوں کوچار چاند لگ گئے ہیں۔
میڈیا کی طاقت کا اندازہ عامر لیاقت حسین کی مثال سے لگایاجاسکتا ہے۔ اگر مناسب سٹریٹجی سے کام لیا جائے تو ” میرا “ اور ” وینا ملک “ جیسی شخصیات بھی تاریخ کے صفحات پر مایہ ناز مسلم خواتین کی کہکشاں میں اپنا مقام بنا سکتی ہیں۔

Scroll To Top