سیاست میں عزت باوقار نظر آنے سے بڑھتی ہے یا جوان نظر آنے سے ؟

aaj-ki-baat-new

آج میں ایک بات نہیں کئی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ اور پہلی بات کرنے کا خیال مجھے محترمہ شیری رحمان کو ایک بیان دیتے ہوئے دیکھ کر آیا ہے۔ چھتیس برس پہلے کی بات ہے۔ تب میڈاس کو قائم ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ ڈان کے جناب حمید ہارون اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل تھے۔ وہ کراچی سے اپنی ٹیم کے ہمراہ لاہور تشریف لائے تو انہوں نے شادمان چوک کے قریب واقع میڈاس کے دفتر کا بھی دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ڈان پبلیکشنز کے ماہانہ جریدے ہیرلڈ کی ایڈیٹر بھی تھیں جو بتیس تینتیس برس کی ایک ذہین خاتون تھیں۔ ان کا نام شیری رحمان تھا۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ ہیرلڈ پبلیکشنز کے ڈائریکٹر فنانس کی اہلیہ بھی ہیں۔ چھبیس برس بعد ان کے ساتھ میری دوسری ملاقات تب ہوئی جب پی پی پی 2008ءکے انتخابات کے بعد اسلام آباد میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی تھی۔ یہ ملاقات زرداری ہاﺅس میں صحافیوں کو دی جانے والی ایک دعوت کے دوران ہوئی۔ میں نے محترمہ کو 1982ءوالی ملاقات کی یاد دلائی تو وہ گھبرا گئیں ظاہر ہے کہ وہ یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں کہ وہ ایک جوان العمر خاتون نہیں ہیں اور عمر رسیدگی کی پہلی منزل عبور کرچکی ہیں۔ اس بات کو بھی دس برس گزر چکے ہیں اب وہ پی پی پی کی بزرگ قیادت کا حصہ ہیں۔ میرے خیال میں 65برس کی عمر سے بزرگی کا باقاعدہ آغاز ہوجاتا ہے۔ ویسے میں نے اپنے بالوں کی سفیدی 50برس کی عمر کے فوراً بعد ظاہر کردی تھی اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس کے بعد ایک ہوائی سفر کے دوران میرا آمنا سامنا ایک پرانے شناسا سے ہوا تو اس نے جھجکتے ہوئے مجھ سے پوچھا ” کیا آپ غلام اکبر صاحب کے والد ہیں؟“میں نے یہ ساری تمہید صرف یہ بات کرنے کے لئے باندھی ہے کہ فلم اور ٹی وی کے سٹارز کو تو حق پہنچتا ہے کہ وہ ساٹھ سال کی عمر میں بھی تیس بتیس برس کے جوان نظر آنے کا اہتمام کریں۔ مگر سیاست میں بزرگی اور تجربے کو چھپانا مجھے عجیب لگتا ہے۔
راجہ ظفر الحق بہت اچھے آدمی ہیں مگر کسی نے آج تک ان کا ایک بال بھی سفید نہیں دیکھا ہوگا۔ نہایت گہرے کالے بالوں اور چہرے کی جھریوں کا امتزاج شخصیت کو پرُوقار ہر گز نہیں بناتا۔ شیخ رشید اور چوہدری نثار بھی تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ بالوں کی ٹوپی تاحیات کالی ہی پہنے رکھیں گے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔ حالانکہ اگر وہ اور شیری رحمان جو ان نظر آنے کی خواہش پر باوقار ” ادھیڑ عمری “ کو ترجیح دیں تو وہ زیادہ باوقار نظر آئیں گی۔ یہی بات میں جناب عمران خان کے بارے میں بھی کہنا چاہتا ہوں۔ اب چونکہ وہ اپنا گھر آباد کرچکے ہیں ` اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے رول ماڈل قائداعظم ؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی شخصیت کو زیادہ باوقار نظر آنے کا موقع دیں۔ یہاں مجھے اچانک اپنا 2001کا دورہءدمشق یاد آیا ہے۔ ایک صبح میں فجر کی نماز کے بعد موسم کا مزہ لینے کے لئے ہوٹل سے باہر آیا۔ مجھے ایک کافی شاپ کھلی نظر آئی تو وہاں ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔ شاپ کا انتظام ایک جوڑا کررہا تھا۔ ناشتے کے بعد میں سڑک عبور کررہا تھا کہ پیچھے سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کسی نے کہا۔” ویٹ پلیز سر۔۔۔“ میں نے پلٹ کر دیکھا تو کافی شاپ والا مرد تھا۔ پہلے میں سمجھا کہ میں شاید پیسے دینا بھول گیا ہوں لیکن جو بات اس نے کہی اس سے میں محظوظ ہوئے بغیر نہ رہا۔ ” میری بیوی آپ سے پوچھنا چاہتی ہے کہ اس قدر خوبصورت سفید بال آپ نے کہاں سے لئے۔“
میں نے جواب میں کہا۔ ” اُن سے کہہ دیں کہ یہ میرے اپنے بال ہیں۔ کہیں سے نہیں لئے۔ بہرحال آپ دونوں کا شکریہ۔“
اس موضوع پر قلم میں نے اس لئے اٹھایا ہے کہ آپ کی رائے معلوم کروں۔ ” سیاست میں باوقار نظر آنا زیادہ باوقار ہے یا جوان ۔؟“
میری آج کی دوسری بات کا تعلق چوہدری نثار علی خان اور میاں نوازشریف کے ایک دوسرے کے بیانات سے ہے۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ” میں نے 34برس کی دوستی بڑے خلوص اور بڑی وفاداری کے ساتھ نبھائی مگر اس کا جواب میاں نوازشریف نے ایک دشمن جیسا دیا۔ میں میاں صاحب کو یہ مشورہ دیتا رہا کہ وہ ریاستی اداروں سے نہ ٹکرائیں اور قانونی جنگ قانون کے مطابق لڑیں۔“
جواب میں میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ” مجھے چوہدری نثار علی خان کی باتوں سے بڑا دکھ پہنچا ہے مگر کوئی جواب نہیں دوں گا۔۔۔“
چوہدری صاحب کا یہ کہنا کہ میاں صاحب قانونی جنگ قانون کے مطابق لڑیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ نہ ٹکرائیں اصولی طور پر درست ہے۔ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ میاں صاحب کے پاس اپنی کرپشن کا کوئی قانونی دفاع نہیں۔ اور ریاستی اداروں سے وہ ٹکرائے ہی صرف اِس وجہ سے ہیں کہ ناک آﺅٹ ہوں تو کم ازکم یہ تو کہہ سکیں کہ میں ہارا نہیں ہرایا گیا ہوں۔
میاں صاحب کو دکھ اس بات کا ہے کہ 34برس تک تو چوہدری صاحب نے ان کے طور طریقوں کو قبول کئے رکھا لیکن جب ان پر یعنی میاں صاحب پر برا وقت آیا تو چوہدری صاحب کو اپنے اصول یاد آگئے۔۔۔

Scroll To Top