بلاول زرداری عوام کے غم و غصہ کا شکار

zaheer-babar-logo

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی گاڑی پر لیاری میں پتھراو پی پی پی کی کارکردگی پر عوام کے غم وغصہ کا اظہار کہا جارہا ہے۔ سندھ میں تواتر کے ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی نے دس سال حکومت کی مگر عوامی مسائل کس حد تک حل کیے گے یہ راز نہیں رہا۔ ظلم یہ ہے کہ آج لیاری اور کراچی کے بیشتر علاقوںمیں پانی تک دسیتاب نہیں۔ عوامی ہونے کی دعویدار پی پی پی عوام کے غم وغصہ کا شکار ہورہی ہے تو اس میں کسی طور پر حیرانگی نہیں ہونے چاہے۔ لیاری میں بلاول بھٹو کے خلاف نعرے بازی ہوئی اور پھر ان کے قافلے پر پتھراو بھی ہوا جس میں وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں مشکلات کا شکار ہے۔ متحرمہ بے نظیر بھٹو کی حادثاتی موت کے بعد دوہزار آٹھ میں پی پی کو اقتدار ملا تو وفاق کے علاوہ سندھ میں بھی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ پی پی پی کی سنجیدگی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پانچ سالوں میں وہ متحرمہ کے قاتلوں کو بھی انجام تک نہ پہنچا سکے۔ افسوسناک ہے کہ وفاق کی نمائندہ جماعت سیاسی طور پر زوال کا شکار ہے اگرچہ سینٹ انتخابات میں پی پی پی قیادت نے جوڈ توڈ کے زریعہ کچھ کامیابی ضرور حاصل کرلی مگر اب عام انتخابات میں اس کی واضح جیت کے امکانات مخدوش ہوتے جارہے۔ کراچی ہی نہیں سندھ کے اندرونی شہروں میں بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی کارکردگی مثالی نہیں۔ جے ڈی اے کی شکل میں بااثر سیاسی شخصیات پی پی پی کا مقابلہ کرنے کے لیے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
جاوید ہاشمی کے بعقول سیاست میں پی ایچ ڈی کی حامل سمجھے جانے والے سابق صدر آصف علی زرداری اس حقیقت کو نہیں سمجھ پارہے کہ پاکستانی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔ لیاری ہی نہیں خبیر تا کراچی عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ ایسا ممکن نہیں رہا کہ ووٹروں کی اکثریت کو محض وعدوں اور دعووں کی شکل میں مسلسل دھوکہ دیا جاتا رہے۔ حالیہ دنوں میں جس طرح انتخابی مہم پر نکلے بااثر سیاست دانوں سے حلقے کے عوام سوالات پوچھ رہے اسے انتہائی مثب پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ۔درحقیقت سر سالوں سے یہی ہوتا چلا آیا کہ حاکم اور محکوم کے درمیان فرق روا رکھا گیا۔ ہر انتخاب کے موقعہ پر ووٹ لے کر حلقہ کے عوام کو بھول جانے کی روایت راسخ ہوچکی۔
ملک کی نمایاں سیاسی جماعتیں بنیادی حکومتوں کا نظام رائج کرنے کے حق میں نہیں۔ جمہوریت کا تصور لوکل باڈیز سسٹم کے بغیر ادھورا ہے۔ جمہوریت کی خوبی یہی ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے نظام کے زریعہ لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیا کرتی ہے ، بدقسمتی کے ساتھ قومی سیاست کے نمایاں نام لوکل باڈیز سسٹم سے بیزار ہیں چنانچہ آج حالات یہ ہیںکہ تعلیم اور صحت کے ساتھ عوام کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔
دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات اس لحاظ سے حیران کن نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں کہ پہلی بار لوگوں نے اپنے نمائندوں سے سوالات کرنا شروع کردئیے ہیں ۔ یعنی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں جیتنے والوں سے لوگ پوچھ رہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں وہ ان کی مشکلات حل کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی دس دس سالوں سے اپنے اپنے صوبوں میں حکومتوں میں رہیں لہذا ان سے باز پرس کا رجحان زیادہ دیکھنے میں آرہا۔
بلاول بھٹو زرادی پر ہونے والے پتھراو پر ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ پیپلزپارٹی نے اپنے دونوں ادوار میں پانی دیا نہ بجلی نہ سڑکیں لہذا ایسا عوامی رد عمل تو آنا ہی تھا۔بعض مبصرین کے خیال میں کراچی میں سب سے محروم، سب سے گندہ علاقہ لیاری ہے پیپلزپارٹی اقتدارمیں تھی تب بھی ان کیلیے لیاری جانا آسان نہ تھا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیرمین پر عوام کے غم وغصہ سے یہ بھی ثابت ہورہا کہ اگر حکمراں عوام کی خدمت کریں گے تو لوگ آپ کو کھلے دل سے خوش آمدید کہیں گے وگرنہ پھر شدید رد عمل آئے گا۔
اہل سیاست کو سمجھ لینا چاہے کہ ان پر زیادہ زمہ داری اس لیے بھی ہے کہ وہ ووٹ کی پرچی سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ لوگ یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کا منتخب نمائندہ ہی ان کی مشکلات حل کریں گا۔ اس میں شک نہیںکہ اگر وطن عزیز میں مقامی حکومتوں کا نظام فعال ہوتا تو اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں کی زمہ داریوں میں بڑی حد تک کمی واقعہ ہوتی مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔
عام انتخابات کے انعقاد میں چار ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیامگر جس تیزی سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں اور امیدوراں کو عوامی غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ سلسلہ جلد نہیں تھمنے والا۔ کسی بھی سیاست دان کے لیے یہ تصور کرنا ہی دل ہلا دینے والا ہے کہ تیزی سے اپنا اثر بڑھانے والے میڈیا کے اس دور میں اس کی تضحیک کا کوئی بھی پہلو آشکار ہوجائے مگر سوال تو یہ ہے کہ آخر اہل سیاست درپیش حالات کا ادراک کرنے میں کیونکر ناکام ہوئے۔وطن عزیز میں جمہوری نظام اب اپنی جڑیں مضبوط کررہا۔ رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات کے بعد تیسری منتخب حکومت برسر اقتدار آئے گی ۔ نئی حکومت عوام کی توقعات پر کب اور کیسے پورا اترے گی یقینا اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

Scroll To Top