حقیقی ڈاکو کب بے نقاب ہوں گے ؟ 11-07-2013

kal-ki-baat

توقیر صادق بالآخر عدالت میں پیش کردیئے گئے۔ موصوف نے نیب پر الزام لگایا ہے کہ اس کے تفتیشی عملے نے ان پر تشدد کیا ہے اور ان سے زبردستی اقبالِ جرم کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ 80 ارب سے زیادہ قومی سرمائے کی جس ہیرا پھیری نے توقیر صادق کو اس قدر غیر معمولی ” شہرت “ عطا کی ہے اس میں اُن کے کہنے کے مطابق بہت بڑے لوگ ملوث ہیں۔ اُن کے اس بیان سے اس امر کی تصدیق تو ہو جاتی ہے کہ واقعی اتنے بڑے پیمانے پر قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔ اب صرف تمام ڈاکہ ڈالنے والوں کو بے نقاب کرنے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے۔ توقیر صادق نے اتنا بڑا ڈاکہ اکیلے نہیں ڈالا ہوگا۔ اُن کی حیثیت فرنٹ مین کی ہی ہوگی۔ یعنی قومی سرمائے پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے انہیں سامنے رکھا گیا اور استعمال کیا گیا۔
ٹی وی کیمروں نے توقیر صادق کو جس حالت میں عکس بند کرکے قوم کے سامنے پیش کیا ہے اسے قابلِ رحم کہا جاسکتا ہے لیکن ملک کے ساتھ حقیقی انصاف تب ہوگا جب ایک روز وہ لوگ بھی اسی حالت میں ٹی وی کیمروں کی مدد سے عوام کے سامنے پیش ہوں گے ’ جو لوٹی گئی دولت کے حقیقی ” فیض یافتگان“ ہیں۔ یہ لوگ ہمارے اردگرد ہی گھوم پھر رہے ہیں۔ اور اس بات کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ توقیر صادق کی زبان بند رکھنے کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کریں گے۔
اگر توقیر صادق کا معاملہ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ملک کو آئندہ کے لئے اس قسم کے ڈاکوﺅں کی وارداتوں اور چیرہ دستیوں سے محفوظ بنانے میں بڑی مدد ملے گی جس قسم کے ڈاکوﺅں نے پورے پانچ برس تک وطنِ عزیز کو اپنی شکار گاہ بنائے رکھا ۔

Scroll To Top