بھارت سے یہی توقع تھی

zaheer-babar-logo
بھارتی سیکورٹی فورسز کا معروف کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل کا ملبہ کالعدم جماعت الدعوتہ پر ڈالنا حیران کن نہیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ مقبوضہ وادی میں کوئی صحافی قتل ہوا اور کٹھ پتلی انتظامیہ نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان کو زمہ دار نہ قرار دیا ہو۔ شجاعت بخاری جس پایہ کے صحافی تھی ان سے یہ توقع رکھنا خلاف حقیقت تھا کہ وہ کشمیرمیں بھارت کے ہر ظلم وستم کے جواب میں خاموش رہے۔ شجاعت بخاری بین الاقوامی شہرت کے حامل لکھاری تھے، بھارت اور پاکستان میںہی نہیں دنیا بھر میں ان کے کہے ہوئے الفاظ اور لکھی ہوئی تحریر پر توجہ دی جاتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد مقبوضہ وادی میں پرتشدد کاروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ شجاعت بخاری یقینا اس صورت حال سے الگ نہیں رہ سکتے تھے چنانچہ انھوں نے دبے الفاظ میں ہی سہی بہرکیف اپنے تحفظات کا اظہار کیا کرتے تھے۔
مقبوضہ وادی میں بھارت کے ظلم وستم کے باعث جو حالات پیدا ہوچکے اس کے نتیجے میں غیر یقینی صورت حال نے جنم لیا ہے لہذا یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کون کب کہاں کس کے خلاف کوئی اقدام کر گزرے ۔مخصوص حوالوں سے یہ صورت حال بھارت کے حق میں ہے، کئی دہائیوں سے چانکیہ سیاست کے اصولوں پر عمل کرنے والے یہی چاہتے ہیں کہ عام کشمیری تحریک آزادی سے بیزار ہوجائے۔ وہ اس پر یقین کرنا شروع کردے جو کچھ بھی اس کے ساتھ ہورہا ہے اس کی وجہ حریت کی وہ تحریک ہے جو مسلسل جاری وساری ہے۔ گذشتہ سال حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں نئے جوش وخروش سے جدوجہد برپا ہوئی چنانچہ اب تک بھارت درجنوں کشمیری نوجوانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے شہید کرچکا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ہر شہید ہونے والے ہر حریت پسند کے جنازے میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں۔ شہید کے حق میں فلگ شگاف نعرے لگتے ہیں اور جدوجہد آزادی کو جاری وساری رکھنے کا عزم کیا جاتا ہے۔
بھارت کے سرکاری حلقوں سے میڈیا میں ایسی خبریں آئیں روز شائع ہورہی ہیں جن کے مطابق مودی سرکار مقبوضہ وادی میں اپنی حمایت عملا کھو چکی ہے۔ کشمیر کا بچہ بچہ بھارتی جبر واستحصال کے سامنے سرنگوں ہونے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی میں اپنی ناکامیوں کا زمہ دار پاکستان کو قرار دے رہا۔ ریکارڈ پر ہے کہ مقبوضہ وادی میں متحرک سب ہی حریت تنظمیوں نے شجاعت بخاری کے قتل کی مذمت کی ہے۔ ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ شجاعت بخاری کے سیاسی نظریات یا اختلاف رائے ان کے قتل سے کوئی تعلق نہیں۔
بہت بہتر ہوتا اگر بھارتی سیکورٹی فورسز کے لوگ شجاعت بخاری کے قتل کی اس طرح تحقیقات کرتے کہ کسی کو بھی اعتراض کرنے کا موقعہ نہ ملتا۔ شجاعت بخاری کے لواحقین یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیںکہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کی زندگی کو درپیش خطرات معلوم ہونے کے باوجود ان کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ شجاعت بخاری کا قتل اچانک نہیں ہوا۔ ان پر اس سے قبل بھی قاتلانہ حملہ ہوچکا جس میں وہ بال بال بچے۔ کشمیر کے حالات پر ایک اتھارٹی سمجھے جانے والے شخص کو اس کے دفتر کے سامنے قتل کردینا مقبوضہ وادی میں بدترین حالات کی نشاندہی کرگیا ۔بھارتی پولیس شجاعت بخاری کے قتل میں چار ملزمان کے ملوث ہونے کی دہائی دے رہی۔ ملزمان کی تصاویر جاری کرنے کے علاوہ بعض ملزمان کے پاکستان میں روپوش ہونے کا الزام بھی عائد کیا جارہا۔ بھارتی پولیس سربراہ کے بعقول کہ اس قتل کے پیچھے چار افراد ہیں اور اب یہ قانون کو مطلوب ہیں۔ پیچاس سالہ شجاعت بخاری 30 سال سے کشمیر میں صحافت کر رہے تھے۔ وہ 12 سال تک انڈیا کے انگریزی روزنامہ دی ہندو کے ساتھ وابستہ رہے جس کے بعد انھوں نے اپنا اخبار رائزنگ کشمیر کے نام سے سنہ 2008 میں شروع کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے معروف صحافی شجاعت بخاری نے دنیا کے کئی ممالک میں امن اور سکیورٹی کی کانفرنسوں میں حصہ لیا۔ دراصل مقبوضہ کشمیر میں 90 کی دہائی سے شروع ہونے والی تحریک کے دوران کئی صحافی اپنی زندگیوں سے محروم کردئیے گے مگر پولیس ان کے قتل کی ذمہ داری نوجوان کشمیری حریت پسندوں کو ڈالتی رہتی ہے۔
کشمیر کے حالات سے باخبر لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ شائد شجاعت بخاری کے قاتل کبھی اپنے انجام کو نہ پہنچیں۔ بھارتی پولیس نے پاکستان پر الزام عائد کرکے ہی بتا دیا کہ وہ قتل کے اصل محرکات سامنے لانے میں دلچیسپی نہیں رکھتی بلکہ وہ اس معاملے کو پاکستان کے خلاف استمال کرنے کا فیصلہ کرچکی۔
بھارت میں 2019 میں عام انتخابات ہونے جارہے ۔ بھارتیہ جتناپارٹی جس کی طاقت کا بڑی حد تک دارومدار پاکستان ، اسلام اور مسلمان دشمنی پر ہے کسی طور پر اہل کشمیر کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ نریندر مودی کشمیر میں طاقت کے زور پر کامیابی حاصل کرکے ملک کے اندر اور باہر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر میں کسی طور پر کوئی کمزوری نہیں دیکھا رہے۔ دوسری جانب مخصوص حوالوں سے کشمیری قوم کو نریندر مودی کا شکر گزار ہونا چاہے کہ اس کی ظلم وبربریت پر مبنی پالیسوں نے تنازعہ کو نئی قوت سے آشنا کردیا ۔ آثار یہی ہیںکہ کشمیر میں قتل عام کا سلسلہ مسقبل قریب میں نہیں روکنے والا چنانچہ پاکستان اور کشمیریوں دونوں کو تیار رہنا ہوگا۔

Scroll To Top