عوام تیار ہیں` حکمران بھی تیار ہوجائیں ! 09-07-2013

kal-ki-baat
وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ ءچین کو ہر لحاظ سے کامیاب اور خوش آئند قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ کاشغر سے گوادر کو ملانے والی شاہراہ علاقے کے عوام کے لئے ترقی اور خوشحالی کی ایک بڑی نوید ہوگی۔ اسی نوعیت کے دوسرے متعدد منصوبوں پر بھی مفاہمتی معاہدے طے پا گئے ہیں۔ اور اگر ان تمام منصوبوں پر کامیابی کے ساتھ عملدرآمد ہوجاتا ہے اور اُن کی تکمیل متعینہ مدت میں ہوجاتی ہے تو بلاشبہ ملک کو مستقبل میں شاہراہِ ترقی پر آگے بڑھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ یہاں یہ بات ضرور یاد رکھی جانی چاہئے کہ یہ تمام منصوبے قومی دولت پیدا کرنے اور اس میں اضافہ کرنے کے نہیں ` قومی دولت کے اضافے میں معاون ثابت ہونے کے لئے ہیں۔
اگر گھر کے لئے بہت بڑا ریفریجریٹر خرید لیا جائے تو اس کا فائدہ تبھی ہوگا اگر اسے بجلی ملے گی اور اس میں حفاظت کے لئے رکھنے والی اشیاءبھی موجود ہوں گی ۔
بڑے بڑے منصوبوں کی افادیت اپنی جگہ لیکن وزیراعظم صاحب نے جو یہ بات کہی ہے کہ ہمیں ترقی اور خوشحالی کی منزل پانے کے لئے بڑے کٹھن اور مشکل فیصلے کرنے ہوں گے وہ میرے نزدیک زیادہ اہم ہے۔
کٹھن اور مشکل فیصلے کرنے کے معاملے میں حکومت عوام کو کبھی پیچھے نہیں پائے گی۔ عوام پہلے سے ہی برُی حکمرانی اور کرپشن کی فراوانی کے نتیجے میں ایک کٹھن اور مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ بہتر مستقبل کی امید میں وہ اپنی زندگی کو کچھ عرصے کے لئے مزید کٹھن اور مشکل بنانے کے لئے تیار پائے جائیں گے۔ لیکن معاشرے سے لاقانونیت ختم کرنے اور لوٹ مار کا قلع قمع کرنے کی ذمہ داری بہرحال صرف اور صرف حکومت پر عائد ہوتی ہے۔اچھے وقتوں کی امید پر آج پریشانیوں کا کچھ اور بوجھ اٹھایا جاسکتا ہے مگر صرف اس صورت میں کہ حکمران طبقہ بھی اپنی بداعمالیوں اور شاہ خرچیوں کے خاتمے کے لئے نظر آنے والے اقدامات کرنے میں بخیلی سے کام نہ لے۔۔۔

Scroll To Top